29 اگست 2010 - 19:30

شاہ محمود قریشی: پاکستان کا20 فیصد حصہ سیلابی پانی سے متاثر ہوا ہے / بعض سیلابی علاقوں میں حالات معمول پرآناشروع / راجن پور کے علاقوں میں بیماریاں پھوٹ پڑیں۔

شاہ محمود قریشی: پاکستان کا20 فیصد حصہ سیلابی پانی سے متاثر ہوا ہے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کا20 فیصد حصہ سیلابی پانی سے متاثر ہوا ہے اور ہم اس وقت ایک نازک اور خطرناک صورت حال سے دو چار ہیں۔اسلام آباد میں او آئی سی ممبر ممالک کی ریلیف تنظیموں کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیلاب سے دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں،جبکہ چالیس لاکھ ایکٹر زرعی اراضی تباہ ہوئی ہے جس پر65 فیصد آبادی کا انحصار تھا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نقصانات کا کل تخمینہ جی ڈی پی کا ایک سے دو فیصد ہے انہوں نے کہا کہ ہر آٹھ پاکستانیوں میں سے ایک سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔بعض سیلابی علاقوں میں حالات معمول پرآناشروع  ضلع ٹھٹھہ میں بھریا شیدی موری کے مقام پر پڑنے والا شگاف 80 فیصد پر کرلیا گیا ہے جس کے بعد ٹھٹھہ شہر میں حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جبکہ سجاول شہر تاحال سیلاب کی زد میں ہے۔ ادھر سیلابی ریلے کا رخ دادو اورجوہی شہروں کی جانب ہے ۔ جبکہ یہاں سے نقل مکانی کرنے والے افراد بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور زندگی معمول پر آناشروع ہوگئی ہے۔ ادھر شہدادکوٹ سے آنے والا سیلابی ریلا ضلع دادو کی تحصیل میہڑ کے سیکڑوں دیہات ڈبوتا ہوا آج تحصیل خیرپور ناتھن شاہ میں داخل ہوگیا ہے جس کا رخ تیزی سے دادو اور جوہی شہروں کی طرف ہے۔ ضلع کے ان دو بڑے شہروں کو سیلاب سے بچانے کے لئے حفاظتی بند کی تعمیر کردی گئی ہے۔ قبو سعید خان اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو پاک فوج اور بحریہ کی کشتیوں اور ہیلے کاپٹروں کے ذریعے امدادی کام جاری ہے۔راجن پور کے علاقوں میں بیماریاں پھوٹ پڑیں  راجن پور اور تونسہ شریف میں سیلاب سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں بتدریج پانی اترنا شروع ہوگیا ہے تاہم کئی مقامات پر اب بھی سیلابی پانی کھڑا ہے جس سے بیماریاں پید ا ہورہی ہیں ۔راجن پور کے علاقے جام پور ، فاضل پور اور کوٹ مٹھن میں پانی اترنا شروع ہوا ہے تاہم رجھان میں تاحال سیلابی پانی کھڑا ہے جس سے علاقے میں تعفن اٹھ رہا ہے اور بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں ، راجن پور اور ڈی جی خان اضلاع میں اب تک پیٹ کے امراض میں مبتلا ہوکر بیس سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں ، ذرائع کے مطابق ڈی جی خان کے قبائلی علاقوں میں پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے امدادی اشیا کے عوض ایک بکرا طلب کیا جارہا ہے جس پر قبائلیوں نے احتجاج کیا ہے اور وزیراعلی پنجاب سے پولیٹیکل انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110