17 اگست 2010 - 19:30

ترکی، برازیل، بھارت، اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس تنظیم اور ایٹمی انرجی ایجنسی نے تہران اعلامئے کی حمایت کردی ہے۔

یوکیا آمانو نے تہران اعلامئے کی حمایت کردی   ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیاآمانو نےایٹمی ایندھن کےتبادلے کےسلسلےمیں تہران اعلامیے کی حمایت کی ہے۔پریس ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق یوکیاآمانو نےجمعہ کےدن رومانیہ کےوزیرخارجہ پھیوڈرباکونسکی سےملاقات میں اطمینان ظاہرکیاکہ تہران ،  ترکی اوربرازیل کامشترکہ  اعلامیہ ایران کےایٹمی مسئلےکے حل میں غیرمعمولی مدد کرےگا۔آمانو نےاس ملاقات میں تاکید کی کہ توقع ہےکہ آئندہ ایک ہفتوں ميں ایران کےایٹمی ایندھن کےتبادلے کےسلسلےمیں عملی تفصیلات کےبارےمیں خط مل جائے۔ایران نے جمعہ کےدن اعلان کیاکہ وہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کو تہران اعلامیے کےبارےمیں مکمل تفصیلات سےآگاہ کرنےکاارادہ رکھتاہے۔ایران ترکی اوربرازیل نےپیرکےدن تہران میں ایک اعلامیے پردستخط کیاجس کی بنیاد پرایران نےکچہ شرطوں کےساتھ ترکی میں ایندھن کےتبادلے پراتفاق کیا۔اس اعلامیےکےمطابق ایران تہران کےتحقیقاتی ریئکٹرکےلئے  ایک سوبیس کیلوگرام ایٹمی ایندھن کےعوض تقریبابارہ سوکیلوگرام کم افزودہ یورےنیم ترکی منتقل کرےگا اوراس کےمقابلےمیں ترکی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایٹمی ایندھن کی منتقلی میں کسی بھی قسم کاخلل پیداہونےکی صورت میں ایران کاپورایورےنیم اسےواپس کردےگا۔روس ، چین ، ہندوستان ، پاکستان اورعمان جیسےمختلف ملکوں سمیت اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری جیسی شخصیتوں نےتہران اعلامیے کاخیرمقدم کیاہے۔ ترکی کااقوام متحدہ کی حمایت کامطالبہقبل ازیں ترکی کے وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کی جانب سے سہ فریقی تہران اعلامیے کی حمایت کا مطالبہ کیا تھا۔ فارس نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق ترک وزیرخارجہ نے سومالیہ کےبارےمیں اعلی سطحی کانفرنس میں شرکت کےلئے ترکی پہنچنےوالےاقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون سےمطالبہ کیاکہ وہ ایران کےایٹمی ایندھن کےتبادلےکےعمل کی حمایت کریں۔   ایران کیخلاف نئی پابندیوں کےسلسلےمیں اقوام متحدہ کو انتباہبرازیل کےصدر لوئيز ایناسیو لولا داسیلوا نے اسلامی جمہوریہ ایران کےخلاف نئی پابندیوں کےسلسلےمیں اقوام متحدہ کوخبردار کیاہے۔فرانس پریس کی رپورٹ کےمطابق داسیلوا نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سےمطالبہ کیاہے کہ وہ پیر کےدن جاری ہونےوالے تہران اعلامیے کےجواب میں ایران کےساتھ مذاکرات کےلئےآمادگی ظاہر کرے۔لولاداسیلوا نےبدہ کےدن میڈرڈ میں امریکہ کی جانب ایران کےخلاف نئی پابندیوں کےمسودہ قرارداد پرتنقیدکرتےہوئے کہاکہ یہ معاہدہ وہی چیز ہے جسےامریکہ پانچ سال پہلے حاصل کرناچاہتاتھاپیر کےدن ایران ، ترکی اوربرازيل کےوزرائےخارجہ کےدرمیان ہونےوالے ایٹمی معاہدے کےمطابق ایران ایک سوبیس کیلوگرام بیس فیصدافزودہ یورےنیم کے عوض ، بارہ سوکیلوگرام کم افزودہ یورےنیم ترکی منتقل کرےگا۔واضح رہے کہ مذکورہ ایٹمی ایندھن کینسرکےمریضوں کےلئے دوائيں تیارکرنےکےلئے تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر میں استعمال ہوگا۔  برازیل کو ایران پر پابندیاں نامنظور      برازیل کےصدر لوئیس ایناسیولولا داسیلوا نےایران کےخلاف نئی پابندیاں عائد کرنےکی امریکی تجویزکی مخالفت کی ہے۔