17 ستمبر 2010 - 19:30

کل رات زاہدان کی جامع مسجد میں دہشت گردوں کی کاروائی کے نتیجے میں دسیوں مسلمان شہید اور زخمی ہوگئے جبکہ شیعہ اور سنی عمائدین اور علماء نے اس کاروائی کی مذمت کی اور گورنر نے تین روزہ عام سوگ کا اعلان کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کل رات زاہدان کی جامع مسجد پر مغربی اور صہیونی جاسوس اداروں سے وابستہ دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجے میں کم از کم اٹھائیس افراد شہید اور 300 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی شب ولادت انجام پایا جبکہ سینکڑوں افراد جشن ولادت علمدار کربلا (ع) اور دعائے کمیل کی غرض سے جامع مسجد میں اکٹھے ہوئے تھے۔ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد اسپتالوں سے فارغ ہوگئی ہے جبکہ 10 زخمیوں کی حالت نازک ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔شہداء میں سے 20 افراد کی شناخت کی جاسکی ہے جبکہ زیادہ زخمی ہونے والے شہداء کی شناخت ابھی تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ دریں اثناء زاہدان کی میڈیکل یونیورسٹی کے چانسلر نے کہا ہے کہ شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 زخمیوں کی حالت نازک ہے اور زابل، کرمان اور تہران سے متعدد سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی 16 ٹیمیں زاہدان پہنچ چکی ہیں جن میں اعلی پائے کے سرجن، نیورالوجسٹس، کارڈیالوجسٹس، ارتھوپیڈک سرجنز، اینیستھیزیا سپیشلسٹس اور جنرل فزیشنزشامل ہیں۔

ڈاکٹر منصور شکیبا نے کہا: بم دھماکوں کے آدھے گھنٹے کے بعد سے اب تک 306 افراد کو خاتم اسپتال، علی ابن ابیطالب (ع) اسپتال، بوعلی اسپتال، نبی اکرم (ص) اسپتال اور سوشل سیکورٹی اسپتال میں داخل کیا گیا اور اب تک منتقل ہونے والے افراد میں سے اٹھائیس افراد شہید ہوچکے ہیں جبکہ 137 افراد کو ابتدائی طبی امداد بہم پہنچانے کے بعد فارغ کردیا گیا ہے اور 169 افراد کو داخل کردیا گیا ہے جن میں سے 69 افراد کے لئے آپریشن کی ضرورت تھی چنانچہ تمام آپریشنز بخیر و خوبی انجام پائے ہیں اور افراد کو مختلف وارڈوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شکیبا نے کہا کہ طبی عملہ پہلے دھماکے کے ساتھ ہی اسپتالوں میں حاضر ہوا اور متعلقہ عملے کو جامع مسجد روانہ کیا گیا جہاں دوسرے دھماکے میں ہمارے دو افراد شدید زخمی ہوئے اور دو ایمبولینسوں کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں میں سے اب تک 53 افراد کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ صوبہ سیستان و بلوچستان میں تین روزہ سرکاری سوگسیستان و بلوچستان کی گورنر نے نہتے اور مظلوم شہریوں کی شہادت کی مناسبت سے صوبے میں تین روزہ عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی گورنر "علي‏محمد آزاد" نے ایک بیان میں شہداء کے خاندانوں کو ان کے عزیزوں کی شہادت پر تہنیت و تسلیت کہتے ہوئے کہا ہے کہ محارب عناصر اور عالمی استکبار کے حلقہ بگوش غلاموں نے ایک بار پھر امت مسلمہ کی وحدت و یکجہتی سے اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے اس بار علمدار کربلا حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی ولادت کی شب دہشت گردانہ کاروائی کرکے اس آب و خاک کے فرزندوں کو خاک و خون میں تڑپا کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ دہشت گردی کے اصل سرپرست بھی مذمت کرتے ہیں:ہلیری کلنٹن نے بھی مذمت کردی!! حال ہی میں پھانسی کی سزا پانے والے بدنام زمانہ دہشت گرد عبدالمالک ریگی کے اعترافات کے مطابق امریکہ نہ صرف اس اور اس کے دہشت گرد ٹولے کی پشت پناہی کررہا تھا بلکہ کرغیزستان میں اپنا فوجی اڈا بھی اس کے حوالے کرنا چاہتا تھا علاوہ ازیں افغانستان میں نیٹو فورسز کے کمانڈرز بھی اس کے تمام اقدامات کی نگرانی کررہے تھے اور اس حوالے سے متعلقہ دستاویزات بھی اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کے لئے ارسال کی گئی ہیں؛ تا ہم چرواہوں سے مل کر اپنا سرپیٹنے والے اور بھیڑیوں کے ساتھ مل کر گوشت کے مزے لوٹنے والے امریکہ کی منافقانہ پالیسی کے پیش نظر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم تہہ دل سے ایران میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں جن کی ذمہ داری جنداللہ نامی ٹولے نے قبول کی ہے"۔ ہلیری نے مزید کہا ہے کہ یہ کاروائیاں اور حال ہی میں یوگنڈا، پاکستان، افغانستان، عراق اور الجزائر میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیاں روکنے کی غرض سے بے گناہ عوام کی جانیں خطرے میں ڈالنے والے دہشت گرد ٹولوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عالمی برادری کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت آشکار ہوگئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنت میں زاہدان کے نمائندے کا دلچسپ اظہار خیالزاہدان کے رکن پارلیمان ڈاکٹر حسين علي شہرياری نے کہا ہے کہ ان کاروائیوں کا مقصد شیعہ اور سنی کی وحدت کو نشانہ بنانا تھا اور یہ کاروائیاں یقینی طور پر سنی شیعہ وحدت کو متأثر کریں گی اور اگر کوئی کہے کہ ان اتحاد پر اثر نہیں پڑے گا اس کی بات جھوٹ اور خالی خولی نعرہ ہے۔ انہوں نے امریکی وزرات خارجہ کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکی حکام بظاہر تو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں لیکن پس پردہ منافقین (ایم کی او) اور جندالشیطان جیسے دہشت گرد ٹولوں کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں وسائل فراہم کرتے ہیں۔ وہ اس طرح دنیا کی رائے عامہ کو دھوکا دے کر منحرف کردینا چاہتے ہیں اور امریکی مذمت بھی اسی قسم کی ایک چال ہے۔ جنرل رادان: تفتیش ہورہی ہے ایران کی سیکورٹی فورس (پولیس) کے قائم مقام کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل رادان نے کہا: سیکورٹی فورس اور دیگر سیکورٹی ادارے کل رات کی کاروائیوں کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں اور نتائج کا اعلان جلد ہوگا۔ یادرہے کہ جنرل رادان کل رات کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے فورا بعد زاہدان پہنچ گئے ہیں اور تحقیقات کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں۔ 

