افغان صدر حامد کرزئي نے بھی سی این این ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران اس بات کی تصدیق کے علاوہ طالبان کے ساتھ غیر سرکاری مذاکرات کا انکشاف کیا ہے۔
افغانستان کی امن کونسل نے ایسے وقت اپنے کام کا آغاز کیا ہے کہ جب سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بحران کا کوئي واضح حل دکھائي نہیں دے رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ افغانستان کے بحران کا اہم ترین سبب امریکہ اور نیٹو کا مسلسل قبضہ ہے۔
افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوجی موجودگی کو تقریبا دس سال کا عرصہ گزر رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک کی سیکورٹی کی صورتحال نہ صرف بہتر نہیں ہوئي ہے بلکہ اس ملک میں بدامنی میں مزید اصافہ ہوتا جارہا ہے اور مزید دہشتگرد گروہ وجود میں آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کے ہاتھوں افغان شہریوں کے قتل عام کے باعث افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجیوں کے خلاف عوام کا غصہ اور نفرت بہت بڑھ چکی ہے۔ انہی امور کے پیش نظر افغانستان میں حکومت مخالف گروہوں اور جماعتوں کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان پر غیر ملکی قبضہ برقرار رہے گا اس وقت تک طالبان کے ساتھ امن بات چیت کا نہ صرف کوئي فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کے مذاکرات زیادہ بڑی مشکلات یعنی قبضے کے نتیجے میں پیدا شدہ مشکلات و مسائل پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے بھی عوام کی حمایت حاصل کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو جائز ظاہر کرنے کے لۓ حکومت کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات کو افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔ دریں اثناء امریکہ کو بھی افغانستان پر اپنا قبضہ جاری رکھنے کے لۓ اس بات کی ضرورت ہے کہ طالبان اپنی سرگرمیاں بدستور جاری رکھیں کیونکہ اگر افغانستان میں بدامنی ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگي کا کوئي جواز باقی نہیں رہ جاۓ گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110