ہمارےنمائندے کی رپورٹ کےمطابق لوئیس داسیلوا نےکہاکہ تہران اعلامیے نےواضح کردیاکہ وہ مذاکرات چاہتاہے بنابرایں طاقتورملکوں کوبھی اپنےمعاہدوں پرعمل درآمد کےلئے ایران کےساتھ مذاکرات کرناچاہئے۔برازیل کےصدرنے مزید کہاکہ وہ  ایران کےخلاف پابندیوں کےمخالف ہيں کیونکہ اس پالیسی کاکوئي اثرہونےوالا نہیں ہے۔ایران ، برازیل اورترکی نےپیر کےدن تہران میں ایٹمی ایندھن کےتبادلےکےبارےمیں ایک اعلامیہ جاری کیا۔تہران کےایٹمی اعلامیے کےایک دن بعد امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نےکہاکہ ان کاملک ایران کےخلاف پابندیاں عائد کرنےکےلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےمستقل اراکین کےساتھ اتفاق کرچکاہے۔   اب کہنےکےلئےکچہ نہیں رہ گیا      آج تہران کی مرکزی نمازجمعہ آیت اللہ احمد جنتی کی امامت میں  ادا کی گئی۔تہران کےخطیب نمازجمعہ نےکہا کہ تہران اعلامیے کےبعد مغربی ممالک کےپاس کہنےکےلئےکچہ نہيں رہ گیاہے۔آيت اللہ احمد جنتی نےآج نمازجمعہ کےخطبوں میں تہران اعلامیے کی جانب اشارہ کرتےہوئے تاکید کی کہ وہ لوگ جوایران پرایٹمی ہتھیاروں کےحصول کاالزام لگاتے تھے سمجہ گئےہيں کہ حقیقی ترک اسلحہ کرنےوالاملک ایران ہے نہ کہ امریکہ ۔ اوربانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کےبقول امریکہ دنیامیں ایٹمی ہتھیاراستعمال کرنےکاپہلامجرم ہے۔ آیت اللہ جنتی نےیاد دہانی کرائی کہ تہران اعلامیے کی بنیاد پرایران ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں بارہ سوکیلوگرام یورےنیم،امانت کےطورپر ترکی کودےگا اورمغربی ممالک کو افزودہ یورےنیم پرامن مقاصدکےلئے ایران کےحوالے کرناپڑےگا۔تہران کےخطیب نمازجمعہ نےکہاکہ اگرمغربی ممالک اپنےمعاہدوں کی پابندی نہیں کریں گےتو اس کھیپ کو ترکی سےفورا ایران واپس کیاجائے۔  ہندوستان بھی تہران اعلامیےکاحامی      دنیاکےمختلف ممالک کی جانب سےتہران کےایٹمی اعلامیے کی حمایت کاسلسلہ جاری ہے۔پرس ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق ہندوستان نےتہران اعلامئے کاخیرمقدم کرتےہوئےاسےتعمیری قدم قراردیاہے۔ہندوستانی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نےتہران اعلامئےکوتعمیری قراردیتےہوئےکہاہے کہ عالمی برادری کی جانب سےاس کی حمایت ہونی چاہئے۔ایکونومیک ٹائمزنے ہندوستانی وزیرخارجہ کےحوالےسےلکھاہے کہ ایران نے افزودہ یورےنیم ترکی بھیجنےکاجوفیصلہ کیاہے وہ میری نظرمیں ایک تعمیری قدم ہے۔ ہندوستانی وزیرخارجہ نےکہاکہ کہ اس بات کی کوشش کرنی چاہئےکہ ایران براہ راست ایٹمی انرجی  کی عالمی ایجنسی کےساتھ تعاون کرے تاکہ اصلی راستے پرواپس آسکے۔ ہندوستانی وزیرخارجہ نےایران کےساتھ گہرےتعلقات رکھنےکی ہندوستان کی شدیدخواہش پرتاکید کی۔ ہندوستانی وزیرخارجہ نےاس سوال کےجواب میں کہ ہندوستان کی جانب سےتہران اعلامیے کی حمایت کامطلب ایران کےایٹمی معاملےمیں امریکی پالیسیوں سےعدم اتفاق ہے، کہاکہ امریکہ کی اپنی خارجہ پالیسی ہےاورہندوستان اپنی خارجہ پالیسی پرعمل کرتاہے۔     اوآئی سی کی جانب سےتہران اعلامئے کی حمایت      اسلامی کانفرنس تنظیم نےتہران اعلامئے کی حمایت کی ہے۔وزیرخارجہ منوچہرمتکی نےکہاہے کہ او آئی سی کےوزرائےخارجہ کےاختتامی اعلامیےمیں تہران اعلامیئےکی حمایت کی گئی ہے۔ارنا کی رپورٹ کےمطابق منوچہرمتکی نےتاجکستان سے تہران کےلئےروانہ ہونےسےقبل صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےکہاکہ اسلامی کانفرنس تنظیم کےجنرل سکریٹری اوراس کےاراکین کی جانب سےاس اجلاس میں ایٹمی ایندھن کےسلسلےمیں تہران اعلامیۓ کی حمایت بھی اہم تھی کہ اس مسئلےسے ایٹمی مسائل میں تہران کےمنطقی موقف کی عکاسی ہوتی ہے۔