23 نومبر 2010 - 20:30

برطانیہ کے جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ریچرڈز سمیت بعض امریکی اور برطانوی فوجی عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ مغرب میں افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کی قوت نہیں ہے۔

افغانستان پر امریکی حملے کے نو سال بعد امریکی وزارت جنگ پینٹاگان نے اعتراف کیا ہے کہ اس کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں ناکامی ہوئي ہے۔

امریکی وزارت جنگ پینٹاگان نے امریکی کانگریس کے لئے بھیجی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان پر کئے گئے حملے کے بعد نو سال کے دوران تشدد کا دائرہ پورے افغانستان میں پھیل گیا ہے اور تشدد کے واقعات میں 2007 سے اب تک 300 فی صد اور 2009 سے اب تک 70 فی صد اضافہ ہوا ہے البتہ اس رپورٹ میں پینٹاگان نے افغانستان کی گزشتہ چند ماہ کی سیکورٹی کی صورت حال کو مثبت قرار دینے کی کوشش کی ہے۔افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے پینٹاگان کے اعتراف نے امریکی حکومت کے اعلی عہدیداروں کے لئے جنگ سے متعلق فیصلے کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں حکومت امریکہ جنگ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کا ایک بار پھر جائزہ لینے والی ہے۔اس وقت امریکہ کے تقریباً ایک لاکھ فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی کل تعداد ڈیرھ لاکھ ہے۔اکتوبر سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے آغاز سے اب تک امریکہ نے جنگ افغانستان پر 300 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کئے ہیں اور افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 1000 تک پہنچ چکی ہے۔افغانستان میں جنگ جاری رکھنے پر بارک اوباما حکومت کا اصرار خود امریکہ کے اندر عوامی اعتراض اور احتجاج کا سبب بنا ہے۔امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے ذریعہ کرائے گئے سروے کے مطابق 50 فی صد امریکیوں نے جنگ جاری رکھنے کی مخالفت کی ہے۔سروے میں شامل 62 فیصد ڈیموکریٹس نے جنگ افغانستان کی م‍خالفت کی ہے اور 54 فیصد ری پبلکنز نے کہا ہے کہ امریکی فوجی افغانستان میں باقی رہیں۔امریکی ذرائع ابلاغ نے اس جنگ کو جنگِ اوباما کا نام دیا ہے۔گزشتہ ہفتے امریکہ کی خارجہ تعلقات کی کونسل کے ایک تحقیقاتی گروپ نے حکومت امریکہ سے کہا تھا کہ جنگ افغانستان کی پالیسی پر نظر ثانی کے عمل میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی اور پھر انخلا کو مدنظر رکھے۔برطانیہ کے جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ریچرڈز سمیت بعض امریکی اور برطانوی فوجی عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ مغرب میں افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کی قوت نہیں ہے۔امریکہ نے دہشت گردی سے مقابلے کے ایک عشرے کے نعرے اور افغانستان کے دسیوں ہزار عام شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کرنے کے باوجود اب طالبان کے ساتھ بات چیت کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔

.........

/110