اسلامی جمہوریۂ ایران میں برطانیہ کے سفیر کی زبوں حالی دیکھ کر مجھے اپنا ملک یاد آگیا۔ تہران میں متعین برطانوی سفیر گزشتہ سات ماہ سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایران کی اعلٰی شخصیات میں سے کسی کے ساتھ ملاقات کریں صدر اور اسپیکر تو بڑی دور کی بات ہے انہوں نے معمولی سطح کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی خواہش کا جو اظہار کیا اسے کسی نے تسلیم نہیں کیا۔برطانوی سفیر نے تنگ آ کر تہران کے امام جمعہ سید احمد خاتمی سے ملنے کے لئے پروگرام بنایا تو کئی دنوں کی سر توڑ کوششوں کے بعد جواب نفی کی صورت میں ملا،برطانوی سفارتخانے کے ذرائع کے مطابق سفیر محترم،ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں بہتری لانے کے لئے بھرپور طریقے سے سرگرم ہیں،لیکن انہیں کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ملکی قائدین کے ساتھ ساتھ عوام بھی انہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ ایک اسلامی ملک میں ایک یورپی سفیر وہ بھی برطانیہ جیسے ملک کے سفیر کو کوئی ایرانی لیڈر گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہیں جبکہ ہمارے ملک میں ان یورپی ملکوں اور امریکہ کا یوں تسلط ہے کہ وہ صرف اشارہ کرتے ہیں اور ہمارے لیڈر دم ہلاتے ہوئے انکی خدمت میں پہنچ جاتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ آج کی بات نہیں،ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے،پاکستان کے ایک فوجی صدر اور فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹر میں لکھا ہے کہ امریکی اہلکار صدر پاکستان سے پیشگی وقت لیکر ملاقات کو اپنی توہین سمجھتے تھے اور وہ جب چاہتے ایوان صدر میں آ کر مجھ سے ملاقات کرتے۔صدر ایوب سے لیکر صدر زرداری تک ایک طویل داستان ہے،جس کے تذکرے پاکستانی قوم کے لئے شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں۔کمانڈو صدر پرویز مشرف نے اگر ایک ٹیلی فون پر لبیک کہتے ہوئے امریکی حکام کے سامنے سر بسجود ہو گئے تو موجودہ صدر صاحب بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ میں نے برطانوی سفیر کے ساتھ ایران میں ہونے والے سلوک کی ایک معمولی سے جھلک آپ کے سامنے بیان کی،امریکہ کی صورتحال تو اس سے بھی بدتر ہے،امریکیوں کو تو ایرانی جوانوں نے انقلاب کی کامیابی کے چند ماہ بعد ہی دیس نکالا دے دیا تھا اور امریکی سفارتخانے کو جاسوسی کا اڈہ قرار دیکر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔آج ایران اگر داخلی حوالے سے مضبوط ہے تو اسکی ایک بڑی وجہ امریکی سفارتخانے کی عدم موجودگی ہے،ورنہ ایران میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہوتا،جو اسلام آباد کے ایوانوں اور سیاستدانوں کی محفلوں میں امریکی سفارت کار انجام دے رہے ہیں۔زیادہ دور کی بات نہیں ہے حال ہی میں پاکستان کے ایک بزرگ سیاستدان اور چند دنوں کے وزير اعظم چودھری شجاعت حسین کے گھر میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے جو بات کہی ہے اس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سفارتکار اور حکام پاکستان کے اندرونی حالات میں کس قدر مداخلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے پاکستان کے ایک داخلی مسئلے این آر او کے بارے میں انکشافات سے بھرپور بیان دیکر ہر پاکستانی کو حیران کر دیا،انہوں نے سیاستدانوں کی ایک بھری محفل میں یہ کہہ دیا کہ این آر او کی تشکیل میں چودھری شجاعت حسین کا کوئی کردار نہیں تھا،اگر بات صرف یہاں تک ہوتی تو اسے یہ کہہ کر کر ٹالا جا سکتا تھا کہ چونکہ امریکی سفیر چودھری شجاعت کی مہمان تھیں،لہذا رواداری میں آ کر انہوں نے چودھری صاحب کی حمایت کی ہے،لیکن بیان کا اگلا حصّہ نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پاکستان کی فوج اور سیکوریٹی اداروں کے لئے ایک زہریلے تیر سے کم نہ تھا،مجھے نہیں معلوم اس بیان کو سن کر پاکستان کے سیکوریٹی اداروں کے بڑوں پر کیا بیتی ہو گی،اگر ان میں غیرت کی رتی بھی ہوئی تو یقینا" اور کچھ نہیں تو کئی دنوں تک چین کی نیند نہیں سوئے ہونگے۔ امریکی سفیر نے چودھری شجاعت کو این آر او کی تشکیل کے جرم سے مکمل طور پر برّی قرار دینے کے بعد پاکستان کے اعلی حاضر سروس سکیورٹی آخر ایک اعلی بیوروکریٹ اور پاکستان کے ایک وفاقی وزير کا نام لیا۔این ڈبلیو پیٹرسن نے بغیر کسی خوف اور جھجک کے کہا این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس میں اصل کردار لیفٹینٹ جنرل ندیم تاج،طارق عزيز اور رحمان ملک کا تھا۔