ویب سائٹس پر پابندی کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال میں گزشتہ دو روز کے دوران بیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق گزشتہ روز ’فیس بُک‘ کے ان حصوں کو بند کردیا گیا تھا جن پر پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق تمام متعلقہ آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یوٹیوب پر بڑھتے ہوئے قابل اعتراض مواد کی اشاعت کے پیش نظر اس ویب سائٹ کو بند کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے اس مواد (فیس بک پر پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا مقابلہ) کے خلاف یوٹیوب اور فیس بک پر دستیاب باقاعدہ چینلز سمیت احتجاج کا ہر ممکن طریقہ اپنایا کہ وہ قابل اعتراض مواد کی اشاعت سے گریز کریں۔لیکن بیان کے مطابق وقت کے ساتھ اس مواد کی اشاعت میں اضافہ ہوتا گیا لہذا اس صورت حال کے پیش نظر پی ٹی اے نے ان ویب سائٹس کو پاکستان میں مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان میں دو سال قبل سنہ دو ہزار آٹھ میں یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کی وجہ سے جزوی پابندی عائد کی گئی تھی۔پی ٹی اے کے مطابق انہوں نے قابل اعتراض مواد کے باعث اب تک ساڑھے چار سو لنکس بند کر دیے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ قدم پاکستان کے آئین، لوگوں کی خواہشات اور ہائی کورٹ اور حکومت کے احکامات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔پی ٹی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ فیس بک اور یوٹیوب کی انتظامیہ کا رویہ ڈبلیو ایس آئی ایس کی قراداد اور ان کی ان پالسیوں کے برعکس ہے جو انہوں نے عوام کے لیے اپنی ویب سائٹس پر مشتہر کی ہیں۔پی ٹی اے نے مزید کہا ہے کہ اس معاملے کا فوری حل نکالنے کے لیے فیس بک اور یو ٹیوب کے متعلقہ اہلکاروں کی طرف سے پی ٹی اے کے ساتھ رابطے کا خیر مقدم کریں گے تا کہ مذہبی ہم آہنگی اور احترام کو یقینی بنایا جا سکے۔یوٹیوب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور سروس کی جلد از جلد بحالی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں‘۔نیا ٹیل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے مقبول ہونے کے بعد سے اس کے استعمال میں اتنی اچانک کمی کی مثال نہیں ملتی۔’دو برس قبل بھی یو ٹیوب پر عارضی پابندی لگی تھی لیکن اس وقت بھی انٹرنیٹ ٹریفک میں اس قدر کمی ریکارڈ نہیں ہوئی تھی۔‘وہاج السراج کے مطابق انٹرنیٹ کے استعمال میں اس کمی کے باعث انٹرنیٹ کمپنیوں کی آمدنی پر کچھ خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ ان دونوں ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے والے زیادہ تر افراد براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جس کا بل ماہانہ ادا کیا جاتا ہے۔وہاج نے بتایا کہ انہوں نے ان دونوں ویب سائیٹس پر پابندی ٹیلی کام صنعت کو ریگولیٹ کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے حکم پر عائد کی گئی ہے۔’دو روز قبل پی ٹی اے نے حکم دیا تھا کہ فیس بک کو بلاک کر دیں اور بدھ کی رات اسی طرح کا حکم یو ٹیوب پر چلنے والی بعض ویڈیوز کے بارے میں آیا لیکن تھوڑی دیر ہی میں ایک نیا حکم آ گیا کہ یوٹیوب کی پوری ویب سائٹ ہی کو بلاک کر دیں کیونکہ اس پر ناشائستہ اور غیر قانونی مواد شائع اور نشر کیا جا رہا ہے۔‘
......
/110