منوچہرمتکی نےکہاکہ او آئی سی کےوزرائےخارجہ کےاجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بارہ تجاویزکوکہ جس میں دہشتگردی کےخلاف جدوجہد ، امن،  عالمی سیکورٹی اورپابندیوں کی جانب اشارہ کیاگیاہے منظورکرلیاگیا ہے۔واضح رہے کہ اسلامی کانفرنس تنظیم کے وزرائےخارجہ کاسینتیسواں اجلاس اٹھارہ مئی کو تاجکستان کےدارالحکومت دوشنبہ میں ہوا۔ اس اجلاس میں ستاون ملکوں کےنمائندہ وفود نےشرکت کی۔ 

جوہری ڈیل سے ایران تنازعہ طے کرنے میں مدد ،بان کی مون اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق ترکی اور برازیل سے طے پائے معاہدے سے اس کے جوہری تنازعے کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔بان کی مون نے جمعہ کو ترکی کے شہر استنبول میں ایک تقریر میں کہا کہ گذشتہ سوموارکو ایران، ترکی اور برازیل کے درمیان افزودہ یورینیم کے تبادلے سے متعلق معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے اوراس سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی کشیدگی ختم ہوگی اور تنازعے کوپرامن طریقے سے حل کیا جاسکے گا۔ تقریر کے مسودے کے مطابق بان کی مون نے برازیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری تنازعے کو حل کرنے کے لیے ترکی کے کردار کوسراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے دوسرے اقدامات کے نتیجے میں تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کے دروازے کھلیں گے۔گزشتہ سوموارکو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ایران کوجوہری ایندھن کی فراہمی کے سلسلہ میں برازیل اور ترکی کی کوششوں کو حوصلہ افزا قرار دیا تھا۔بان کی مون نے ایران کے جوہری تنازعے کو پرامن طریقے سے طے کرنے کے لیے ترکی کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ ترکی ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی مزید پابندیوں کا مخالف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری تنازعے کے حل کے لیے اپنے سیاسی عزم کا اظہارکرچکا ہے۔مذکورہ تینوں ممالک کے درمیان ڈیل کے باجود امریکا نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرنے کے لیے گذشتہ منگل کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں ایک قراردادکا مسودہ تقسیم کیا ہے۔امریکی صدر براک اوباما کا کہناہے کہ واشنگٹن قراردادکو منظورکرانے کی کوشش کرے گا کیونکہ تہران پراعتبار نہیں کیا جاسکتا۔نئی قراردادکے تحت ایران پراسلحے کی خریدوفروخت پر پابندی لگائی جائے گی اوراس کے بنک کاری شعبے کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔نیز اس پربیرون ملک یورینیم کو ذخیرہ کرنے اوربیلسٹک میزائلوں کی تیاری پربھی پابندی ہوگی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل رکن ممالک امریکا،برطانیہ،فرانس،چین اورروس اورغیر مستقل رکن جرمنی نے کئی ماہ کی بات چیت کے بعد مجوزہ قرارداد کے دس صفحات پرمشتمل جس مسودے سے اتفاق کیا ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری یا میزائل پروگرام سے متعلق سامان سے لدے بحری جہازوں کا بین الاقوامی معائنہ کیا جاسکے گا۔ ایران اس قراردادکو مسترد کرچکا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام غیر فوجی مقاصد کے لیے ہے جبکہ وہ یورینیم کی افزودگی کو معطل کرنے سے انکار کرچکا ہے۔