تمام یونینوں نے اعتراضات کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ پولیس زور زبردستی بہت سوں کو ہڑتال سے روکنے کی کوشش کررہی ہے اور سینٹ نے عوام کے مطالبے کا کسی حد تک پاس بھی رکھا ہے مگر فرانسیسی عوام کا غصہ تھمنے کو نہیں آرہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ سرکوزی کی غلط پالبسیاں بھی اعتراض کا سبب ہیں اور ان کی اور ان کی "زوجۂ محترمہ" کی بے راہرویاں بھی زبانزد خاص و عام ہیں اور امریکی پالیسیوں کی تقلید محض اور فرانس کی قومی خودمختاری کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ مالی بحران نے بھی عوام کی زندگی مفلوج کررکھی ہے؛ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو گویا اب اپنے غلط انتخاب کا شدت سے احساس ہوگیا ہے اور انہیں اب غصے کے اظہار کا موقع بھی میسر آیا ہے لہذا اب ریٹائرمنٹ کے قانون میں اگر عوام کی بات مانی بھی جائے عوام نے ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ بھی مظاہروں میں شریک ہیں اور صورت حال کسی صورت میں بھی سرکوزی کے فائدی میں نہیں ہے؛ فرانسیسی شاید سرکوزی کو تخت حکومت سے اتارنے کا مصمم ارادہ کرہی چکے ہیں گو کہ ان کی کامیابی حتمی نہیں ہے۔ 1400 سے زائد افراد حراست میں لئے گئے ہیں اور یه امر خود عوامی غم و غصے کا باعث ہے کیونکہ فرانس کی جیلوں کی صورت حال نہایت خوفناک ہے اور ہر سال کئی سو قیدی یا تو نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے داعی اجل کو لبیک کہتے ہیں یا پھر خودکشی کرکے "فرانسیسی تہذیب" کی ایذارسانیوں سے موت کی آغوش میں پناہ حاصل کرتے ہیں۔مختلف شہروں میں نوجوان دکانیں لوٹنے اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے میں مصروف ہیں اور پولیس بھی آنسو گیس اور گولیوں سے ان کا استقبال کررہی ہے اور شہروں میں گوریلا جنگ جیسی صورت حال نظر آرہی ہے۔ دریں اثناء وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ فرانس کی ساکھ کو دنیا میں زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ عمومی خدمات مفلوجنقل و حمل ـ خاص طور پر زمینی اور فضائی نقل و حمل ـ معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ فرانس کے بیشتر ہوائی اڈے بند ہیں اور انھوں نے پروازیں منسوخ کررکھی ہیں۔ ڈرائیوروں کی ہڑتال نے ملک کی شاہراہیں مکمل طور پر بند کررکھی ہیں اور کوئی گاڑی چلانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ملک میں زندگی ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔ ایندھن کی شدید کمی بھی نقل و حمل کو مفلوج کرنے میں مؤثر کردار ادا کررہی ہے اور ایک تہائی پٹرول پمپ بند ہیں۔ سیر و تفریح کے لئے بیرون ملک سے آنے والے افراد محسوس کررہے ہیں کہ گویا وہ جہنم کے دورے پر تشریف لائے ہیں جہاں آنسو گیس، گولیاں، مظاہرے وغیرہ ان کا دل کھول کر استقبال کررہے ہیں۔ وہ سرگرداں ہیں اور تفریح تو درکنار اس ملک سے نکلنا ہی محال ہوگیا ہے۔ دریں اثناء فرانس کی خاتون وزیر معاشیات نے چینل 1 کے اسکرین پر ظاہر ہوکر ارشاد فرمایا ہے کہ "فرانس (یورپ اور خاص طور پر اس ملک کو درپیش) مالی بحران سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہوگیا ہے!!!۔بنیادی آزادیاںفرانس کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو انسانی آزادیوں کے بلند بانگ نعروں اور دعوؤں کے حوالے سے مشہور ہے لیکن سرکوزی صاحب نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ "ہڑتالی مزدوروں کا بند توڑ دے اور پٹرول کے ذخائر کو مزدوروں کے گھیرے سے زبردستی آزاد کرائے"۔ انھوں نے مزید فرمایا: "کروڑوں شہری آمد و رفت سے محروم ہوگئے ہیں اور بنیادی آزدیوں میں سے ایک کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور ہڑتال جاری رکھے جانے کی صورت میں فرانس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے"۔