اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حسنی مبارک کی تیس سالہ جرم و ظلم کی حکمرانی کے خلاف مصری عوام کی اسلامی تحریک آج اتوار ـ 6 فروری 2011 ـ کو ایسے حال میں اپنے تیرھویں دن میں داخل ہوئی ہے کہ مصری عوام نے اس ہفتے کو ہفتہ استقامت اور آج کے دن کو یوم شہداء کا نام دیا ہے اور منگل اور جمعہ کے ملین مارچ کے لئے تیاری کررہے ہیں۔
خبریں تہران اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق
صبح 7:00 بجے: ـ البرادعی ؛ اس بار زیادہ مضبوط
«محمد البرادعی» نے گذشتہ شب امریکی ایلچی کی مداخلت پر مبنی اظہار خیال پر اپنا رد عمل دکھاتے ہوئے کہا: کوئی بھی طاقت عوام اور مصری عوام کے عزم کے خلاف نہیں ڈٹ سکتی۔ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارا موقف شفاف ہے اور وہ یہ کہ مبارک کو جانا چاہئے۔
امریکی ایلچی نے کہا تھا کہ مبارک کو اقتدار میں باقی رہنا چاہئے۔
البرادعی نے مصری حزب اقتدار میں علامتی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "مصری انقلاب کو بائی پاس کرکے اسے ناکام بنانے کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور لوگ جس راستے پر گامزن ہوئے ہیں اس سے واپسی کا کوئی تصور نہیں ہے"۔ انھوں نے کہا کہ "مصری عوام کے حالیہ قتل عام کا مجرم حسنی مبارک ہے اور عوام پر اس قتل عام کا الزام غلط ہے"۔
البرادعی نے آمر حسنی مبارک کے آمر نائب "عمر سلیمان" کے بارے میں کہا: نوجوانوں کا کہنا ہے کہ عمر عمر سلیمان بھی حسنی مبارک کے راستے پر گامزن ہے اور اس کو بھی جانا چاہئے۔ مبارک کی برطرفی، جھوٹی پارلیمان کی تحلیل، ایمرجنسی کا خاتمہ اور آئین میں تبدیلی مصری عوام کے بنیادی مطالبات میں سے ہیں"۔
یادرہے کہ امریکی اب محمد البرادعی کو مصری عوام میں مقبول بنانے کے لئے صہیونی اور امریکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ مل کر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ "ایران نواز" کہہ رہے ہیں تاکہ لوگ نوبل انعام کو بھول جائیں اور البرادعی کو ایران نواز سمجھ کر قبول کرلیں اور اب گویا ایجنڈے کے مطابق البرادعی بھی امریکہ کےخلاف بولنے لگے ہیں تاکہ امریکی صہیونی سازش کامیابی سے آگی بڑھ سکے۔
صبح 8:00 بجے ـ اخوان المسلمین کے موقف میں تضادات:
اخوان المسلمین نے اس سے قبل کہا تھا کہ مذاکرات کا عمل مبارک کے جانے کے بعد ہی شروع ہوسکتا ہے لیکن اس جماعت کی طرف سے شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جماعت نے عمر سلیمان کے ساتھ مذاکرات شروع کررکھے ہیں۔
اخوان المسلمین نے دعوی کیا ہے کہ اس جماعت نے ملک و ملت کے وسیعتر مفادات اور ملکی استقلال و خودمختاری کے تحفظ اور ہر قسم کی بین الاقوامی اور علاقائی مداخلت کا سد باب کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنایا ہے اور اخوان المسلمین ان مذاکرات میں عوامی مطالبات کو مدنظر رکھنے کی پابند ہے!۔
دریں اثناء اخوان المسلمین کے ایک راہنما "عصام العریان" نے کل رات رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی الخامنہ ای کے موقف کی تأئید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اخوان المسلمین مصر میں ایک ایسے جمہوری نظام کے قیام کے لئے کوشاں ہے جس کا مرکز و محور اسلام ہوگا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے خطبۂ جمعہ کے ضمن میں فرمایا تھا کہ مصری عوامی انقلاب کا اہم ترین محرک اسلام ہے۔
العریان نے مزید کہا تھا: ہمارا آج کا مطالبہ حسنی مبارک کی آمریت کے خاتمے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد ایک سول اور جمہوری حکومت کا قیام ہے جس کا مرجع اسلام ہوگا۔ ہم ایسی حکومت کے خواہاں ہیں جس میں پارلیمان اور عدلیہ خودمختار ہوں اور خودمختار عدلیہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری سنبھالے۔
انھوں نے مصری اقتدار میں مبارک کی بقاء کو ملک میں امن و امان کی نابودی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصری عوام بہرصورت مبارک کی برطرفی کے خواہاں ہیں۔
العریان نے یہ بھی کہا کہ "مصری عوام نے مبارک کے چلے جانے سے پہلے حکومت کے ساتھ ہرقسم کے مذاکرات کی تجویز مسترد کردی ہے۔
تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ العریان کے بقول عوام کی جانب سے مذاکرات مسترد ہونے کے باوجود اخوان المسلمین نے عمر سلیمان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ کیوں شروع کررکھا ہے اور اس تضاد کا کیا جواز ہے۔
8:15 بجے ـ عمر سلیمان کے بارے میں نیویارک ٹائمز کے انکشافات
امریکی روزنامی "نیویارک ٹائمز" نے فاش کیا ہے کہ آمر حسنی مبارک کے نائب «عمر سلیمان» نے اپنے آقا کو ملک سے علاج معالجے کے بہانے جرمنی روانہ کرنے کا منصوبہ تیار کررکھا ہے جس کے بعد وہ [اپنے آقا سے غداری کرکے] مصر میں حکومت تشکیل دیں گے اور خود مصر کا صدارتی عہدہ سنبھالیں گے۔
عمر سلیمان کے منصوبے کے تحت "حسنی مبارک لمبے عرصے تک جرمنی میں قیام کریں گے تا کہ ملک میں امن و امان بحال ہوجائے اور بحران کا خاتمہ ہو"۔
جرمنی کے ذرائع نے بھی خبر دی ہے کہ جرمن حکومت حسنی مبارک کا خیر مقدم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
صبح 8:27 بجے ـ فوج عوام کا ساتھ دے
مصری انقلاب کی مطالبات کمیٹی کے رکن «ابوالعز الحریری» نے مص