ابنا: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے خطبوں میں تہران کے مؤمن اور انقلابی عوام کے ایک عظیم اور شاندار اجتماع سے خطاب میں اس سال عشرہ فجر اور 22 بہمن کو جوش و جذبہ کے لحاظ سے مختلف اور متفاوت قراردیا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ملک میں عمیق، اساسی اور بنیادی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کی استقامت و پائداری کی برکت سے حالیہ 32 برسوں میں ان تبدیلیوں کا سلسلہ مسلسل و پیہم جاری رہا ہے اور اب ایرانی عوام کئی برسوں کی مجاہدت اور کوشش کےبعد اپنی مظلومانہ لیکن قدرتمندانہ آوازکی گونج شمال افریقہ بالخصوص تیونس اور مصرکے عوام کی اسلامی بیداری میں مشاہدہ کررہے ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران یونیورسٹی اور اس کے اطراف کی سڑکوں پر نماز جمعہ میں شریک مؤمنوں کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا اورنماز جمعہ کے پہلے خطبے میں انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے کے شرائط اور دنیا کے سیاسی حالات پرانقلاب اسلامی کی کامیابی کے اثرات کا تجزيہ اور تحلیل کرتے ہوئے فرمایا: دنیا کی منہ زور اور مستکبر طاقتوں نے مشرق وسطی کے حساس ، اہم اور اسٹراٹیجک علاقہ میں اپنےوسیع مفادات کی حفاظت کے لئےایک اہم اور دقیق نقشہ اور منصوبہ بنا رکھا تھا اور کئی برسوں تک وہ اس منصوبہ پر عمل کرنے میں کامیاب بھی رہے ، لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تمام حالات اور شرائط تبدیل ہوگئے۔رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل مشرق و سطی کے لئے سامراجی اور منہ زور طاقتوں کے نقشہ اور منصوبہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: مغربی سامراجی اور منہ زور طاقتوں نے مشرق وسطی کے ممالک کے لئے جو منصوبے بنا رکھے تھے وہ ان خصوصیات پر مشتمل تھےکہ ایکدوسرے کے دشمن اور کمزورممالک وجود میں لائيں، ان ممالک پرمغرب کے مطیع اور فرمانبردار حکام حکمرانی کریں ،اقتصادی اعتبار سے مصرف کرنے والے ممالک کی سطح پر رہیں ، علمی لحاظ سے پسماندہ رہیں، ثقافتی میدان میں مغربی ممالک کے پیروکاررہیں، فوجی لحاظ سے کمزور ضعیف رہیں، اخلاقی لحاظ سے فاسق و فاجراور مذہبی لحاظ سے معمولی سطح پر باقی رہیں ، یہ ایسی خصوصیات تھیں جو مشرق وسطی کے ممالک کے لئے مغربی سامراجی اور منہ زور طاقتوں نے تیار کررکھی تھیں ۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) جیسے عظيم فقیہ، حکیم، مجاہد،شجاع ، نڈر، نافذ الکلام شخص کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کو مشرق وسطی کے حساس اور اسٹراٹیجک علاقہ میں سامراجی طاقتوں کے نقشہ کی ناکامی اور اس کے درہم و برہم ہونےکا اصلی عامل قراردیتے ہوئے فرمایا: اس عظیم انسان کی تربیت اور اس کا حضور و ظہور یقینی طور پر الہی کام تھا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی عوام کی طرف سے آمادگي اور حضرت امام خمینی (رہ) کی وسیع حمایت کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کی راہیں ہموار کرنے میں مؤثر قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کے تداوم اور کامیابی میں امام (رہ) اور ایرانی قوم پہاڑ کی مانند استوار رہے دشمن محاذ نے اسلامی انقلاب کو شکست دینے کی ہر ممکن کوشش و جد و جہد کی لیکن دشمنوں کو شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی شکست کے لئے، سڑکوں پر بلوے و بحران ، قومی عداوتیں اور نفرتیں ، کودتا، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، اقتصادی پابندیاں اور گذشتہ 32 