کراچی کے بعض علاقوں میں کرفیو لگا کر آپریشن کرنے کا اصولی فیصلہ  آج سیکریٹری داخلہ کی زیر صدارت اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن علاقوں میں ہلاکتیں ہوئیں اور جو حساس شمار کئے جاتے ہیں وہاں کرفیو لگاکر شر پسند عناصر کے خلاف آپریشن کیا جائے، تاہم وزیر اعلیٰ سندھ کے شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے حتمی فیصلہ باقی ہے۔ کرفیو کا دورانیہ چند گھنٹوں سے لے کر کئی گھنٹوں تک محیط ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اب تک105گرفتاریاں ہو چکی ہیں اور ان سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں جو شر پسند عناصر نامزد کئے گئے ہیں انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ فوج کو نہیں بلایا جائے گا، وزیراعظم  وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کراچی میں ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں،جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی ہے۔ نبیل گبول کے بیان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج بلانے کی بات نبیل گبول کی ذاتی رائے ہے، یہ پارٹی لائن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کو کراچی کے حالات پر تشویش ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینظیر اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے، زیادہ شقوں پر عمل کر لیا، باقی پر آئندہ چند مہینوں میں عمل کر لیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے،امید ہے18ویں ترمیم پر سپریم کورٹ مثبت فیصلہ دے گی،ہم سپریم کورٹ کا احترام کسی بھی پارٹی سے زیادہ کرتے ہیںملیر 15پر شدید فائرنگ،متعدد دکانیں نذر آتش  کراچی کے علاقے ملیر 15 میں شدید فائرنگ شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور رینجرز اور پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب علاقے میں متعدد دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ واضح رہے کہ علاقے میں ایک بوری بند لاش کے ملنے اور 3نوجوانوں کے اغواء کے بعد سے ہی صورتحال کشیدہ تھی جس پر علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور بعد ازاں مشتعل افراد اور رینجرز کے درمیان فائرنگ شروع ہو گئی۔ اسی دوران علاقے کی متعدد دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ملیر 15پر شدید فائرنگ،متعدد دکانیں نذر آتش  کراچی کے علاقے ملیر 15 میں شدید فائرنگ شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور رینجرز اور پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب علاقے میں متعدد دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ واضح رہے کہ علاقے میں ایک بوری بند لاش کے ملنے اور 3نوجوانوں کے اغواء کے بعد سے ہی صورتحال کشیدہ تھی جس پر علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور بعد ازاں مشتعل افراد اور رینجرز کے درمیان فائرنگ شروع ہو گئی۔ اسی دوران علاقے کی متعدد دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔کراچی کی صورتحال : رحمن ملک،ذوالفقار مرزا ایوان صدر طلب  صدر آصف علی زرداری نے کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کو آج شام ایوان صدر میں طلب کر لیا ہے۔ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کراچی میں رونما ہونے والے امن و امان کے واقعات کا نوٹس لیا اور تحقیقات کا حکم دیا۔ صدر آصف زرداری نے کراچی میں مزید اقدامات کے لئے آج شام وزیر داخلہ رحمان ملک اور صوبائی وزیر داخلہ کو ایوان صدر طلب کر لیا ہے۔ فائرنگ کے واقعات بدستور جاری،20افراد زیر حراست  کراچی کی شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں گذشتہ شام نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے 12 افراد کی ہلاکت کے بعدسے فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد35 ہوگئی۔گزشتہ چار روز میں اب تک 81افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔کراچی میں جاری کشیدگی نے منگل کی شام اس وقت سنگین صورتحال اختیار کرلی جب شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی اندھا دھند فائرنگ سے 12افراد ہلاک اور 7افراد زخمی ہوگئے۔سول اسپتال ذرائع کے مطابق شیرشاہ واقعے کے بعد اسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے 10 ہلاک ہوگئے جبکہ 7 کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ شیرشاہ واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور مزید 21 افراد ہلاک کردیے تاحال ابھی تک سانحہ شیر شاہ کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا ہے حالیہ ٹارگٹ کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 81 ہوگئی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے قریب فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ اکبر روڈ صدر، جامع کلاتھ مارکیٹ، پاک کالونی میں اور گلستان جوہر میں دو، دو افراد نامعلوم گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ ابو الحسن اصفہانی روڈ، کورنگی کی بلال چورنگی، لانڈھی، ملیر، رنچھوڑ لائن، اورنگی ٹاؤن ہریانہ کالونی، نارتھ ناظم آباد، ملیر الفلاح،بلدیہ ٹاؤن،قائدآبادعزیز آباد اور پرانا گولی مار میں فائرنگ کے واقعات میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔ آج ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں چھ افراد زخمی ہوگئے اور ایک شخص کی بوری بند لاش ملی ہے۔