اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمد مہدی عاکف نے ایک گرل اسکول میں اپنا ووت ڈالتے ہوئے کہا: الیکشن کیمپین کے دوران بھی حکومت نے اپنی سیکورٹی فورسز کا بے تحاشا استعمال کیا اور انتخابات شروع ہوتے ہی ان کی طرف سے سیاسی جماعتوں کی سرکوبی کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات سے دنیا کی سطح پر مصر کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور ظاہر ہوا ہے کہ حکمران عوام کی مرضی کو ہی کچلنے کے درپے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہمارے کئی نامزد امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی ہے جبکہ ان کے پاس عدلیہ کی طرف سے اجازت نامے بھی موجود تھے اور ان کی اہلیت کی بھی تصدیق ہوئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں اصلاحات جاری رکھنے اور حکومت کی طرف سے مخالفین کے خلاف غیرجمہوری اقدامات کو برملا کرنے کے لئے انتخابات میں حصہ لینا واجب ہے۔
ادھر الجزیرہ ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصری عوام انتخابات کو بے رخی دکھا رہے ہیں اور انہیں ان انتخابات کے نتیجے میں کسی مثبت تبدیلی کی امید نہیں ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق مصر میں مجلس الشعب کے انتخابات کے لئے ووٹنگ آج صبح سے شروع ہوئی لیکن ان پولنگ اسٹیشنوں پر عوام کی تعداد بہت کم ہے اور مصری حکام نے انتخابات میں اخوان المسلمون کی کامیابی کے راستے روکنے کے لئے اس جماعت کے تمام دفاتر اور مراکز سیل کردیئے ہیں۔
الجزیرہ ٹی وی چینل نے بھی رپورٹ دی ہے کہ عوام بہت کم تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر حاضر ہورہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سینا کے شمالی شہر "العریش" میں واقع "الشوریجی" پولنگ اسٹیشن کو حکومت نے مکمل طور پر بند کردیا ہے۔
دریں اثناء مصر میں انسانی حقوق کے مراکز نے اعلان کیا ہے کہ بہت سے پولنگ اسٹیشنوں پر اخوان المسلمون کے ووٹروں کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ تمام صوبوں اور شہروں میں جاری ہے۔
دوسری جانب سے مصری حکمرانوں کے حامی حلقوں کی رپورٹوں کے مطابق مصر میں پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ انتخابی نتائج اقتدار پر حکمران جماعت کی گرفت مزید مضبوط کریں گے اور حکمراں جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی ایوان میں بھاری اکثریت حاصل کرلے گی۔
مصری حکومت کے رویئے کو مد نظر رکھ کر ان حلقوں کے اندازے صحیح نظر آرہے ہیں لیکن جب مخالفین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہی نہ ہو تو دھاندلی بھی بعید از قیاس نہیں ہے اور حکمران جماعت ـ جو فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں پر مشتمل ہے ـ نے گویا عزم جزم کررکھا ہے کہ اپنے طویل المدت غیرعوامی اقتدار کا بہرقیمت تحفظ کرے۔
انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات میں چار افراد ہلاک اور تیس زخمی بھی ہوگئے تھے۔
مصر کے صدر حسنی مبارک1981 سے برسر اقتدار ہیں اور ان کے بیٹے جمال مبارک حکمران جماعت کے پالیسی سربراہ کے عہدے پر فائز ہیں۔ مصر میں صدارتی انتخاب اگلے سال ہونا ہے لیکن حسنی مبارک نے ابھی تک صدارتی امیدوار بننے کا اعلان نہیں کیا اور اگر انھوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لیا تو ان کے بیٹے جمال مبارک مصر کے آئندہ صدارتی انتخابات میں شرکت کریں گے اور حکمران جماعت کی کوشش ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں مخالفین کی کامیابی کے امکانات معدوم کرکے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر مبارک یا ان کے بیٹے کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔
یادرہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھی اخوان المسلمون کی سرکوبی اور حسنی مبارک باد دھڑے کی کامیابی کے حامی ہیں۔
........
/110