برسوں میں مسلسل نفسیاتی جنگ کو دشمنوں کے منصوبے اور اقدامات قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نےاپنے ان تمام اقدامات میں تین اہداف کا پیچھا کیا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی اور اسلامی نظام کو حالیہ 32 برسوں میں دشمنوں کی طرف سے ناکام بنانے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن نے فیصلہ کررکھا تھا کہ اگر انقلاب اسلامی کے مقابلے میں اسےشکست و ناکامی ہوتی ہے تو اس صورت میں ، انقلاب کا استحالہ کیا جائے یعنی اسلام کی ظاہری شکل و صورت باقی رہے لیکن اس کی روح اور اس کے باطن کو ختم کردیاجائے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 1388 ہجری شمسی کے فتنہ کو دشمن کا آخری حربہ اورنمائشنامہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: اس منصوبہ کا نقشہ بنانے والے اور اس کی ہدایت کرنے والے ملک کی سرحدوں سے باہر بیٹھے ہوئے تھے اور بیٹھے ہوئے ہیں بعض لوگ ملک کے اندر جاہ و مقام اور حب دنیا کے لئے ان کی سازشوں کا شکار ہوگئے اور دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ان کا تعاون کرنے لگے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کے تیسرے ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن نے یہ عزم کرکھا تھا کہ اگر ان کی تمام کوششوں کے باوجود اسلامی نظام باقی رہا تو ایسے ضعیف اور کمزور افراد کو تیار کریں جو اس میں نفوذ پیدا کرسکیں جو ملک کے مسائل میں اصلی حریف بن جائیں اور ایسا نظام لائیں جو ضعیف اور کمزور ہو اور امریکہ کے خلاف کوئی قیام نہ کرے۔رہبر معظم انقلاب سلامی نے ایران کی بیدار قوم، ملک میں اچھے اور ممتاز ماہرین اور لائق حکام کی موجودگی کو دشمنوں کی اپنے اہداف میں ناکامی کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی نے اپنی حقیقت و ماہیت کے پیش نظرملک کے اندر اساسی اور بنیادی تبدیلیاں لائی ہیں اور امام (رہ) و قوم نے محکم و مضبوط بنیادوں پرانقلاب اسلامی کو استوار کیا ہے اور یہ عظیم حرکت جاری و ساری رہےگی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران میں رونما ہونے والی اساسی اور بنیادی تبدیلیوں کی تشریح اور پہلوی حکومت میں اسلام کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب نے پہلوی حکومت کی اس پالیسی کو 180 درجہ تبدیل کیا اور ملک و معاشرے کی ہدایت اور مدیریت کا محور اسلام کو قراردیا۔ پہلوی حکومت کی امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ شدید وابستگي میں تبدیلی اور دنیا میں ایران کے سیاسی استقلال کا مکمل حصول دوسرا محور تھا جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد حاصل ہوا اور جس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تشریح کی ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: قوموں کے لئےیہ استقلال اور سیاسی عزت بہت زيادہ محبوب ، پسندیدہ اور جذاب ہے اور دیگر اقوام کا انقلاب کے بارے احترام اسی اہم مسئلہ کی بنا پرہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پہلوی حکومت کے سلطنتی ہونے اوراس میں عوام کے کسی نقش کے نہ ہونےکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب کے بعد حکومت کی بنیاد دینی عوامی حکومت پر رکھی گئی جبکہ پہلوی حکومت ، وراثتی حکومت تھی لیکن انقلاب نے حکومت کی بنیاد عوامی آراء پر رکھی جس کے بعد حکومت میں عوام کا نقش نمایاں اور فیصلہ کن ہوگيا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی سے پہلے ڈکٹیٹر سکیورٹی حکمرانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی