17 اگست 2010 - 19:30

عراق کے بارے میں غاصب صہیونی ریاست کی پالیسیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عراق میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد غاصب اسرائیلی ریاست کے اہداف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

غاصب صہیونی ریاست عراق کے وسیع و عریض قدرتی ذخائر پر طمع کی نظریں گاڑے ہوئے ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ نہ صرف عراق کے حصّے بخرے کرنا چاہتی ہے بلکہ اسے علاقائی اور عالمی سیاست میں بھی تنہا کرنے کی خواہشمند ہے۔حال ہی میں غاصب صہیونی ریاست کی داخلی سلامتی کے ایک سابق وزیر آوی ڈیختر نے جو بیان دیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل عراق کے لئے کیا منصوبے رکھتا ہے؟سابق صہیونی وزیر ڈیختر نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے شمالی علاقے میں ایک علیحدہ کرد ریاست کا قیام اسرائیلی ریاست کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سابق صہیونی وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ ہماری حکومت کا بڑا ہدف یہ تھا کہ کردوں کی ہتھیاروں اور دیگر ذرائع سے بھرپور حمایت کی جائے اور ان کی ہر طرح کی فوجی تربیت اور مالی معاونت کی جائے تا کہ دنیا کے تیل کے ان عظیم ذخائر پر ایک کرد حکومت تشکیل پا سکے۔ ایوی ڈیختر نے عراق میں کرد ریاست کے قیام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مختصر یہ ہے کہ غاصب صہیونی ریاست عراق کو تقسیم کرکے ایک نئی کرد حکومت بنانے میں انتہائی سنجیدہ تھی اور اس نے اس حوالے سے متعدد اقدام بھی انجام دیئے ہیں۔سنہ 2003 میں جب امریکی فوجوں نے عراق پر قبضہ کیا تو غاصب صہیونی ریاست کو عراق کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کا سنہری موقع ہاتھ آگیا۔عراق پر امریکی حملے سے لیکر اب تک غاصب صہیونی ریاست نے نہ صرف بعض کرد رہنماؤں سے اپنے تعلقات استوار کئے بلکہ کرد علاقوں میں نئی نئی غیر ملکی کمپنیاں بھیج کر انہیں بھی یہی مشن سونپا ہے۔ اس وقت بھی ایک بڑی تعداد میں ملٹی نیشنل کمپنیاں تجارت، اقتصاد، طب، حتّی تیل نکالنے کے بہانے صہیونی اہداف کی تکمیل کررہی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کردستان میں مصروف عمل ان کمپنیوں کے نام غیر عبری اور عموماً عربی اور انگریزی ہیں لیکن ان کے پیچھے صہیونی ہاتھ کارفرما ہے۔یہ کمپنیاں سیکوریٹی کے سخت ترین حالات میں مصروف کار ہیں اور اس نفع بخش منڈی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔عراق کی تقسیم امریکہ کے ایجنڈے میں بھی شامل ہے لیکن اسرائیل کا کردار قدرے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ عراق پر امریکی قبضے کے دوران اسرائیل نے عراق میں اپنی پوزیشن کافی مستحکم کرلی ہے اور اسرائیل کے بعض کرد رہنماؤں سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ عراق میں اسرائیل کے حوالے سے ایک خاص حساسیت پائی جاتی ہے؛ عراقی عوام غاصب صہیونی ریاست کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں اور علاقے میں اسرائیلی پالیسی سے خوش نہیں ہیں لہذا غاصب صہیونی ریاست عربوں، انگریزوں اور حتّی کردوں کے روپ میں اپنے مقاصد آگے بڑھا رہی ہے۔عراق پر امریکہ کا تسلط اور قبضہ جتنا طویل ہوگا اس کا فائدہ غاصب صہیونی ریاست کو بھی پہنچے گا اور وہ اطمینان اور آسانی سے عراق کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر کام کرتی رہے گی لیکن اگر عراق سے امریکیوں کا فوجی انخلا ہوجاتا ہے تو اسرائیل کو درپیش مشکلات بڑھ جائیں گی یہی وجہ ہے کہ اسرائیل عراق پر امریکی قبضے کو مزید طول دینے کا قائل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ان ہی اہداف کی وجہ سے عراق کی سیاسی و مذہبی قیادت امریکی فوج کے فوری انخلا اور بیرونی مداخلت کے خاتمے پر زور دے رہی ہے۔ عراقی عوام اور قیادت کا کہنا ہے کہ باہمی اتحاد و یکجہتی سے ہی ملک کو غیر ملکی قبضے اور بیرونی مداخلتوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔اسرائیل نہ صرف عراق بلکہ تمام عالم اسلام کو کمزور کرنا چاہتا ہے وہ فلسطینی قیادت سے مذاکرات کی باتیں کرکے فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا چاہتا ہے اسرائیل کو اس بات کا یقین ہے کہ اگر فلسطین کے اندر سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت ختم یا کمزور ہوجاتی ہے تو وہ بیرونی محاذ پر زیادہ سرگرم عمل ہوسکتا ہے۔صہیونی پارلیمنٹ میں اسرائیل کی قید میں موجود فلسطینیوں کے خلاف جبر و تشدد کے بارے میں قانون سازی کی جارہی ہے اور صہیونی وزیر اعظم نے اس تشدد کو جاری رکھنے اور اس کو قانونی حیثیت دینے کی بات کی ہے ۔غاصب صہیونی ریاست نہ صرف مظلوم فلسطینی قیدیوں پر جبر و تشدد کے پہاڑ توڑ رہی ہے بلکہ اب قانونی شکل دے کر اس غیر انسانی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف اقدام کو قانونی اور آئینی بنانا چاہتی ہے۔غاصب صہیونی ریاست اس سے پہلے بھی مظلوم فلسطینی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتی چلی آرہی ہے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں قانون منظور ہونے کے بعد تو اس کو مزید آسانیاں میسر آجائیں گی۔ غاصب صہیونی ریاست نے انسانی حقوق سے متعلق بہت سے دیگر عالمی کنونشنوں کی طرح قیدیوں پر عدم تشدد کے بین الاقوامی کنونشن پر بھی دستخط نہیں کئے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ کسی بھی عالمی قانون یا  بین الاقوامی ادارے کی بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسرائیل کسی ملک کو تقسیم کرے یا اپنے زیر تسلط علاقوں میں اس ملک کے اصل باشندوں کو غیر انسانی جبر وتشدد کا نشانہ بنائے کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔ عالمی برادری تو یوں بھی خاموش ہے جبکہ عرب ممالک کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ ایسے میں فلسطین میں سرگرم عمل جہادی اور مزاحمتی تنظیموں سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ جہاد و استقامت کے بل بوتے پر نہ صرف اپنی سرزمین کو غاصبوں سے آزاد کرائیں بلکہ عالم اسلام کو بھی غاصب صہیونی ریاست کے شر سے محفوظ رکھنے میں اپنا لازوال کردار ادا کریں۔......../110