مذہب شیعہ کے بانی رسول اللہ (ص) ہیں جنہوں نے دعوت ذوالعشیرہ میں علی علیہ السلام کی جانشینی کا اعلان کیا اور بنو ہاشم کو امر کیا کہ «میرے بعد علی کی پیروی کرو».
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی کسی کو ناحق ثابت کرکے اپنی حقانیت کا ثبوت پیش نہیں کرسکتا. بالفاظ دیگر اگر آپ اپنی حقانیت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی خصوصیات و عقائد بیان کرنا ہونگے اور اپنی حقانیت کی دلیلیں دینی ہونگی کیوں کہ اگر آپ کسی اور باطل ثابت کریں گے بھی تو اس سے اس کا بطلان تو شاید ثابت ہوجائے مگر آپ کی حقانیت ثابت نہیں ہوگی. اگر زید برا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خالد اچھا ہے کیونکہ اچھائی کے اپنے معیارات اور پیمانے ہیں اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اہل حق کو پہنچاننے سے پہلے حق کو پہچاننا ضروری ہے اور جب آپ حق کو پہچان لیں گے اہل حق کی پہچان بڑی سادہ ہوجائے گی.
بہرحال بعض لوگ بعض لوگوں کو بڑا اور عظیم ثابت کرنے کے لئے بعض بڑے اور عظیم لوگوں پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں مگر ان کے کیچڑ اچھالنے سے ان عظیم لوگوں کی حقیقت جاننے کی تشنگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح تحقیق کا بہتر بہانہ ملتا ہے اور وہ لوگ جو ان بڑے لوگوں کو نہیں پہچانتے، بھی انہیں پہچان لیتے ہیں جبکہ کیچڑ اچھالنے والوں کو اپنے مقصد میں نہ صرف کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ با انصاف لوگ ان کے بارے میں بھی تحقیق کرلیتے ہیں اور تعصب سے پاک محققین ان کی حقیقت سے بھی آگہی حاصل کرلیتے ہیں اور ان کی یہ آگہی ان لوگوں کی حقانیت کے اثبات پر منتج نہیں ہوتی.
بعض لوگ اسلام کے اصلی ترین اور بنیادی ترین مذہب پر کیچڑ اچھال کر اپنے راستے کو حق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ مذہب شیعہ علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد کچھ افسانوی شخصیات کے توسط سے معرض وجود میں آیا ہے اور ہم کسی پر کیچڑ اچھالے بغیر اپنے مذہب کی بات کرتے ہیں اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہمارے مذہب سے آگہی حاصل کرنے کے لئے اس کا تعارف ہماری زبان سے ہی سنا جائے کیونکہ اگر مخالفین ہمارا تعارف کرائیں تو اس میں غیرجانبداری ملحوظ نہیں ہوگی اور مخالفین تو اپنے اثبات کے لئے ہمارے مذہب پر یلغار کرنے کے عادی ہیں.
یہاں ہمارا ہدف یہ ثابت کرنا ہے کہ مذہب شیعہ کی بنیاد دوسری صدی ہجری یا تیسری صدی ہجری میں نہیں بلکہ ابتدائے اسلام میں رکھی گئی ہے اور ہمارا مذہب دنیا کا واحد زندہ مذہب ہے جس کا بلاواسطہ تعلق منبع وحی سے ہے اور بلاواسطہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اخذ ہؤا ہے.
مذہب شیعہ باب مدینة العلم امام علی (ع) کے زمانے سے
سوال: کیا مذہب شیعہ علی علیہ السلام کے زمانے سے تھا ؟
جواب: شیعہ لغت میں پیروکار اور مددگار کو کہا جاتا ہے مگر اصطلاح میں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو امام علی علیہ السلام کی امامت اور خلافت بلافصل کا عقیدہ رکھتے ہیں. شیعیان علی (ع) کا عقیدہ ہے کہ رسول خدا (ص) کے بعد سیاسی، دینی اور علمی مرجعیت کے عہدیدار امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور آپ (ع) کے گیارہ معصوم فرزند ہیں اور یہ کہ علی علیہ السلام اور آپ (ع) کے معصوم فرزندوں کی امامت جلیّ اور خفیّ دلیلوں اور نصوص سے ثابت ہے اور بالآخر یہ کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت صرف اور صرف علی اور فرزندان علی علیہم الصلواة و السلام کا حق ہے. (1) جب یہ آیات نازل ہوئین:
«إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ * جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ» (2)
«بتحقیق وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح بجالائے خدا کی بہترین مخلوقات ہیں * ان کی جزا ان کے پروردگار کے نزدیک بہشت جاویدان کے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے وہیں رہیں گے اور خدا ان سے راضی و خوشنود ہے اور وہ بھی خدا سے راضی اور خوشنود ہیں اور یہ اونچا مقام اس شخص کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرے ». تو رسول اللہ (ص) نے علی علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا:«انت و شيعتک یوم القیامة راضین مرضیین»؛(3) یا علی! آپ اور آپ کے شیعہ روز قیامت خدا سے راضی ہونگے اور خدا بھی آپ سے اور آپ کے شیعوں سے راضی ہوگا ». نیز علی (ع) کو اشارہ کرکے فرمایا: «ان هذا و شیعته لهم الفائزون یوم القیامة»