1 ستمبر 2010 - 19:30

اہم ترین سوال یہ ہے کہ جن ممالک نے غاصب صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کی سرزمین پر وجود بخشا ہے ان کے لئے فلسطینیوں کے حقوق کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟!

امریکی صدرباراک اوبامہ نےفلسطینی انتظامیہ اور صہیونی ریاست کےدرمیان براہ راست مذاکرات کاباقاعدہ اعلان کردیا۔ارناکی رپورٹ کےمطابق اوبامہ نےگذشتہ رات وھائٹ ہاؤس میں ایک تقریب میں اعلان کیا کہ ان مذاکرات کامقصد، فلسطینیوں اورصہیونیوں کےدرمیان پائدار امن معاہدے پر دستخط کرنا ہے۔اس موقع پرفلسطینی انتظامیہ کےصدرمحمود عباس اور صہیونی وزیراعظم نتن یاہو، مصرکےصدرحسنی مبارک اور اردن کےبادشاہ عبداللہ دوم بھی موجود تھے۔امریکی صدر نےاس اعلان سے قبل اپنے چاروں مہمانوں سے الگ الگ مذاکرات بھی کئے۔واضح رہےکہ 1979 میں کیمپ ڈیویڈ امن کانفرنس ، 1981 میں فہد منصوبہ 1982میں فارس منصوبہ ، 1991میں میڈرڈ امن کانفرنس ، 1993 اور 1995 ميں دو اوسلو معاہدے ، 2000 میں کیمپ ڈیویڈ دوم ، 2002 میں بیروت امن کانفرنس، 2003 میں جینواکانفرنس، اور 2007 میں ایناپولس کانفرنس ، کا کوئي نتیجہ نہیں نکلا اوران معاہدوں اورکانفرنسوں سے مشرق وسطی میں قیام امن میں کوئی مدد نہ مل سکی تاہم ان معاہدون کی بدولت صہیونی ریاست کو سانس لینے اور زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنے کا امکان میسر آیا اور ان کا فائدہ صرف غاصب صہیونی ریاست کو ملا کیونکہ ان معدہدون کا اصل مقصد ہی یہی تھا ورنہ امریکہ یا دیگر مغربی ممالک کا اعلانیہ نصب العین اسرائیل کا تحفظ ہے چنانچہ فلسطینیوں کے حقوق پر بات کرنا ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے سوال یہ ہے کہ جن ممالک نے غاصب صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کی سرزمین پر وجود بخشا ہے ان کے لئے فلسطینیوں کے حقوق کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

بشکریہ از ریڈیو تہران