امریکی صدرباراک اوباما کی جانب سے نیشنل سیکیورٹی مشیر جم جونز اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کو اسی لیے پاکستان بھیجا گیا تھا کہ وہ حکومت پرزوردیں کہ وہ پاکستانی طالبان کا گھیراتنگ کرے اوان کے خلاف کارروائی کرے۔لیکن امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے پینٹاگون میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ واشنگٹن اس امر پرتوجہ مرکوز کررہا ہے کہ دونوں ممالک کودرپیش دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مزید تعاون بڑھایا جائے۔امریکا پاکستان کی سوچ میں تبدیلی کی بجائے تعاون کے پہلو پرغورکررہاہے۔ادھر امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی ایک سال پہلے اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ شمالی وزیرستان میں کارروائی کے اپنے مشن پرعمل درآمدکریں گے۔لیکن آپریشن کے وقت کافیصلہ پاکستان کوکرناہے۔انھوں نے کہا کہ انھیں پاکستان کے مسائل کا احساس ہے، پاکستانی فوج پہلے ہی دوسرے قبائلی علاقوں میں آپریشن میں مصروف ہے۔
.........
/110