کسی ملک کی سفیر جب پاکستان کے اندرونی معاملات پر اس قدر کھل کر بیانات صادر کرے تو اس ملک کی سالمیت قومی اقتدار،آزادی و خودمختاری اور استقلال سب کچھ خیال اور تصور محسوس ہونے لگتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی سفیر کا یہ بیان صرف ایک سیاسی بیان نہ تھا بلکہ حقائق کا علم رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکی این آر او کے مسئلے میں پوری طرح ملوث تھے اور آج جس این آر او کو ننگ اور شرم آور سمجھا جا رہا ہے،امریکی اشاروں پر تشکیل اور نافذ کیا گيا،ثبوت کے طور پر پاکستان کے ایک موقر ادارے روزنامہ جنگ کے ایک کالم نگار کے مضمون وقت ضرورت کا حوالہ دیا جا سکتا ہے،جس میں اس نے پورے اعتماد کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ این آر او کا معاملہ دو ہزار چار میں جنرل مشرف کے قریبی ساتھی اور بیوروکریسی کے ایک سنیئر افسر طارق عزيز نے اس وقت کے امریکی سفیر ریان سی کروکر اور برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ کے تعاون اور مشورے سے شروع کیا تھا،بعد میں اس وقت کی امریکی وزير خارجہ کنڈولیزارائس نے اس مسئلے کو اپنے انجام تک پہنچایا تھا۔ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے جس اعتماد کے ساتھ ایک فوجی افسر اور ایک بیوروکریٹ کو این آر او کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا،اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ سب ان کی حمایت اور ان کی ناک کے عین نیچے انجام پایا ہے،البتہ امریکی سفیر نے اپنے اس بیان سے یہ بھی پیغام دیا ہے کہ جس این آر او کو تم اتنا غلیظ،عوام مخالف اور بدعنوانی کی کھلی حمایت قرار دے رہے تو تمہاری اپنی فوج اور تمہاری پیاری نوکر شاہی کا کیا دہرا ہے۔ پاکستان میں آنے والے ہر امریکی سفیر کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں،کوئي حکومت بدلنے میں پیش پیش رہا،کوئی منتخب وزیراعظم کو پھانسی لگوانےمیں کھلے عام سرگرم رہا اور کوئی طالبان اور مجاہدین کو اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھاتا رہا۔امریکہ کی حال ہی میں پاکستان سے جانے والی ایک خاتوں سفیر نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ امریکی تاریخ کے ساتھ ساتھ پاکستانی تاریخ میں بھی یاد رکھے جائیں گے ۔ موصوفہ مئی دو ہزار سات میں سفیر بن کر پاکستان تعیینات ہوئیں اور جولائي دو ہزار سات میں لال مسجد میں آپریشن کیا گيا،گویا اس آپریشن سے ان کا استقبال کیا گيا،اس کے بعد تین نومبر دو ہزار سات میں جنرل مشرف نے منی مارشل نافذ کر دیا۔مارشل لا کے بہانے پاکستان کے سابق وزيراعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو نے جنرل مشرف کی دوبارہ مخالفت شروع کر دی،یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اسی امریکی سفیر یعنی این ڈبلیو پیٹرسن نے بے نظیر بھٹو سے تفصیلی ملاقات کی اور ان کو فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا،بے نظير بھٹو نے انکار کیا اور اسکا نتیجہ ستائیس دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے دروازے پر سامنے آ گیا۔ اسکے بعد امریکی سفیر کی پالیسیوں کے نتیجے میں ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا،بلیک واٹر کی سرگرمیاں عروج پر پہنچیں،افغانستان میں پاکستان کو کنارے لگایا گیا،تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے ملک بھر میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا گيا۔پاکستان میں امریکی اہلکاروں کی سرگرمیاں پاکستان کی سیکوریٹی ایجنسیوں سے بھی زیادہ ہو گئیں اور اس وقت پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔افغانستان کی جنگ پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہو کر تیزي سے آگئے بڑھ رہی ہے۔ ہم ایک آزاد اور خودمختار اور اسلامی جمہوریہ کا دعوی کرنے کے باوجود امریکی اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔آج امریکہ سے پاکستان میں جتنی نفرت پائی جاتی ہے اسکی مثال ڈھونڈنا بھی مشکل ہے،لیکن اس کے باوجود امریکی اور برطانوی حکام اور سفارتکار جو چاہتے ہیں کرتے پھر رہے ہیں۔ان ملکوں کے سفیروں کو پاکستان میں وائسرائے کا درجہ کس نے دے رکھا ہے،یہ جب چاہتے ہیں سیاستدانوں سے ملتے ہیں اور انہیں اپنے سامراجی مشوروں سے نوازتے ہیں،لیکن عوام مظاہروں میں نعروں اور دلی نفرت کے علاوہ کچھ نہیں کرتے،نفرت کا یہ لاوہ جب تک ایرانی نوجوانوں کی طرح تنگ آ کر سفارتخانوں کی حقیقی سرگرمیوں کو برملا کر کے انہیں جاسوسی کے اڈے ثابت نہیں کرے گا،یہ سلسلہ جاری رہے گا،البتہ اگر پاکستانی عوام پر بھی امریکہ اور برطانیہ کے سامراجی اہداف روشن اور واضح ہو گئے تو عوام کے خوف کی وجہ سے پاکستانی حکام بھی امریکی اور برطانوی سفیروں کو وائسرائے نہیں سمجھیں گے بلکہ وہ بھی تہران میں تعینات برطانوی سفیر کی طرح مارے مارے پھرتے رہیں گے اور انہیں کوئی ملاقات کی گھاس نہیں ڈالے گا۔انشاء اللہ
............
/110