ارنا کی رپورٹ کے مطابق علاءالدین بروجردی نے یہ کہا کہ امریکیوں نے عراقی شہریوں کو ایذائیں اور شکنجے دینے میں امریکی کردار جیسے بعض حقائق کو غیرحقیقی خبروں کے ضمن میں نقل کیا ہے، چنانچہ یہ نفسیاتی جنگ کا ایک جانا پہچانا حربہ ہے تاکہ رائے عامہ پر متأثر کیا جاسکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وکی لیکس کی شائع کردہ دستاویزات کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی یہ قابل اعتنا ہیں۔ دریں اثناء سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وکی لیکس نے عراق پر امریکی فوج کے حملے کے بارے میں چار سے پانچ لاکھ دستاویزات جاری کی ہیں جو نوری مالکی کی سربراہی میں عراق کی نئی حکومت کی تشکیل کو روکنے کے لئے واشنگٹن کی سیاسی و تشہیراتی سازشوں کا ایک حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110