20 نومبر 2010 - 20:30

ملک میں طالبان لشکر جھنگوی اور القاعدہ کی مثلث موجود ہے جو ایک دوسرے کی مدد سے کارروائیاں کرتے ہیں۔

کراچی ایر پورٹ پر اپنی آمد کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہاجو بھی بم دھماکے میں پکڑا گیا وہ پاکستانی ہی نکلا۔
انھوں نے کہا کہ سی آئی ڈی دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد ٹیسٹنگ کے لئے بھیج دیا گیا ہے، رپورٹ آنے تک کسی دوسرے ملک پر الزام لگانا درست نہیں تاہم لشکر جھنگوی کے اس میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
انھوں نے کہ کرپشن کو روکنے اور مڈل کلاس کو بااختیار بنانے سے متعلق پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا ایک موقف ہے۔ کرپشن کے خلاف ایف آئی اے کی مہم کے حوالے سے رحمان ملک نے کہا سرکاری دفاتر میں جانے والوں کے کپڑے تک اتارلئے جاتے ہیں ، اور وہ اس صورتحال کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ انہیں کچھ وقت دیا جائے جس کے بعد وہ میڈیا کی ٹیموں کو سرکاری دفاتر بھیجیں گے تاکہ میڈیا خود فرق محسوس کرے۔

.........

/110

ایک پیغام:

سلام

رحمان ملک جس مثلث کے ملک میں موجود ہونے کے بارے میں کہہ رہا ہے اس مثلث مثلث کے اضلاع [طالبان ، لشکر جھنگوی] پارا‏چنار میں 4سالوں سے شیعہ طوری قبائل کے خلاف مسلسل لڑ رہے ہیں اور انھوں نے پاراچنار کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ ہم رحمان ملک سے یہ پوجھتے ہی کہ جو لوگ پورے پاکستان میں دہشت گرد ہیں وہ کرم ایجنسی میں کیوں اسٹیٹ پالیسی کے تحت آرام سے اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں؟ اگر یہ اسٹیٹ پالیسی نہیں تو پھر ان کےخلاف 4سالوں سے کوئی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ان سب مظالم کے باوجود ہم پاراچنار والے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم نے کبھی اس ملک ک مٹی سے غداری نہیں کی اور ہم نے ہمیشہ اس پاک دھرتی سے محبت کرکے اس کی حفاظت و سالمیت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
[[جاوید حسین طوری]]