ابنا: اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے جریدے البیان نے صنعا یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کے مظاہرے کی جانب اشارہ کرتےہوۓ لکھا ہےکہ مظاہرین نے ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی ، جمہوریت کی برقراری اور علی عبداللہ صالح کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق صنعا ، تعز اور جنوبی شہروں سمیت یمن کے مختلف شہروں میں لوگوں نے علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے ۔ مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئيں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران دسیوں افراد زخمی ہوگۓ ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ جب سیکورٹی اہلکار اور صنعا حکومت کی جانب سے مامور کۓ گۓ غنڈے دارالحکومت صنعا کے سبعین اسکوائر میں موجود ہیں تاکہ مظاہرین کو صدر ہاؤس میں جانے سے روکا جاسکے ۔دریں اثناء مشترکہ ملاقات نامی اتحاد کے ترجمان نے یمن میں عوامی مظاہروں میں شدت پیدا ہونے کی جانب اشارہ کرتےہوۓ کہا ہےکہ یمن کی حکومت اپنے زوال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ محمد صالح قباطی نے کہا ہےکہ یمن میں عوامی اعتراضات کا سلسلہ تیونس اور مصر سے بھی پہلے شروع ہوچکا تھا ۔ اور ان دونوں ملکوں کے واقعات کے بعد ان اعتراضات میں شدت پیدا ہوئي ہے۔ انہوں نے یمن کی موجودہ فضا کے پیش نظر کہا ہےکہ یمن پر حکمفرما سیاسی نظام آخری سانسیں لے رہا ہے۔ خطے کے عرب ملک ایک عبوری مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اور روایتی طور پر ان میں سے ہر ملک کا انتظام ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہے ۔یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک عرب ممالک کے خود غرض حکام کو بھی ہوچکا ہے۔ اس لۓ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے اچانک فیصلہ کیا ہے کہ وہ صدر ہاؤس میں لوگوں سے بالمشافہ ملاقاتیں کریں گے تاکہ ان کے مطالبات کا نزدیک سے جائزہ لے سکیں۔ یمنی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں آیا ہےکہ صدر علی عبداللہ صالح مختلف سیاسی جماعتوں کے موقف اور نظریات سے آگاہ ہونے کے لۓ صدر ہاؤس میں ان سے ملاقاتیں کریں گے۔ بیان میں اس بات پر تاکید کی گئي ہےکہ لوگوں کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کا مقصد عوام اور حکومت کے درمیان مضبوط تعلقات قائم کرنا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ جب یمن میں حالات بہت کشیدہ ہیں اور عوام علی عبداللہ صالح کی تیس سالہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
.......
/110