اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ، صدارتی بورڈ اور نمائندوں نے منگل کے روز رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیتاللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پارلیمان کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور ایران کے اندرونی اتفاق و اتحاد کی ضرورت کے سلسلے میں جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے ملت ایران کی کیاست و ذکاوت اور امام اور آپ کے مکتب سے عوام کی وسیع وابستگی و تعلق اور برسی کے مراسمات میں عوام کی وسیع شرکت کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا: کمال مطلوب کے حصول کی کوشش حقیقت پسندی کے ہمراہ ہو اور پارلیمان اور حکومت مخلصانہ انداز سے تعاون کریں تو ملکی ترقی تیز رفتار ہوگی۔
آپ نے پارلیمان کے سربراہ اور اراکین کی محنت و کوشش اور اہم اندرونی اور بین الاقوامی مسائل میں پارلیمان کے قابل قدر کردارکو موجودہ عالمی حالات میں بہت اہم قرار دیا اور فرمایا: بین الاقوامی سطح پر موجودہ حالات انقلاب کی آئندہ نسلوں اور ملک کے مستقبل پر اثرانداز ہونگے لہذا ان حالات پر باریک بینی کے ساتھ نظر رکھنے اور حالات کا صحیح ادراک کرنے اور پیش آنے والے واقعات میں فعال اور دانشمندانہ کردار ادا کرنے کی بدولت زیادہ مناسب پوزیشن اور اہداف و مقاصد سے قریبتر مقام و منزلت کا حصول ممکن ہوجاتا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مشرق وسطی کے خطے ـ خاص طور پر فلسطین ۔ کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ ساری صورت حال خطے میں ایک تبدیلی اور تغیر و تحول کا پتہ دے رہی ہے اور دنیا کی سطح پر بھی امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی پوزیشن اور ان کے عالمی اثر و نفوذ میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔
رہبر انقلاب نے فرمایا: دنیا کی موجودہ صورت حال کی مثال گذشتہ تیس برسوں میں نہیں ملتی اور ان حالات میں صحیح اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے اندرونی یکجہتی اور اتحاد اور مختلف اداروں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے اور اگر اس نگاہ سے ملکی حالات کو توجہ دی جائے تو شاید ملک کے اندر بعض لوگوں کا موقف ـ جو اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ـ غیر اہم اور بے قدر و قیمت ہو جائے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اندرونی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام خمینی کی اکیسویں برسی میں عوام کے وسیع حضور کا حوالہ دیا اور فرمایا: خوش قسمتی سے عوام کی ہوشیاری اور کارکردگی نظام اسلامی کے دشمنوں اور مخالفین کی توقعات سے کہیں زیادہ مؤثر تھی اور عوام نے حقیقتاً بہت ہی اچھے کردار کا مظاہرہ کیا اور ثابت کرکے دکھایا کہ امام خمینی اور ان کے اہدف و مقاصد اور ان کے مکتب کے وفادار ہیں اور ان سے شدید محبت کرتے ہیں... شدید گرمی کے باوجود کئی گھنٹوں تک دسیوں لاکھ عوام نے برسی کے مراسمات میں شرکت کی اور اور میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کا انتہائی خلوص کے ساتھ ایران کی ملت عزیز کا شکریہ اور قدردانی کروں۔
رہبر انقلاب نے فرمایا: امام خمینی (رح) انقلاب اور دین اور اس کمال مطلوب کا مظہر ہیں جس کی طرف جانے کے لئے آپ نے اس ملت کو دعوت دی اور ہدایت و راہنمائی عطا کی اور امام (رح) کمال و ارتقاء کی منازل طے کرنے حوالے سے اس ملت کی اہلیتوں کے منادی تھی چنانچہ 21 سال بعد آپ کی برسی کے مراسمات میں عوام کی اس عظیم شرکت کا مطلب یہ ہے کہ ملت ایران امام اور امام کے کمال مطلوب کے حصول کے ہدف سے شدید محبت کرتی ہے اور اس کے لئے احترام کی قائل ہے... ملت ایران پر نشاط، با ایمان، اسلام کے معتقد، خوداعتماد اور اللہ تعال پر توکل کرنے والی ملت ہے اور اس طرح کی ملت کبھی بھی کمال و سعادت تک جانے کے راستے میں رک نہیں جاتی۔آپ نے فرمایا: ہمارے اراکین پارلیمان ایسی ہی ملت کے نمائندے ہیں اورجذباتی ـ منطقی محبت کے اظہار کے حوالے سے کردار ادا کرنے اور امام سے پیوستگی کے اظہار کے سلسلے میں گذشتہ سال بھی انتخابات کے میدان میں دنیا نے چارکروڑ عوام کی شرکت کا مشاہدہ کیا چنانچہ ان تمام میدانوں میں ملت کا کردار با معنی ہے اور ان کا یہ کردار ہم خدمت گزاروں کی ذمہ داریوں کو دو چند کردیتا ہے؛ اور اس کردار کے سامنے ہماری ذمہ داری صرف اس دنیا تک محدود نہیں ہے بلکہ خداوند متعال بھی ہم سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کے سلسلے میں پوچھے گا اور ہم خدا کے سامنے بھی جوابدہ ہونگے۔
آپ نے فرمایا: پارلیمنٹ کے اراکین اگرچہ سیاسی طرز عمل میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں تاہم پارلیمان کی ترکیبی ساخت شاداب، مؤمن، انقلاب، احساس ذمہ داری سے سرشار اور مسائل سے با خبر ہے چنانچہ پارلیمان کے اراکین قانون سازی کرتے وقت "کمال مطلوب کا حصول" اور "حقیقت پسندی" کی دو خصوصیات کو مدنظر رکھیں اورکمال مطلوب تک پہنچنے کے لئے حقائق کی روشنی میں راہ و روش وضع کریں۔ آپ نے فرمایا کہ ملکی قوانین میں پارلیمان اور حکومت کے فرائض واضح کردیئے گئے ہیں تا ہم ملک کی ضرورت حکومت اور پارلیمان کے درمیان قریبی تعاون ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: یہ جو کہا جاتا ہے کہ حکومت قانون پر علمدرآمد کرے، یہ بالکل درست ہے لیکن دوسری طرف سے قانون سازوں کو بھی حکومت کے حالات و حقائق کو مدنظر رکھنا چاہئے کیونکہ حکومت میدان کی بیچ کردار ادا کرتی ہے اور اس کے کام کو آسان کردینا چاہئے۔ آپ نے حکومت اور پارلیمان کے درمیان قریبی اور مخلصانہ تعاون کو اہم قرار دیا اور فرمایا: یہ تعاون سیاسی رجحانات سے بالاتر ہونا چاہئے کیونکہ اس تعاون کا تعلق انقلاب اور ملک سے ہے اور دو طرفہ تعاون اسی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ آپ نے فرمایا: عوام کی نمائندگی کا منصب ایک بڑی نعمت ہے اور اراکین کو اس نعمت اور مواقع کی قدر شناسی اور عوام کی خدمت کے لئے خصوصی اہتمام کرنا چاہئے۔........../110
- لندن میں "بابائے انقلاب" کانفرنس 2010 - 1