اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورت کی مطابق یہ دھماکہ کل منگل کے روز القاعدہ کے شدت پسندوں نے کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یورونیوز نے آج اس خبر کو کوریج دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائپ لائن میں دھماکے کی وجہ سے بحیرہ عرب میں تیل کے اڈوں پر تیل پہنچانی کا سلسلہ منقطع ہوا ہے۔ القاعدہ نے اس سے قبل بھی یمن میں سرگرم عمل تیل اور گیس کی کمپنیوں کو دھمکیاں دی ہیں۔ دوسری طرف سی یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل یمنی نژاد امریکی باشندے "انوارالعولکی" پر بھی امریکہ اور یورپ میں دہشت گردی کے حوالے سے تازہ دعوؤں کے بعد ہی مقدمہ چلایا جانے لگا ہے کیونکہ یمنی حکومت شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے اور کل اس شخص پر مقدمی کی کاروائی شروع ہوتے ہی تیل پائپ لائن میں دھماکہ ہوا ہے۔ العولکی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ سنہ 2009 سے یمن میں آکر روپوش ہوگیا ہے۔ العولکی پر غائبانہ مقدمہ چلایا جارہا ہے اور امریکی و برطانیہ نی بھی یمنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ کے خلاف زیادہ سخت اقدامات عمل میں لائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110