بولان اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے دومختلف واقعات میں 5سکیورٹی اہلکاروں سمیت پنجاب سے تعلق رکھنے والے 16افراد جاں بحق اور8زخمی ہوگئے، بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) نے دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی۔ پولیس کے مطابقمچھ کے علاقے آب گم میں نامعلوم افراد نے لاہور سے کوئٹہ آنے والی مسافر بس روک کرمسافروں کے شناختی کارڈچیک کئے اور10مسافروں کوبس سے اتارکر فائرنگ سے ہلاک کردیا،ملزمان کی فائرنگ سے5 مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مرنیوالوں میں پانچ سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بولان میڈیکل کمپلیکس پہنچادی گئیں‘ ہلاک ہونے والوں کا تعلق وہاڑی‘ لاہور‘ سرگودھا اور دیگر علاقوں سے ہے جن میں فخر عباس گجرات، مقصود احمد لاہور، محمد وارث سرگودھا‘ مدثر علی اور فلک شیر کی شناخت بھی ہو گئی جبکہ زخمیوں میں محمد الطاف آزاد کشمیر‘ بلال اسد ماڈل ٹاؤن لاہور اور پہلوان وغیرہ شامل ہیں۔ٹارگٹ کلنگ کے دوسرے واقعے میں کوئٹہ کے علاقے خلجی کالونی میں نامعلوم مسلح افرادنے گھرکے باہرکھڑے مزدوروں پرفائرنگ کردی جس سے 6افرادہلاک اورتین زخمی ہوگئے،مرنیوالوں کاتعلق پنجاب کے علاقے وہاڑی سے بتایاجاتاہے۔جی این آئی کے مطابق اس سے قبل ہفتے کی شام کو نامعلوم سمت سے کو ئٹہ شہر پر تین راکٹ فائرکئے گئے جن سے ایک پولیس اہلکارسمیت 2 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ڈی آئی جی حامد شکیل نے بتایا کہ پہلا راکٹ وزیراعلیٰ ہاوٴس کے قریب معصوم شاہ اسٹریٹ میں سیکرٹری داخلہ اکبر حسین دْرانی کی سر کاری رہائش گاہ کے قریب گرا جس میں ایک پولیس اہلکار، ایک بچہ زخمی ہو گئے جبکہ گھر کو بھی معمولی نقصان پہنچا‘ دیگر دو راکٹ شہر کے مختلف علاقوں میں گرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110