شہر میں تاحال خوف کی فضا قائم ہے اور سوگ کا موحول ہے۔ شہر کے متعدد علاقوں میں پیٹرول پمپ، سی این جی اسٹیشن اور صبح کے وقت کھلنے والی دکانیں بند ہیں۔ سیکریٹری تعلیم کی جانب سے اسکول کھلنے کے اعلان کے باوجود متعدد اسکول بند رہے اور جو کھلے بھی ان میں حاضری معمول سے کم رہی۔ شہر کی شاھراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث دفتراور کام پرجانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر کی مرکزی شاھراہوں پر پولیس اور رینجرز کا گشت جاری ہے۔پولیس حکام کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں، 20 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔دھرنے کے اطلاع پر وزیرا علیٰ ہاوٴس جانے والے راستے سیل  گذشتہ روز شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں فائرنگ سے جاں بحق7افراد کی لاشیں وزیرا علیٰ ہاوٴس کے سامنے لا کر احتجاج کی اطلاع پروہاں جانے والے تمام راستے بند کر دئے گئے۔ ذرائع کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ7افراد کی لاشیں انکے لواحقین وزیر اعلیٰ ہاوٴس کے سامنے رکھ کر دھرنا دینگے اور احتجاج کرینگے، جس پر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی اور وہاں جانے والے تمام راستے بند کر دئے گئے۔کراچی میں نئے بھتہ خورگروپوں کاانکشاف ہوا ہے، رحمن ملک  وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہاہے کہ وہ ملک بھر میں سرکاری اداروں میں کرپشن کے خاتمے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں،،ان کاکہناہے کہ ایف آئی اے اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کو 15 دنوں میں ملک کے 13 بڑے اداروں کے خلاف رشوت خوری کا پتا لگا کر ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے۔اسلام آبادمیں میڈیاسے بات چیت میں وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کاکہناتھاکہ کراچی میں نئے بھتہ خورگروپوں کاانکشاف ہواہے، جس میں لیاری اورشیرشاہ کے علاقے کے لوگ بھی شامل ہیں،،لیاری سے ملنے والی دولاشوں کی جگہوں سے بھتہ خوری کی چٹیں اوروصول کئے جانے والی رقم بھی برآمدہوئی ہے، کراچی میں ڈی جی رینجرز کوبھتہ خوری کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کاحکم دے دیاہے۔رحمان ملک نے کہاکہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں مقامی گروہوں اور بڑے دہشت گرد گروپوں کے علاوہ غیرملکی ایجنسیاں بھی ملوث ہیں ، وہ کسی کانام نہیں بتاسکتے تاہم تحقیقا ت جاری ہیں ۔گزشتہ 24گھنٹوں میں فائرنگ سے 31افراد ہلاک  کراچی کی شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے12 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد31 ہوگئی۔شہر میں تین روز کے دوران 77 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔کراچی میں جاری کشیدگی نے منگل کی شام اس وقت سنگین صورتحال اختیار کرلی جب شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی اندھا دھند فائرنگ سے 12افراد ہلاک اور 7افراد زخمی ہوگئے۔سول اسپتال ذرائع کے مطابق شیرشاہ واقعے کے بعد اسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے 10 ہلاک ہوگئے جبکہ7 کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ عباسی شہید اسپتال ذرائع کے مطابق دو لاشیں اور دو زخمی اسپتال منتقل لائے گئے۔ شیرشاہ واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور مزید 19 افراد ہالک کردیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کے قریب فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ اکبر روڈ صدر، جامع کلاتھ مارکیٹ، پاک کالونی میں اور گلستان جوہر میں دو، دو افراد نامعلوم گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ ابو الحسن اصفہانی روڈ، کورنگی کی بلال چورنگی، لانڈھی، ملیر، رنچھوڑ لائن، اورنگی ٹاؤن ہریانہ کالونی، نارتھ ناظم آباد اور پرانا گولی مار میں فائرنگ کے واقعات میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔ فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں دکانیں اور پیٹرول پمپ بند ہوگئے اور ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نارتھ ناظم آباد بلاک ایم میں نامعلوم افراد نے دو دکانوں کو نذر آتش کردیا۔ دوسری طرف شہر میں پولیس اور رینجرز کی اسنیپ چیکنگ ،چھاپہ مار کاروائیوں اور گشت کا سلسلہ جاری ہے۔