دوسری طرف سے ہڑتالی مزدوروں اور کلرکوں کی انجمنوں نے حکومت فرانس پر الزام لگایا ہے کہ وہ عوام کی اکثریت کے مطالبات کو نظرانداز کرکے معاشرے کو بند گلی میں دھکیل چکی ہے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ بھی آگئیحکومت ہڑتالوں کا سلسلہ بند کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ پولیس بھی تشدد سے گویا اکتا چکی ہے اور فوج کو بلانا بھی ایک ویٹو پاور کی عزت کے مجروح ہوجانے کا سبب بن سکتا ہے!!! چنانچہ ملک میں سکون برقرار کرنے کے لئے بیرونی امداد کی ضرورت پیش آئی اور بیرونی امداد ایسے شخص کی طرف سے آئی جس کے بارے میں عرصے سے کہا جارہا ہے کہ وہ اس دنیا میں ہی نہیں ہے۔ ہاں! بالکل صحیح ہے! آپ نے صحیح اندازہ لگایا۔اسامہ بنلادن، جو امریکہ اور یورپ کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے زندہ کیا جاتا ہے اور اس کے ایک پیغام سے ان کے سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں اور اگر کسی ملک پر حملہ کرنا ہو تو مغربی ممالک خود ہی تخریبکاری کرکے اسامہ بن لادن سے بیان دلوا کر ذمہ داری قبول کرواتے ہیں اور یوں ان کے اقدامات کے لئے راستہ ہموار ہوجاتا ہے لیکن اب ثابت ہورہا ہے کہ مغربی طاقتوں کو اپنے اندرونی مسائل حل کرنے کے لئے گاہے بگاہے مرے ہوئے یا زندہ اسامہ بن لادن کی امداد کی ضرورت پڑتی ہے........چنانچہ اب اس بار وہ فرانس کے اندرونی بحران کو حل کرنے کے لئے بھی آہی گیا اور اگرچہ فرانس عرصہ دراز سے مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور موجودہ بحران کا اس مسئلے سے زیادہ تعلق بھی نظر نہیں آرہا لیکن اسامہ بن لادن نے فرانس کو دھمکی دی ہے کہ:"فرانس امت مسلمہ پر مظالم کا سلسلہ بند کرے ورنہ اسے القاعدہ کے جواب کا سامنا کرنا پڑے گا"۔دوسری طرف سے فرانس کے وزیر داخلہ نے کہا: "اسامہ بن لادن کی دھمکی سنجیدہ ہے اور ہم اس کا مقابلہ کریں گے"!!!انھوں نے کہا: "فرانس پر دہشت گردانہ حملے کا خطرہ حقیقی ہے اور ہمیں آنکھیں کھول کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا پڑے گا"۔کسی زمانے میں اسامہ (جب وہ زندہ تھا شاید) ویڈیو پیغام کے ذریعے بعض حوادث کی ذمہ داری قبول کرکے مغربی ممالک کی خدمت کیا کرتا تھا لیکن اس بار صوتی پیغام موصول ہوا ہے اور اس پیغام میں (جو شاید فرانسیسی سیکورٹی اداروں نے ہی تخلیق فرمایا ہو) اسامہ نے کہا ہے کہ "افریقی ملک نیجر میں بعض فرانسیسی شہریوں کو فرانس کی جانب سے امت مسلمہ کے خلاف اقدامات کے بدلے اغوا کیا گیا ہے اور اگر فرانس افغانستان سے نکل جائے تو یہ فرانس کی سالمیت کی کنجی ہوگی"۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ پہنچ کر کہا: "اسامہ بن لادن کی دھمکی، دہشت گردی کے خلاف ہمارے اقدامات کا جواز فراہم کرتی ہے"!۔انھوں نے کہا: اگر اسامہ کا پیغام درست ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فرانسیسی شہریوں کو ملک کے اندر اور باہر سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔ اسامہ کے مبینہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ "فرانس برقع پر پابندی لگارہا ہے، اسلامی ممالک پر جارحیت کا ارتکاب کررہا ہے اور ایسے میں القاعدہ کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ فرانس کے ان مظالم کا جواب دے"۔..........اب آپ خود اندازه لگائیں کہ اسامہ بن لادن یا القاعدہ یا طالبان یا دیگر دہشت گرد ٹولوں کا منبع اور منشأ کہاں ہے اور یہ لوگ کن کے لئے کام کررہے ہیں اور یہ کہ مغربی طاقتیں کس حد تک اپنے کرائے کے دہشت گردوں کے تعاون کے محتاج ہیں!؟۔
...........
/110