17 ستمبر 2010 - 19:30

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کو 40 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے ۔

انھوں نے اسلام آباد میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے سے عوام کی زندگی سمیت سرمایہ کاری کے شعبوں پر بے پناہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہيں ۔ یوسف رضاگیلانی نے اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان کوامداد دئے جانے کے وعدوں کوعملی نہ کئے جانے پربھی شدید تنقید کی اورکہا کہ جن علاقوں میں دہشت گردگروہ سرگرم ہیں وہاں اسکولوں اسپتالوں اوربنیادی تنصیبات کی تعمیر نو کے عمل میں مشکلات پیش آرہی ہيں کیونکہ پاکستان کومالی مدد کے جووعدے کئے گئے تھے ان پرعمل نہيں کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی یہ کہہ چکے ہيں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے پاکستان کوچالیس ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے انھوں نے بھی مغربی ملکوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے وعدوں پرعمل کریں اورپاکستان کوامداد فراہم کریں ۔پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کی طرف سے اس بات کا اعلان کہ پاکستان کی معیشت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے بری طرح متاثرہوئی ہے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے حکام کواب امریکہ اورمغربی ملکوں کے وعدوں کے بارے میں مایوسی ہوتی جارہی ہے۔ اسی وجہ سے اب پاکستان کے حکام کھل کرامریکہ اورمغربی ملکوں کے رویّوں پرتنقید کرنے لگے ہيں اوراگریہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو وہ وقت دور نہيں جب پاکستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کے اپنے فیصلے پرنظرثانی بھی کرسکتی ہے ۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ نے طالبان اورالقاعدہ کا مقابلہ کرنے کے بہانے افغانستان پرحملہ کردیا اور پاکستان کوجواس وقت تک افغانستان میں طالبان انتظامیہ کا سب سے بڑا حامی تھا اورجس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت بنوانے میں اہم کرداراداکیا تھا واشنگٹن کے کہنے کے پر اچانک یوٹرن لینا پڑا ۔ یوں طالبان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی لاجسٹیک سپورٹ کرنے کے ساتھ ديگرطریقوں سے بھی امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا ۔ امریکہ کا ساتھ دینے کی ہی وجہ سے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کونان نیٹو الائي قراردے دیا تھا ۔اس وقت ایسالگ رہا تھا پاکستان کی حکومت گویا یہ سمجھ رہی ہو  کہ وہ امریکہ کا ساتھ دینے کے عوض اس کی مالی اورسیاسی حمایت حاصل کرسکے گی اوریوں واشنگٹن اوراسلام آباد کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہوں گے لیکن آج نو سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد یہ بات سب پرعیاں ہوگئی کہ پاکستان کونہ صرف امریکہ سے کسی بھی طرح کی کوئی سپورٹ یا مدد نہيں ملی بلکہ امریکی پالیسیاں اوراقدامات پاکستان کوسیاسی سماجی ، سیکورٹی اورمعاشی لحاظ سے غیرمستحکم کرنے کا باعث بن رہے ہيں ۔جس کی طرف پاکستان کے حکام بار بار اشارہ کرتے رہے ہيں.

...........

/110