28 ستمبر 2010 - 20:30

عرب ممالک نے گزشتہ کچھ عرصے میں جتنی بڑی مقدار میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں سے جدید طرز کا اسلحہ خریدا ہے اسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔

سعودی عرب سمیت خلیج فارس کی چار عرب ریاستوں نے گزشتہ دنوں امریکہ سے ایک سو پچیس ارب ڈالر سے زيادہ مالیت کا ا سلحہ خریدا ہے ۔ خریدے گئے اس اسلحے میں سعودی عرب نے سڑسٹھ ارب ڈالر، عرب امارات نے چار ارب ڈالر، کویت نے سات ارب ڈالر اور عمان نے بارہ ارب ڈالر کے جدیدترین ہتھیار خریدے ہیں اگر اس تمام ہتھیاروں کی مالیت اور دیگر اضافی اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم ایک سو پچاس ارب ڈالر سے تجاوز کرجائيگی۔عرب ممالک کو فروخت کئے گئے اس اسلحے کے بارے میں دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ ایک تیر سے دو شکار کررہا ہے ایک طرف تو وہ ایران کے خلاف علاقے میں ایک بہت بڑا فوجی محاذ بنانے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف ان ہتھیاروں کی فروخت سے اپنے گرتے ہوئے اقتصادی نظام کو بھی سہارا دے رہا ہے اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے کہ امریکہ کا اقتصادی ڈھانچہ اور موجودہ اقتصادی صورت کسی بھی وقت امریکہ کو ایک ایسے زوال سے دوچار کرسکتی ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہوگا۔امریکہ کی اقتصادی زبوں حالی اور عربوں کو بیچے جانے والے ان ہتھیاروں کے تناظر میں امریکی ذرائع ابلاغ نے جس انداز کا والہانہ رویہ اختیار کیا ہے اور مختلف امریکی تجزیہ کاروں کی تحریروں سے جس خوشی کااظہار ہورہا ہے اس سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ عرب سرمائے سے امریکہ کی گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کو سنبھلتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔امریکی ذرائع ابلاغ کے علاوہ امریکہ سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے بعض ارکان نے بھی عربوں کو ہتھیار بیچنے کے جو فوائد گنوائے ہیں وہ بھی اپنی جگہ پر قابل غور ہے ۔ امریکی سینٹ کی خارجہ کمیٹی نے عربوں کو ہتھیار دینے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اس سے نہ صرف امریکہ میں بے روزگاری پر قابو پانے نیز اقتصادی بحران سے نکلنے میں مدد ملے گي بلکہ عرب مستقبل میں بھی دفاعی ضروریات کے حوالے سے امریکہ کے محتاج رہیں گے ، امریکی سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے اراکین کے بقول مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی فراہمی امریکہ کے قومی مفاد میں ہے ۔امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کو بھی نہ صرف یہ کہ عرب ممالک اور واشنگٹن کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے پر خوش ہے بلکہ اسے وہ علاقے میں امریکی پالیسیوں کے موثر ہونے میں ممد و معاون قرار دے رہے ہیں ۔امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد علاقائي ممالک کو ایران کے مقابلے میں صف آرا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔صدام کی صورت میں ایران پر آٹھ سال تک جنگ مسلط کی گئی اور اسکے بعد دوسرے عرب ممالک کو ایران سے اتنا ڈرایا گیا گویا ایران ان تمام ممالک کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ دفاعی شعبے میں ایران کی ہر ترقی کوعربوں کے خلاف اسطرح جنگ کی تیاری بناکر پیش کیا گیا کہ علاقے میں ایران فوبیا کی اصطلاح عام ہوگی۔اسلامی جمہوریۂ ایران کی طرف سے عرب ممالک کے حکام کو بارہا یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور ایران نے آج تک کسی ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا ہے ۔ ایران نے کئی عرب ممالک کو مشترکہ دفاعی معاہدے کرنے پر بھی آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے تا ہم ان ممالک کے حکام امریکی دباؤ کی وجہ سے اس طرح کے اقدامات سے گریز کرتے رہے ہیں ۔ان ممالک کے حکمران امریکی دباؤ کی وجہ سے اسلامی جمہوریۂ ایران کا کھل کر ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تا ہم اس خطے کی عوام نے ہمیشہ ایران کا ساتھ دیا ہے ۔ امریکہ کی طرف سے مشرق وسطی میں ایران کے خلاف فضا بنانے کی ایک وجہ غاصب صیہونی حکومت کا وجود ہے ۔ امریکہ غاصب صیہونی حکومت کے دفاع کے لئے ہر قدم اٹھانے پر تیار ہے ۔بعض عرب ممالک کے حکمران ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو تو امریکہ کی شہہ پر اپنے لئے خطرناک قرار دے رہے ہیں جبکہ اسرائیل کا ایٹمی پروگرام اور اسکے پاس موجود سینکڑوں ایٹمی وار ہیڈز سے انکی نظروں سے اوجھل ہیں سامعین آئیے سماعت فرمائيں پاکستان کے معروف تجزیہ نگار پروفیسر شمیم اختر اس حوالے سے کیا کہتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110