.

ریگی دہشت گرد کے باقیات نے دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرلی

ریگی دہشت گرد ٹولے نے آج صبح ایک متن انٹرنیٹ پر نشر کرکے کل کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرلی اور ساتھ ہی بعض انقلاب مخالف عناصر نے بے گناہ عبادت گزاروں کی شہادت کا باعث بننے والے دو فریب خوردہ دہشت گردوں کی تصویریں بھی نشر کی ہیں اور دعوی کیا گیا ہے کہ یہ تصویریں دہشت گردانہ کاروائی سے تھوڑی دیر قبل لی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مجرمین بالفطرہ کو "عبدالباسط ریگی" اور "عزیز محمد ریگی" کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے۔

بارگاہ الہی میں اپنا منہ کالا کرنے والے دہشت گردوں کی تصاویر:

عبدالباسط ریگی

محمد ریگی

کھوج اور نشانیاں 

 

دہشت گردوں نے یہ کاروائی پاکستان میں ہونے والی طالبان دہشت گردوں کی کاروائیوں کے طرز پر کی ہے اور ابتداء میں ایک بم پھاڑ کر لوگوں کے اجتماع کے اسباب فراہم کرکے دوسرا دھماکہ کیا ہے جس سے اس حملے کے پس پردہ عوامل کا کھوج لگانے میں مدد ملے گی۔

کل رات دو خودکش حملہ آوروں نے دہشت گردانہ کاروائیاں کیں۔ پہلا دہشت گرد دروازے پر آیا تو دروازے پر سیکورٹی کے لئے کھڑے ہونے والے رضاکاروں نے اس کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیا اور اس نے دیوار سے ٹکر مار کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا. اس حملے میں رضاکاروں اور پاسداروں کے چار اہلکار شہید ہوئے اور جب لوگ دھماکے کے مقام پر اکٹھے ہوئے تو دوسرے دہشت گرد نے مشابہ کاروائی کردی جس سے شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ دہشت گردوں کو مسجد میں داخلے کا موقع نہیں مل سکا تھا چنانچہ دونوں مسجد کے باہر ہی واصل جہنم ہوئے اور ان کی کاروائی کی وجہ سی سینکڑوں افراد زخمی اور اٹھائیس افراد شہید ہوئے