نے تنقید، اصلاح، یادآوری، مخالفت اور حتی اعتراض کی فضا کا راستہ ہموار کیا، اور یہ سلسلہ گذشتہ 32 برسوں میں جاری رہا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علمی پیشرفت اور قومی خود اعتمادی کو انقلاب اسلامی کے دیگر نتائج قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی سے پہلے ملک علم وٹیکنالوجی کےلحاظ سےمکمل طور پر مغرب سے وابستہ تھا لیکن اب ملک میں علمی و ٹیکنالوجی ترقی کے ساتھ مختلف علمی شعبوں میں ممتاز ماہرین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو دنیا میں بے مثال اورکم نظیر ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالمی اور علاقائی سطح پر ایران کے مؤثر نقش کو انقلاب اسلامی کے دیگر نتائج میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: علاقائی اور عالمی مسائل پر ایرانی قوم کے اثر انداز ہونے اور اس کی عزت و عظمت کو دیکھ کر دشمن مبہوت ہو گئے ہیں اور وہ ہمیشہ ایران کے اثر و رسوخ کی بات کرتے رہتے ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافتی مسائل میں تقلید محض سے نکلنے اور دشمنوں کی جانب سے ثقافتی یلغار کے منصوبہ کے بارے میں جامع نقشہ پیش کرنے کو انقلاب اسلامی کے دیگر نتائج شمار کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران ان عمدہ خصوصیات اور اصولوں کی بنا پر دنیا میں ایک نئے تمدن کی داغ بیل ڈال سکتی ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی آئین کی توانائی اور اہمیت اور اس کے سیاسی ، اقتصادی، ثقافتی اور فوجی شعبوں میں دنیا کی دیگر قوموں کے لئے نمونہ عمل قرارپانے کی طرف ایک مغربی اہلکار کے اعتراف کو اسلامی نظام کی عظمت قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے دشمنوں کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنےکےباوجود یہ واقعہ رونما ہوگیا ہے اور ایرانی قوم مختلف شعبوں میں دنیا کی دیگر قوموں کے لئے ایک عملی نمونہ بن گئی ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دیگر قوموں کے لئے ایرانی قوم کے نمونہ عمل بننے میں مغربی ممالک کی بعض غلطیوں اور اشتباہات کو مؤثر قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن کی طرف سے ایران کے ایٹمی معاملے پر دباؤ اور اس کے مقابلہ میں ایرانی عوام اور حکام کی استقامت اور پائداری اس بات کا باعث بن گئی اور پوری دنیا کی سمجھ میں آگیا کہ ایران نے ایٹمی معاملے میں قابل توجہ پیشرفت حاصل کرلی ہے اور کسی قسم کا کوئی دباؤ ایرانی قوم کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمایا: مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر پیٹرول کی پابندی اس بات کا باعث بن گئی کہ ایرانی حکام یٹرول کے میدان میں خود کفیل ہونے کی تلاش و کوشش میں مصروف ہوگئے اور ایسا ہی ہوا آج ایران پیٹرول کے میدان میں خود کفیل ہوگیا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں فرمایا: حکام کی رپورٹ کے مطابق اس سال 22 بہمن تک ایران مکمل طور پر پیٹرول کے میدان میں خود کفیل ہوجائے گا اور حتی پیٹرول برآمد کرنے پر بھی قادر ہوجائے گا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک کی طرف سے ایران کے پڑوس میں انتہا پسند اسلامی گروہوں کی تشکیل کو مغربی ممالک کے دیگر اشتباہات میں شمار کرتےہوئے فرمایا: مغربی ممالک کے ان اقدامات سے ایران نہ صرف کمزور نہیں ہوا بلکہ ایران مزید مضبوط بن گیا ہے۔
.........
/110
تفصیل:
- نماز جمعہ میں ملکی اور علاقائی حالات پر بصیرت افروز خطاب
- تهران کی نماز جمعه بامامت امام امت سید الخامنہ ای - 1