17 اگست 2010 - 19:30

اس مجسمے نے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں و اسرائیلیوں کو یکسان طور پر غضبناک کردیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ جنوری میں معاصر فنون کی نمائشگاہ "ارکو" کی انتیسویں نمائش میڈرڈ میں منعقد ہوئی جس میں ایک مجسمہ رکھا گیا تھا جو تمام آسمانی ادیان کی طرف سے توہین سمجھا گیا۔اس مجسمے میں ایک مسلمان کو سجدے کی حالت میں دکھایا گیا جس کی پشت پر دعا کرتا ہوا عیسائی ہوا دکھایا گیا ہے جبکہ عیسائیوں کے کندھوں پر ایک یہودی کھڑا کیا گیا جو تورات پڑھ رہا ہے!! اس مجسمے کے ساتھ ہی سات شاخوں والا ایک یہودی شمعدان ایک اسرائیلی ساخت کی بندوق "یوزی" کے نالے سے برآمد ہوا نظر آرہا ہے۔

یاد رهی که سات شاخون والا یهودی شمعدان بدنام زمانه صهیونی جاسوسی اداری کی رسمی علامت کا بهی حصه هی. 

3

یہودی ربی کا مسلم اور عیسائی کے اوپر قرار دینا، در حقیقت اسلام اور مسیحیت کی توہین ہے جبکہ یہودی علامت یعنی "شمعدان" کو بندوق کے ساتھ نتھی کرنے کی بنا پر صہیونی سفارتخانے نے اعلان کیا کہ یہ فنی اثر در حقیقت یہودیوں اور اسرائیل کی توہین ہے۔ اس مجسمے کے خالق"یوجینیو مورینو" نے اس مجسمے کو "آسمان کی جانب سیڑھیاں" کا نام دیا ہے۔ مورینو کا کہنا تھا کہ: ان کے اس کام کا مقصد توہین اور بے حرمتی نہیں ہے بلکہ اس نے کوشش کی ہے کہ دنیا کے تین آسمانی ادیان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی تصویر کشی کی جائے کیونکہ ان تینوں ادیان کے پیروکاروں کی کوششوں کا مقصد خدا کی قربت کا حصول ہے۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا خیال مورینو کے خیالات سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہی کہ اگر مورینو کا مقصد آسمانی ادیان کے در میان پرامن بقائے باہمی ہوتی تو وہ ان ادیان کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے اوپر بٹھانے کی بجائے انہیں ایک ہی صف میں قرار دیتا جبکہ ان تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوتے جبکہ اس مجسمے میں صہیونی یہودی کو ـ جس کا ہتھیار اور شمعدان بھی ساتھ رکھا ہوا ہے ـ دوسروں کے اوپر قرار دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا صہیونی دوسروں کی نسبت خدا سے قریب تر ہے اور مجسمہ ساز کے بقول خدا کی طرف جانے والی سیڑھیوں میں سب سے اوپر والی سیڑھی پر صہیونی کھڑا ہے اور پھر اوپر والے دو دینداروں کے نیچے ایک مسلمان کو قرار دیا گیا ہے!!!یاد رہے کہ یہ مجسمہ نمائش کا افتتاح ہوتے ہی پچاس ہزار یورو کے عوض بک گیا۔.................../110

1

2