17 اگست 2010 - 19:30

قندھار میں نیٹو کے مجوزہ حملے کے پیش نظر جنوبی افغانستان میں تعینات فوجیوں کی کمان برطانوی فوج سے امریکی فوج کو دیدی گئي ہے ۔

اس تبدیلی کی وجہ یہ ہےکہ برطانوی فوجیوں کو طالبان کا ہمدرد سمجھاجاتاہے اور امریکیوں کو برطانوی جنرلوں پرااعتماد نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جارہاہے کہ جو علاقے برطانوی فوج کے کنٹرول میں ہیں وہاں برطانوی فوج نے خشخاش کی کاشت کی اجازت دی ہے اور بعض برطانوی فوجی منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ مارجہ کے گورنرنے جو کئي برسوں قبل طالبان سے الگ ہوئے تھے صراحتاکہا ہے کہ برطانوی فوجی طالبان سے تعاون کررہےہیں۔  .......اب یہ سوال الگ ہے کہ برطانوی فوج کی طالبان سے ہمدردی سے کیا طالبان کی حقانیت ثابت ہوتی ہے یا یہ کہ برطانیہ حال ہی میں مسلمان ہوگیا یا پھر یہ کہ طالبان برطانوی اہداف کے لئے کام کررہے ہیں اور برطانیہ طالبان کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کررہا ہے؟........

/110