28 اکتوبر 2010 - 20:30

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے لبنان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کی جانب سے صہیونی ریاست کو معلومات فراہم کرنے کی بناپر اس ٹربیونل کے ساتھ تعاون نہ کریں۔

انھوں نے جمعرات کی رات ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب نہایت خطرناک اور حساس مرحلہ آگیا ہے اور ہماری شرافت ناموس اور کرامت خطرے میں ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ لبنان کے داخلی امورمیں غیر قانونی مداخلت کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ رفیق حریری ٹربیونل نے لبنان کی نجی جامعات، ٹیلیفون کالز اور پاسپورٹ کے ادارے سے سینکڑوں افراد کے فنگرپرنٹس، اور شہریوں کے ڈی این اے، نیز لبنان کی جغرافیائی معلومات اور پانی بجلی کے صارفین کی معلومات حاصل کی ہیں جو غیر قانونی عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ رفیق حریری ٹربیونل کے اہلکاروں نے یہ ساری معلومات صہیونی ریاست کو فراہم کی ہیں لیکن ہم نے حریری خاندان کا خیال کرتےہوئے خاموشی اختیار کی۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اب صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ خاموش رہنا جائز نہیں ہے۔ یادرہے رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کے اہلکاروں نے حزب اللہ کی رکن خواتین اور لڑکیوں کے میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کئےتھے جس پر لبنانیوں نےشدید احتجاج کیا ہے۔ یادرہے کہ صہیونی ریاست نے 1998 سے 2005 تک فلسطینی اور لبنانی رہنماؤں کے میڈیکل ریکارڈ چرا کر انہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110