17 ستمبر 2010 - 19:30

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای دام ظله العالی کی نگاہ میں حسینی تحریک کے مختلف پہلو۔

 انساني جہالت اور پستي کے خلاف جنگ!امام حسين کي زيارت اربعين ميں ايک جملہ ذکر کيا گيا ہے جو مختلف زيارتوں اور دعاوں کے جملوں کي مانند قابل تآمّل اور معني خيزجملہ ہے اور وہ جملہ يہ ہے ’’وَ بَذَلَ مَھجَتَہُ فِيکَ‘‘ ، يعني زيارت پڑھنے والا خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ امام حسين نے اپني پوري ہستي اور دنيا ، اپني جان اور خون کو تيري راہ ميں قربان کرديا‘‘؛’’لِيَستَنقِذَ عِبَادِکَ مِنَ الجَھَالَۃِ وَحَيرَۃِالضَّلَالَۃِ‘ ،’’تاکہ تيرے بندوں کو جہالت سے نجات دلائيںاور ضلالت و گمراہي کي حيرت و سرگرداني سے اُنہيں باہرنکاليں‘‘۔ يہ اِس حقيقت کا ايک رُخ ہے يعني يہ حسين ابن علي ہے کہ جس نے قيام کيا ہے۔ اِس حقيقت کا دوسرا رخ جسے اِس زيارت کا اگلا جملہ بيان کرتا ہے، ’’وَقَد تَوَازَرَ عَلَيہِ مَن غَرَّتہُ الدُّنيَا وَبَاعَ حَظَّہُ بِالاَرذَلِ الاَدنٰٰٰٰي‘‘ ،اِس واقعہ ميں امام ٴکے مدِ مقابل وہ لوگ تھے جو زندگي و دنيا سے فريب کھا کر اپني ذات ميں کھو گئے تھے، دنياوي مال و منال، خواہشات نفساني اور شہوت پرستي نے اُنہيں خود سے بے خود کرديا تھا، ’’وَبَاعَ حَظَّہُ بِالاَرذَلِ الاَدنٰي‘‘؛’’اُنہوں نے اپنے حصے کو کوڑيوں کے دام بيچ ڈالا‘‘۔ خداوند عالم نے عالم خلقت ميں ہر انسان کيلئے ايک خاص حصہ قرار ديا ہے اور وہ حصہ ،دنيا و آخرت کي سعادت و خوش بختي سے عبارت ہے۔ اِن لوگوں نے اپني دنيا و آخرت کي سعادت کو دنيا کي صرف چند روزہ فاني زندگي کے عوض فروخت کرڈالا۔ يہ ہے حسيني تحريک کا خلاصہ کہ ايک طرف وہ عظمت و بزرگي اور ايک طرف يہ پستي اور ذلت و رسوائي!

اِس بيان ميں غوروفکر کرنے سے انسان اِس بات کا احساس کرتا ہے کہ حسيني تحريک کو دو مختلف نگاہوں سے ملاحظہ کيا جاسکتا ہے اور يہ دونوں نگاہيں درست ہيں ليکن يہ دونوں نگاہيں مجموعاً اِس تحريک کے مختلف اورعظيم ابعاو جہات کي نشاندہي کرنے والي ہيں۔ايک نگاہ امام حسين کي تحريک کي ظاہري صورت سے متعلق ہے کہ آپ ٴ کي يہ تحريک و قيام؛ ايک فاسق، ظالم اور منحرف يزيدي حکومت کے خلاف تھاليکن ظاہري و معمولي اور آدھے دن ميں ختم ہو جانے والي يہي تحريک درحقيقت ايک بہت بڑي تحريک تھي کہ جسے يہ نگاہ دوم بيان کرتي ہے اور وہ انسان کي جہالت و پستي کے خلاف امام ٴ کي تحريک ہے ۔صحيح ہے کہ امام حسين گرچہ يزيد سے مقابلہ کرتے ہيں ليکن يہ امام عالي مقام ٴ کاصرف يزيد جيسے بے قيمت اور پست انسان سے تاريخي اور عظيم مقابلہ نہيں ہے بلکہ انسان کي جہالت وپستي ، ذلت و رُسوائي اور گمراہي سے مقابلہ ہے اور درحقيقت امام ٴ نے اِن سے جنگ کي ہے۔