صہیونی ریاست نے غزہ کے باشندوں کے لۓ امدادی سامان لے جانے والے کاروان آزادی میں سے جن چارسو ستر افراد کو گرفتار کیا تھا ان میں سے ایک پریس ٹی وی کےصحافی حسن غنی بھی شامل تھے۔ صہیونی ریاست نے حسن غنی کو دو دن تک اپنی حراست میں رکھا اور بدھ کے دن انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے دو سو پچاس افراد کے ساتھ آزاد کردیا جہاں سے انھیں ترکی منتقل کیا گیا اور اب وہ تہران واپس پہنچ گئے ہیں۔
حسن غنی نے پریس ٹی وی کو بتایا ہے کہ صہیونی کمانڈوز نے ان کو اور کاروان کے دیگر ارکان کو گرفتار کرنے کے بعد ایسی دستاویزات پر دستخط کرنے کے لۓ دباؤ ڈالا جن میں یہ تحریر تھا کہ وہ صہیونی ریاست کی قلمرو میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں اور اب وہ مقبوضہ فلسطین سے جانے کی اجازت چاہتے ہیں۔
حسن غنی نے مزید بتایا کہ صہیونی کمانڈوز نے دھمکی دی تھی کہ ان دستاویزات پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں ان کو قید کردیا جائے گا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اور چند دیگر افراد نے ان دستاویزات پر دستخط کرنے کے انکار کر دیا اور آخرکار عالمی دباؤ کے باعث صہیونی ریاست ان کو آزاد کرنے پر مجبور ہوگئی۔
.......
/110