18 اکتوبر 2010 - 20:30

پاکستان کل اپنا چونسٹھواں یوم آزادی منایا گیا مگر اس فرق کے ساتھ کہ گذشتہ برسوں کی طرح آزادی کی تقریبات جوش وخروش اور زرق برق انداز ميں نہيں بلکہ بہت ہی سادگی کے ساتھ منائی گئيں ۔

اورہونا بھی یہی چاہئے تھاکیونکہ ملک کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہوچکے ہيں۔ نہ معلوم کتنے خاندانوں میں، پیاروں اورجگرپاروں کی جدائی اورگھرکے گھر اورزندگیاں اجڑجانے گاؤں کے گاؤں غرق ہوجانےکا سوگ منایا جارہا ہے ۔ دسیوں لاکھ کی تعداد میں لوگ اپنی معاشی زندگیاں کھوچکے ہيں اورآسمان تلے زندگی کے انتہائي سخت حالات اورشب و روز گذار رہے ہيں ۔اقوام متحدہ نے اسے سونامی سے بھی بڑی آفت قراردے دیا ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے پورا ملک سوگوار بنا ہوا ہے ایسے میں یوم آزادی کی تقریبات کا سادگی کےساتھ منایا جانا یقینی طورپر ان بے آسرا لوگوں کے لئے اظہار یکجہتی وہمدردی کا بہترین طریقہ ہوسکتا ہے جوآسمانی آفتوں کے بعد آسمان تلے ہی زندگی گذار رہے ہيں ۔ سیلاب کی تبارہ کاریوں کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ سرکاری وسائل سیلاب سے متاثرین کی امداد کے لئے ناکافی ہيں ۔ وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ سب کو متحد ہوکر اس مصیبت کی گھڑی میں کام کرنے کی ضرورت ہے اورکوشش اس بات کی کرنی ہے کہ جیسے بھی ہو انسانی جانوں کے ضیاع کوروکا جائے اورمتاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب سے دوکروڑ افراد متاثر ہوئے ہيں انھوں نے کہا کہ اس موقع پر پوری قوم کومتحد ہوکر سیلاب سے متاثرین کی مدد کرنی ہوگی آج یوم آزادی کے موقع وزیراعظم ہاؤس سمیت تمام سرکاری اداروں میں پرچم کشائی کی تقریبات بہت ہی سادگی کے ساتھ منعقدہوئیں ۔ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے بھی سیلاب سے متاثرین کی مدد کی اپیل کی ہے مگر اس سلسلے میں مغرب اور امریکہ کا جو رویہ رہا ہے وہ باعث حیرت ہے ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ساٹھ لاکھ افراد تک ابھی امداد پہنچ ہی نہيں سکی ہے۔ اس درمیان صوبہ خیبر پختونخواہ کے بیشتر اضلاع کا زمینی راستہ پاکستان کے دیگرعلاقوں سے منقطع ہے۔ فصلیں تباہ ہوچکی ہيں اورآئندہ ملک کوبدترین معاشی بدحالی کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ سیلابی ریلا خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں تباہیاں مچانے کے بعد اب اس وقت صوبہ سندھ ميں تباہی مچارہا ہے اورفوج کے جوان پوری مستعدی سے جانی اورمالی نقصانات کو کم سے کم سطح پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہيں ۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آج نوشہرہ کا دورہ کیا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہاں سیلاب سے بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی ہے ۔اس درمیان ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے جہاں حکومت کی کارکردگی پرتنقید کی ہے وہيں یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاروائیوں میں مدد دینے کے لئے حکومت کا ہرطرح سے ساتھ دینے کوتیار ہیں ۔ پاکستان مسلم ليگ نون کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا کہ مصبیت کی اس گھڑی ميں وہ حکومت کے ساتھ ہرطرح کا تعاون کرنے کوتیارہيں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منور حسن نے بھی آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کوچاہئے کہ وہ اپنے اختلافات کوبالائے طاق رکھ کر ملک کودرپیش سنگین پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحدہ ہوجائيں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد کے لئے ہرممکن کوشش کریں۔ اس میں شک نہيں کہ اس وقت پاکستان ایک بہت بڑی مشکل سے دوچارہے ۔ پاکستانی عوام نے اس سے پہلے بھی قدرتی آفات کا پوری جرائت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اوران کے پاس اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے کا تجربہ موجود ہے مگراس کے لئے اعلی قیادت کی جانب سے تدبر، فراست اوربہترین انتظامی صلاحیتوں کے مظاہرے کی بھی ضرورت ہے حکومت کے سامنے اس وقت سب سے پہلا چیلنج یہ ہے کہ وہ متاثرین کے زخمی دلوں پر مرحم کس طرح رکھتی ہے ؟ شاید حکومت بھی اس چیلنج اورنزاکت کودرک کررہی ہے اسی لئےوزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں متحد ہوکر متاثرین کی مدد کریں کیونکہ سرکاری وسائل امداد کے لئے ناکافی ہيں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

توجہ:

سیلاب کی تباہ کاریوں نے دہشت گردی سے مجروح قوم کی جراحتوں کو چھپا رکھا ہے اور لگتا ہی نہیں ہے کہ دہشت گردوں نے اسلام کے نام پر آزاد ہونے والے اس ملک کا کیا حال بنا رکھا ہے اور کم از کم اہل قلم حضرات کی قلم کاریوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ گویا چونسٹھویں سالگرہ پر اس ملک کو دہشت گردی جیسے دیو کا سامنا ہی نہیں ہے! جبکہ کل ہی بلوچستان میں دو مختلف واقعات میں دہشت گردوں نے اپنے ہاتھ کی صفائی دکھائی ہے اور 16 نہتے افراد کو نہایت بے دردی سے قتل کردیا ہے اور یہ کہ دہشت گردوں نے اس فطری آفت کے سامنے ابھی تک اپنے کرتوتوں سے ندامت کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہ بدستور دشمن کے اشاروں پر ناچنے پر ہی تلے ہوئے ہیں۔

/110