امامت کي ملوکيت ميں تبديلياسلام کے ہاتھوں ايک آئيڈيل حکومت کي نبياد رکھي گئي ،اگر ہم اِس تناظر ميں واقعہ کربلا اور تحريک حسيني کا خلاصہ کرنا چاہيں تو اِ س طرح بيان کرسکتے ہيںکہ امام حسين کے زمانے ميں بشريت؛ ظلم و جہالت اور طبقاتي نظام کے ہاتھوں پس رہي تھي اور دنيا کي بڑي بڑي حکومتيں خواہ وہ ايراني شہنشائيت ہو يا رومي سلطنت و بادشاہت، سب کي سب غير عوامي ، عياشي، ظلم و ستم اور جہالت و برائيوں کي حکومتيں تھيں۔اِسي طرح نسبتاً چھوٹي حکومتيں جو جزيرۃ العرب ميں قائم تھيں، اُن سے بدتر تھيں غرضيکہ پوري دنيا پر جہالت کے سياہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اِس ظلمت و تاريکي ميں نور اسلام نے پيغمبر خدا ۰ کے وسيلے، امداد الٰہي اور عوام کي طاقت فرسا جدوجہد کے ذريعہ جزيرۃ العرب کے ايک علاقے کو منور کيا، بعد ميں يہ نور آہستہ آہستہ پھيلتا رہا اوراُس نے ايک وسيع و عريض علاقے کو منور کرديا۔جب حضرت ختمي مرتبت ۰ کا وصال ہوا تو آپ کي يہ حکومت ايسي حکومت تھي جو تاريخ بشريت ميں سب کيلئے ايک آئيڈيل تھي اور اگر وہ حکومت اُسي طرح باقي رہتي تو بلاشک و شبہ وہ تاريخ کو تبديل کرديتي يعني جو کچھ صديوں کے بعد يعني امام زمانہ کے ظہور کے زمانے ميں ظہور پذير ہوتا وہ اُسي زمانے ميں وقوع پذير ہوجاتا۔ امام زمانہ کے ظہور کے بعد کي دنيا عدل و انصاف، پاکيزگي، سچائي اور معرفت و محبت کي دنيا ہے، اِس عالم ہستي کي حقيقي دنيا امام زمانہ کے ظہور کے بعد کے زمانے سے متعلق ہے کہ يہ صرف خدا ہے جانتا ہے کہ اُس وقت بشر کن عظمتوں اور فضيلتوں کو حاصل کرے گا۔ بنابراِيں ، اگر پيغمبر اسلام ۰ کي حکومت جاري رہتي تو تاريخ انسانيت تبديل ہوجاتي ليکن کچھ خاص حالات کي وجہ سے يہ کام انجام نہ پاسکا۔پيغمبر اسلام ۰ کي حکومت کي خصوصيت يہ تھي کہ ُاس کي بنياديں ظلم و ستم کے بجائے عدل و انصاف ؛ شرک اور انساني فکر کو متفرق اور پرا کندہ کرنے کے بجائے توحيد اور پروردگار عالم کي بندگي پر تمرکز؛ جہالت کے بجائے علم و معرفت اور حسد وکينے کے بجائے انسانوں ميں محبت و ہمدردي اور مداراکرنے کے رابطوں کي بنيادوں پر قائم تھي۔ ايسي حکومت کے سائے ميں پرورش پانے والا انسان ؛باتقويٰ ، پاکدامن ، عالم ، بابصيرت، فعال، پُرنشاط، متحرک اور کمال کي طرف گامزن ہوگا۔ ليکن پچاس سال بعد حالات بالکل ہي بدل گئے، نام کا اسلام رہ گيا اور لوگ صرف ظاہري مسلمان تھے ليکن باطن ميں اسلام و اسلامي تعليمات کا دور دور تک کوئي نام و نشان نہيں تھا۔ عدل و انصاف کي حکومت کے بجائے ظالم حکومت برسر اقتدار آگئي، اُخوت و مساوات کي جگہ طبقاتي نظام اور گروہ بندي برا جمان ہو گئے اورنور ِمعرفت بجائے جہالت کے سياہ با دلوںنے لوگوں پر سايہ کرليا۔ اِن پچاس سالوں ميں آپ جتنا آگے کي طرف جاتے جائيں گے اور اگر انسان ايسي مثاليں ڈھونڈنا چاہے تو ايسے سينکڑوں مثاليں موجود ہيں جنہيں اہل تحقيق ،نوجوان نسل کيلئے بيان کرسکتے ہيں۔ امامت و ملوکيت کا فرق!خدا وند عالم کا عطا کردہ’’ ہدايت کانظام امامت‘‘ ؛ ملوکيت وسلطنت ميں تبديل ہوگيا! نظام امامت کي حقيقت و اصليت؛ سلطنت و ملوکيت کے نظام کي حقيقت و جوہر سے مختلف ہے، اُس سے مکمل طورپر تناقض رکھتي ہے اور يہ دونوں ايک دوسرے کي ضد ہيں۔ امامت يعني روحاني اور معنوي رہبري و پيشوائي، لوگوں سے ايک قلبي اور اعتقادي رابطہ ليکن ملوکيت و سلطنت يعني ظلم و قدرت اور فريب کي حکومت کہ جس ميں عوام اور حکومت ميں کوئي قلبي ، معنوي اور ايماني رشتہ و رابطہ قائم نہيں ہوتااور يہ دونوں بالکل ايک دوسرے کے مدّ مقابل ہيں۔ امامت؛ امّت کے درميان، امت کیلئے اور امت کي خير و بھلائي کيلئے ايک رواں اور شفاف چشمہ ہے جبکہ ملوکيت و سلطنت؛ عوام کي مصلحت پر زور زبردستي کا راج، سلطنت يعني خاص افراد کي فلاح و بہبود کي حکومت اور حکام و سلاطين کيلئے ثروت اندوزي اور شہوت راني کے وسائل فراہم کرنے کے امکانات! ہم امام حسين کے زمانے حکو مت کي جتني تصويريں ديکھتے ہيں ہميں ہر طرف ملوکيت و سلطنت ہي نظر آتي ہے۔ جب يزيد برسر اقتدار آيا تو اُس کا لوگوں سے نہ کوئي رابطہ تھا اور نہ وہ علم و پرہيز گاري اور پاکدامني اور تقويٰ کي الف ب سے واقف تھا؛راہ خدا ميں جہادکرنے کااُس کانہ کوئي سابقہ تھا اور نہ ہي وہ معنويت و روحانيت پر يقين و اعتقاد رکھتا تھا؛ نيزنہ اُس کا کردار ايک مومن کے کردارکي مانند تھا اور نہ اُس کي گفتارايک حکيم و دانا کي گفتار تھي اور سنتِ رسول ۰ سے اُس کا دور دور کاکو ئي واسطہ نہيں تھا۔ اِن حالات ميں حسين ابن علي کیلئے جو ايسے امام و رہبر تھے کہ جنہيں مسند رسول ۰پر بيٹھنا چاہيے تھا، ايسے حالات پيش آئے اور اُنہوں نے قيام کيا۔قيام امام حسين کا اصل ہدفاگر اِس واقعہ کا ظاہري تجزيہ و تحليل کيا جائے تو بظاہر يہ قيام، ظلم کي بنيادوں پر قائم يزيد کي با طل حکومت کے خلاف تھا ليکن حقيقت ميں يہ قيام ؛اسلامي اقدار کے اِحيائ ، معرفت و ايمان کو جلادينے اور عزت کے حصول کيلئے تھا اور اِس کا مقصد يہ تھا کہ امت کوذلت و پستي ، رسوائي اور جہالت سے نجات دي جائے۔ لہٰذا يہي وجہ ہے کہ جب سيد الشہدا مدينہ تشريف لے جارہے تھے تو اپنے بھائي محمد ابن حنفيہ کے نام يہ تحرير لکھي، ’’اِنِّي لَمْ اَخرُج اَشِرًا وَ لاَ بَطِرَاً وَلاَ مُفسِدًا وَلَا ظَالِمًا اِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْاِصْلَاحِ فِي اُمَّۃِ جَدِّي‘‘ ؛’’ميں غرورو تکبر ،فخر ومباہات اور ظلم و فساد کيلئے قيام نہيں کررہا ہوں،ميں ديکھ رہا ہوں کہ امت محمدي ۰کي حالت تبديل ہوگئي ہے اور لوگ غلط سمت اور انحطاط کي طرف حرکت کررہے ہيں اور اُس جانب قدم بڑھارہے ہيں کہ جو اسلام اور پيغمبر اکرم ۰ کي بتائي ہوئي سمت کے خلاف ہے اور ميں نے اِسي انحراف اور خرابي سے مقابلے کيلئے قيام کيا ہے‘‘۔