8 نومبر 2026 - 16:43
ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کے امریکی دباؤ کو دوٹوک طور پر مسترد کرتے ہیں

عراق کی پارلیمنٹ میں بدر دھڑے نے ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کے لیے امریکی دباؤ اور مداخلت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بند کی گئی سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں۔

خبر رساں ایجنسی ابنا کے مطابق، بدر پارلیمانی دھڑے نے اتوار کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے عراق کے وزیر خارجہ کے حالیہ انکشافات پر ردعمل ظاہر کیا، جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ مشترکہ سرحدیں بند کرنے کے لیے امریکی مطالبات اور دباؤ کا ذکر کیا تھا۔

بدر دھڑے نے اپنے بیان میں کہا کہ عراقی وزیر خارجہ کے انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ایسے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جو عراق کے آزادانہ اور خودمختار فیصلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ عراق ایک مکمل خودمختار ملک ہے اور اس کی عوام اور سیاسی قوتیں کسی کو بھی ملکی خودمختاری پامال کرنے یا عراق کو ایسے بیرونی منصوبوں کے تابع بنانے کی اجازت نہیں دیں گی جو قومی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوں۔

بدر دھڑے نے مزید کہا کہ بغداد اور تہران کے تعلقات گہرے اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہیں۔ عراق کو ایران کے خلاف اقتصادی محاصرے کے منصوبے کا حصہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات میں عراق کی شرکت دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کے منافی ہوگی۔

بدر دھڑے نے اہم سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے معاشی اور سماجی اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً صوبہ میسان میں واقع الشیب سرحدی گزرگاہ کی بندش سے شہریوں کو روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بیان میں اس امر پر بھی اعتراض کیا گیا کہ پابندیاں صرف جنوبی سرحدی گزرگاہوں پر عائد کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر راستوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ بدر دھڑے نے اسے دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے اس پالیسی پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

بدر پارلیمانی دھڑے نے حکومتی اتحاد، کوآرڈینیشن فریم ورک اور عراق کی تمام سیاسی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرونی مداخلت کے خلاف متحد ہو کر قومی مؤقف اختیار کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو واضح پیغام دیا جانا چاہیے کہ عراق کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور کسی بھی ملک کو عراق کے سیاسی و اقتصادی فیصلوں میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔

بدر دھڑے نے عراقی حکومت پر زور دیا کہ وہ علاقائی تنازعات سے دور رہنے کی پالیسی پر قائم رہے اور عراق کو ایسی پالیسیوں کی طرف نہ دھکیلا جائے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

بیان کے اختتام پر عراقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بند کی گئی سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں اور بیرونی دباؤ کے بجائے عوامی مفادات اور قومی خودمختاری کو ترجیح دی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha