اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ڈیزل عالمی توانائی منڈی میں بحران کی ایک اہم علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ اس ایندھن کی رسد میں کمی اور قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہونے سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس بحران کے اثرات نقل و حمل، بحری تجارت، زراعت اور صنعت سمیت معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں عالمی سطح پر ڈیزل اور کم سلفر والے ڈیزل (گیس آئل) کی رسد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں یومیہ تقریباً 15 لاکھ بیرل کم رہی۔ رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں یہ کمی بڑھ کر یومیہ 17 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی۔
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یورپ اور امریکہ میں ڈیزل کی تھوک فروخت کی قیمت تقریباً 220 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ سنگاپور میں یہ قیمت 200 ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ اس طرح عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت خام تیل کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہوگئی ہے۔
ستمبر کے دوران عالمی سطح پر ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں یومیہ تقریباً 7 لاکھ بیرل کم ہوئیں۔ اسی طرح روس اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی برآمدات میں یومیہ تقریباً 13 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گھٹ کر تقریباً 8 لاکھ 20 ہزار بیرل رہ گئیں۔
امریکہ میں بھی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 11 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ڈیزل سمیت دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 13 فیصد کم تھے۔
امریکہ میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت 6.30 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو 1994 میں اس حوالے سے اعداد و شمار جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین اسمی قیمت ہے۔
اس کے برعکس، امریکہ میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 97 فیصد تک پہنچ گئی۔ جنوری سے اگست 2026 کے دوران ڈسٹلیٹ ایندھن کی اوسط پیداوار یومیہ تقریباً 50 لاکھ بیرل رہی، جو 2019 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
آبنائے ہرمز؛ رسد کے بحران میں اضافے کا اہم سبب
عالمی توانائی کی تجارت میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث اس راستے سے ایندھن کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گزشتہ سال اس آبنائے سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں، جو دنیا میں سمندری راستوں سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ ان میں سے تقریباً 80 فیصد کھیپیں ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی تھیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی پر نظر رکھنے والے ادارے ’’کپلر‘‘ کے سینئر تجزیہ کار جارج شو کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق مشرق وسطیٰ میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت میں کمی اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ سے ہے۔ ان عوامل نے عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
جارج شو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ منڈی میں رسد پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور کشیدگی برقرار رہنے کے ساتھ سمندری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
تاہم، ان کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا اثر طلب پر بھی پڑتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں یورپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کے استعمال میں کمی بھی دیکھی جاتی ہے۔
اس تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اگر یہ بحران برقرار رہا تو نقل و حمل، پیداوار اور بحری تجارت کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اور مہنگائی کی شرح متاثر ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل ایک بنیادی ایندھن ہے اور معیشت کے وسیع شعبے اس پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں۔
صارفین قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اٹھانے پر مجبور
جارج شو نے مزید کہا کہ فرانس اور جرمنی سمیت بعض ترقی یافتہ معیشتوں نے صارفین کو قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا راستہ اختیار کیا ہے۔
دوسری جانب تیل صاف کرنے والی کمپنیوں کو منافع کے بڑھتے ہوئے فرق سے فائدہ پہنچ رہا ہے، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا اصل بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایندھن کی رسد کے مستقبل کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ روس اور یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے بھی ڈیزل کی عالمی منڈی میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