سيد الشہدا کے مبارزے کي دو صورتيںامام حسين کے قيام ومبارزے کي دوصورتيں ہيں اور دونوں کا اپنا اپنا الگ نتيجہ ہے اور دونوں اچھے نتائج ہيں؛ ايک نتيجہ يہ تھا کہ امام حسين يزيدي حکومت پر غالب و کامياب ہوجاتے اور لوگوں پر ظلم و ستم کرنے والوں سے زمام اقتدار چھين کر امت کي صحيح سمت ميں راہنمائي فرماتے،اگر ايسا ہوجاتا تو تاريخ کي شکل ہي بدل جاتي۔ دوسري صورت يہ تھي کہ اگر کسي بھي وجہ اور دليل سے يہ سياسي اور فوجي نوعيت کي کاميابي آپ کيلئے ممکن نہيں ہوتي تو اُس وقت امام حسين اپني زبان کے بجائے اپنے خون، مظلوميت اور اُس زبان کے ذريعہ کہ جسے تاريخ ہميشہ ہميشہ کيلئے ياد رکھتي، اپني باتيں ايک رواںاور شفاف پاني کي مانند تاريخ کے دھارے ميں شامل کرديتے اور آپ نے يہي کام انجام ديا۔البتہ وہ افراد جو بڑے بڑے زباني وعدے کرتے اور اپنے ايمان کي مضبوطي کا دم بھرتے تھے اگر ايسا نہ کرتے تو پہلي صورت وجود ميں آتي اور امام حسين اُسي زمانے ميں دنيا و آخرت کي اصلاح فرماديتے ليکن اِن افراد نے کو تاہي کي! اِس کوتاہي کے نتيجے ميں وہ پہلي صورت سامنے نہيں آسکي اور نوبت دوسري صورت تک جا پہنچي۔ يہ وہ چيز ہے کہ جسے کوئي بھي قدرت امام حسين سے نہيں چھين سکتي اور وہ ميدانِ شہادت ميں جانے کي قدرت اورراہِ دين ميں اپني اور اپنے عزيز و اقارب کي جان قربان کرنا ہے۔ يہ وہ ايثار و فداکاري ہے کہ جو اتني عظيم ہے کہ اِس کے مقابلے ميں دشمن کتني ہي ظاہري عظمت کا مالک کيوں نہ ہو، وہ حقير ہے اور اُس کي ظاہري عظمت ختم ہوجاتي ہے اور يہ وہ خورشيد ہے کہ جو روز بروز دنيائے اسلام پر نور افشاني کررہا ہے۔ آج امام حسين گذشتہ پانچ يا دس صديوں سے زيادہ دنيا ميں پہچانے جاتے ہيں۔ آج حالات يہ ہيں کہ دنيا کے مفکرين، روشن فکر شخصيات اور بے غرض افراد جب تاريخ کا مطالعہ کرتے ہيں اور واقعہ کربلا کو ديکھتے ہيں تو اپنے دل ميں خضوع کا احساس کرتے ہيں۔ وہ تمام افراد جو اسلام سے کوئي سروکار نہيں رکھتے ليکن آزادي، عدالت، عزت، سربلندي اور اعليٰ انساني اقدار جيسے بلند پايہ مفاہيم کو سمجھتے ہيں اور اِس زاويے سے کربلا کو ديکھتے ہيں تو آزادي و آزادي خواہي، عدل و انصاف کے قيام، برائيوں ، جہالت اور انساني پستي سے مقابلہ کرنے ميںسيد الشہدا اُن کے امام و رہبر ہيں۔جہالت و پستي، انسان کے دو بڑے دشمنآج انسان نے دنيا ميں جہاںکہيں بھي چوٹ کھائي ہے خواہ وہ سياسي لحاظ