17 اگست 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے اکیڈمک جہاد کے ممبران اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے محرومیوں ـ بالخصوص معنوی اور علمی محرومی ـ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ـ ایجنسی ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی گلپائگانی نے اتوار کے روز ملاقات کے لئے آنے والے اکیڈمک جہاد (جامعاتی جہاد "جہاد دانشگاہی") کے اہلکاروں  اور منتظمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: محرومیت کی مختلف قسمیں ہیں اور معاشی محرومیوں  کا خاتمہ اہم اور قابل توجہ ہے لیکن معنوی اور علمی شعبوں  میں بھی محرومیوں  کے خاتمے کے لئے کوشش کی جانی چاہئے۔ مرجع تقلید عالم تشیع نے فکری کمزوری کو بہت خطرناک قرار دیا اور کہا: لوگوں  کو اسلامی احکام کی تبلیغ و ابلاغ سے ان کو دینی اور معنوی حیات ملتی ہے اور یہ عمل مردوں  کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے محرومین کی مدد کرتے وقت، اس عمل میں اخلاص اور نیک نیتی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: محرومین کی ضروریات پوری کرتے احسان کرنے والے افراد کا مطمع نظر اللہ کی رضا ہونی چاہئے اور ان لوگوں  کو کافی و شافی مالی وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو عوام کی محرومیوں  کے خاتمے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ خاص طور پر محروم علاقوں  میں غربت و محرومی کے خاتمے کے لئے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جاسکیں۔ انھوں نے کہا: محرومین کو مدد پہنچانی کے لئے بپا کئے جانے والے امدادی کیمپوں  میں شریک ہونے والے افراد کو جان لینا چاہئے کہ ان کا عمل اللہ کی طرف ہجرت اور اس کی راہ میں جہاد کی ایک قسم ہے۔ انهوں  محروم علاقوں  کی محرومیاں دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ضروری ہے کہ سارے افراد سال میں 10 سے 15 دن محروم علاقوں  میں جاکر گذاریں  اور ان کی غربت و محرومی دور کرنے کی کوشش کریں۔ ........./110