1974ء اور 1975ء تنظیمی وسعت کے سال قرار پائے اور تنظیمی اسٹرکچر فیصل آباد‘ ملتان اور راولپنڈی میں قائم ہو گئے۔ 1976ء میں پہلی بار مرکزی سالانہ کنونشن جامعتہ المنتظر لاہور میں منعقد ہوا۔ تب سے یہ روایت آج تک جاری ہے۔ مرکزی کنونشن میں ملک بھر سے تنظیمی کارکنوں وعہدیداران اور سیاسی‘ سماجی‘ علمی‘ مذہبی شخصیات وطالبعلم رہنماء شریک ہوتے ہیں۔ 1974ء میں اس تنظیم کے فارغ التحصیل برادران نے سابقین پر مشتمل علیحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جس کا نام ”امایہ آرگنائزیشن پاکستان“ رکھا گیا جبکہ 1979ء میں اس کارواں کے شرکاء نے ملت جعفریہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے ”تحریک نفاذ فقہ جعفریہ“ کی بنیاد رکھی۔ 1980ء میں اسلام آباد میں حکومتی زیادتیوں کے خلاف سیکریٹریٹ کے گھیراؤ کی تحریک اور مطالبات کی منظوری کیلئے کفن پوش دستوں کی تشکیل اور انتظامات میں بھی آئی ایس او پاکستان کے نوجوانوں نے بنیادی ترین کام کیا۔ 1979ء میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں انقلاب برپا ہوا تو تنظیم نے اس انقلاب کے اثرات کو پیغام کی صورت میں قبول کیا۔ 1984ء میں علامہ سید عارف حسین الحسینی کی فعال قیادت جس کا امام خمینی کی ذات کے ساتھ گہرا تعلق تھا ملت جعفریہ پاکستان کی قیادت کا علم سنبھالا تو امامیہ نوجوانوں نے انہیں اپنا رہبر ورہنما تسلیم کیا۔ علامہ سید عارف حسین الحسینی نے استعمار کے ایجنٹ حکمرانوں کی سازش کو بھانپتے ہوئے ملک بھر میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کیلئے سردھڑ کی بازی لگا دی اور شیعہ وسنی مشترکہ اجتماعات وکانفرنسز کا انعقاد کیا گیا۔ آئی ایس او پاکستان نے شہید قائد کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنے تنظیمی نظم میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدامات کئے۔ اس حقیقت سے بھلا کیسے انکار ہو سکتا ہے کہ اس طلباء تنظیم کے تربیت یافتہ نوجوان عالمی حالات وواقعات‘ سیاست اور سازشوں کو سب سے بہتر انداز میں سمجھتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے میں اس پلیٹ فارم سے امت مسلمہ کے مسائل چاہے وہ فلسطین کا مسئلہ ہو یا لبنان کا‘ ایران پر زیادتی ہو یا بوسنیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان، آئی ایس او نے سب سے آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف آواز احتجاج بلند کی بلکہ عملی طور پر بھی خود کو پیش کیا۔ آج بھی دنیا بھر میں امت مسلمہ پر استعماری طاقتوں کے مظالم اور تجاوز کے خلاف آئی ایس او پاکستان صدائے احتجاج بلند کرتی دکھائی دیتی ہے۔ تحریک حمایت فلسطین‘ تحریک حمایت لبنان‘ غزہ کے مسلمانوں کے محاصرہ کے خلاف پہلی آواز بن کر سامنے آئی اور ہر سال جمعتہ الوداع کے روز کو بطور یوم القدس منانے کا آغاز اسی کارواں کے پلیٹ فارم سے ہوا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ہم اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ حق کا پرچم سربلند رکھنے کی اس راہ میں تنظیم کے بانی ڈاکٹر سید محمد علی نقوی نے جام شہادت نوش کیا۔ تنظیم کے دیگر رہنماؤں تنصیر حیدر‘ راجہ اقبال حسین‘ ڈاکٹر قیصر سیال اور بیسیوں کارکنان نے حیَّ علیٰ خیرالعمل کی صدا بلند کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا ہے۔ شہادت و سعادت کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ طالبعلموں کے تعلیمی مسائل‘ ان کی تعلیمی رہنمائی اور یونیورسٹیز و کالجز کے فاسد ماحول سے انہیں بچانے کیلئے‘ ان کی نظریاتی و فکری و روحانی تربیت کا سامان کرنے کیلئے اس کاروان الٰہی نے گزشتہ 38 برس میں سیکڑوں ورکشاپس‘ سیمینارز‘ اسکاؤٹ کیمپس‘ کنونشن اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا ہے۔ ہر سال یہ سلسلہ تسلسل سے جاری رہتا ہے۔ طالبعلموں کے باہمی جھگڑوں اور فسادات کے حل اور تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے تمام طلباء تنظیموں پر مشتمل ”متحدہ طلباء محاذ“ میں آئی این او نے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں اس اتحاد کی سربراہی بھی آئی ایس او پاکستان کے پاس رہی ہے۔
.......
/110
بشکریہ از برادر ظفر جعفری