بسم اللہ الرحمن الرحیمعرب دنیا خصوصاً مصرمیں لوگوں کےقیام کی اصلی وجہ

نذر حافی

nazarhaffi@yahoo.com  

یوں تو تہران یونیورسٹی اپنی بین الاقوامی شہرت کے باعث کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن اس کے باوجود اگر کسی کو تہران یونیورسٹی کے بارے میں معلوم نہ ہو تو ہم مختصراً یہ عرض کئے دیتے ہیں کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے کہ جہاں اگر استعمار کے بھٹکائے ہوئے چند لوگ اکٹھے ہوکر نعرہ بازی کردیں تو پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ شروع ہو جاتا ہے کہ بس اب ایران سے اسلامی انقلاب رخصت ہونے کو ہے اور اب ایران کی ملاّ حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں لآج مورخہ۴فروری ۲۰۱۱ کو اسی تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای نے خطاب کیا اور نماز جمعہ پڑھائی۔ انہوں نے نماز جمعہ کے دونوں خطبات میں عالم اسلام کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال خاص کر تونس اور مصرکے حالات پر روشنی ڈالی۔ہم اس وقت ان کے خطبات  کے ترجمے کے بجائے صرف چند نکات کو خلاصہ کر نے کے بعد کچھ نتائج اخذ کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔یادرہے کہ ان کےآج کے خطبات کا حیرت انگیزاوراستعمار کا دل دہلا دینے والا پہلو یہ تھاکہ انہوں نے اپنے دوسرے خطبے کا ایک بڑاحصہ عربی زبان میں بیان کیا جس میں مشرق وسطی،عرب ریاستوں اور مصر کی اہمیّت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عرب دنیا میں استعمار کے مظالم ،ہتھکنڈوں اور سازشوں سے پردہ اٹھایا۔ان کے خطبات کا ہر لفظ امریکہ و اسرائیل کے لئے زہرمہلک اور آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔انہوں نے اپنے عرب مسلمان بھائیوں خصوصا مصریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ  عرب دنیا کی اس انقلابی جدوجہد کا اصلی سبب اقتصادی بدحالی نہیں ،جان بوجھ کر اقتصادی بدحالی کو اصلی سبب کہا جارہا ہے تاکہ لوگ اصلی سبب سے آگاہ نہ ہوں، اس  جدوجہد کا اصلی سبب لوگوں کی دین سے محبت ہے اور وہ ذلت ہے جو حسنی مبارک نے اس عظیم ملت کو بخشی ہے،حسنی مبارک نے امریکہ اور اسرائیل کی غلامی کا طوق مصر کی غیرت مند ملّت کے گلے میں ڈال کراس ملّت کو ذلیل کردیا تھا،یہ ملّت اس ذلّت سے نجات کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے،مصرکی اقتصادی بد حالی کو بھی انہوں نے امریکہ کی غلامی کانتیجہ قراردیا۔ انہوں نے ملّت اسلامی کو اس طرف بھی متوجہ کیا کہ یورپی تھنک ٹینکس اپنے استعماری مفادات کے حصول کے لئے مندرجہ ذیل نو اہداف پر گزشتہ کئی سالوں سے سرگرم عمل ہیں۔۱۔اسلامی ریاستوں کو ضعیف اور کمزاور رکھنا چاہتے ہیں۔۲۔وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی ریاستیں آپس میں متحد نہ ہوں اور ایک دوسرے سے دشمنی کریں۔۳۔وہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطی کی اسلامی ریاستیں مکمل طور پر یورپ کی مطیع ہوں۔۴۔اقتصادی لحاظ سے ان ریاستوں کو کمزور رکھنے کے لئے ان کی پالیسے ہے کہ یہ ریاستیں پٹرول بیچ کر جو پیسہ کمائیں اسے دوبارپ برآمدات پر خر کریں۔۵۔علمی طور پر مسلمان پسماندہ رہیں۔۶۔تہذیب و ثقافت میں مغرب کی اندھی تقلید کریں۔۷۔عسکری لحاظ سے کمزور رہیں۔۸۔اخلاقی لحاظ سے فاسد ہوں۔۹۔برائے نام مسلمان ہوں۔انہوں نے مندرجہ بالانکات کی شفاف توضیح بھی دی اور کئی دیگرنہایت اہمیّت کے حامل نکات سمیت ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے ثمرات بھی بیان کئے۔ان خطبات کے دوران وقفے وقفے سے تہران یونیورسٹی مردہ بادانگلستان،مردہ باد امریکہ اور مردہ اسرائیل کے نعروں سے گونجتی رہی ۔آج کے  دن تہران یونیورسٹی میں گونجنے والی اس آواز نے وہائٹ ہاوس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ میڈیا جوتہران یونیورسٹی میں  استعمار کے بھٹکائے ہوئے چند لوگوں کی نعرہ بازہ کو بھرپور کوریج دیتاہے،فرزندان توحید کے روز جمعہ کے اس اجتماع کو کس قدرکوریج دے گا۔بہرحال میڈیا کوریج دے یا نہ دے یہ بات طے شدہ ہے کہ تہران یونیورسٹی میں آج کے خطبات نے پوری عرب دنیا میں بیداری کی لہر کی حقیقی وجہ خصوصاً مصر کے قیام کی اصلی وجہ دنیا کے سامنے کھول کر بیان کرکےمصر میں اٹھی ہوئی اس انقلابی تحریک کو ایک مرتبہ پھر زندہ کردیاہے اور مصر میں انقلاب کی زندگی اسرائیل کی یقینی موت ہے۔ ........../110