21 اگست 2010 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے شہر بوشہر میں ایٹمی بجلی پلانٹ سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ بوشہر ایٹمی پلانٹ میں ایٹمی ایندھن منتقل کرنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ ایران تنہا یورینیم افزودہ کرنے پر قادر نہیں ہے واضح رہے کہ بوشہر کا ایٹمی پلانٹ 1975 میں جرمن کی کمپنی نے شروع کیا تھا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جرمن کمپنی نے بوشہر ایٹمی پلانٹ پر کام باکل بند کردیا اور 20 سال تک اس پر کوئی کام شروع نہ ہوسکا  اس کے بعد روس نے1995 میں بوشہر ایٹمی پلانٹ پر کام شروع کیا اورایران کے ساتھ بوشہرایٹمی پلانٹ کو تکمیل کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے لیکن مختلف نشیب و فراز کے بعد کل بوشہرایٹمی پلانٹ میں ایندھن منتقل کردیا گیا ہے جس کے بعد ایران ایٹمی ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے ایران نے بوشہر ایٹمی پلانٹ کی تکمیل کے سلسلے میں بہت ہی صبر و بردباری، استقامت اور پامردی کے ساتھ سے کام لیا اور اللہ تعالی نے ایران کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110