اہل بیت (ع) کی بین الاقوامی خبررساں ایجنسی ابنا کے مطابق، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان میں خطے کے بعض ممالک، بالخصوص بحرین، سعودی عرب اور کویت میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک، ہراسانی اور ناروا برتاؤ سے متعلق اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی وقار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی تمام اقدامات کی مذمت کی ہے۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان کے ایک حصے میں کویت کی حکومت، عدالتی حکام اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ ممتاز دینی اور سماجی شخصیات کے خلاف جاری کیے گئے فیصلوں پر فوری اور منصفانہ نظرثانی کی جائے، ان فیصلوں کو منسوخ کرنے اور ملزمان کے قانونی و عدالتی حقوق کی ضمانت دینے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ بیان میں اس حوالے سے منصفانہ عدالتی کارروائی کے فقدان، ملزمان کے حقِ دفاع کی مکمل پاسداری نہ ہونے اور عدالتی عمل میں پائے جانے والے ابہامات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
اسمبلی نے ممتاز دینی و قومی شخصیت، فاضل عالم حضرت آیت اللہ شیخ حسین معتوق، جو دینی مدارس میں اعلیٰ سطح کے استاد اور عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے فعال اور مؤثر رکن ہیں، نیز اس شعبے کی دو دیگر ممتاز اور سرگرم شخصیات کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کی بھی سخت مذمت کی ہے۔ اسمبلی نے اس فیصلے کی منسوخی اور مقدمے کی منصفانہ اور آزادانہ عدالتی کارروائی کے تحت ازسرِنو سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
اس بیان کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’اور تمہارے پروردگار کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ ظالم بستیوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ بے شک اس کی گرفت دردناک اور سخت ہوتی ہے۔‘‘ [سورۂ ہود: ۱۰۲]
صدق اللہ العلی العظیم
اسلام کی بلند پایہ تعلیمات اور قرآن کریم کے بنیادی احکام و نبوی سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، مسلمانوں کے حقوق کے دفاع اور مظلوموں کی حمایت کی دینی و انسانی ذمہ داری کے پیش نظر، اور اس بنیادی اصول پر یقین رکھتے ہوئے کہ کوئی مسلمان اپنے دینی بھائی پر ہونے والے ظلم کے مقابلے میں لاتعلق نہیں رہ سکتا؛
اس اعتقاد کے ساتھ کہ دین خیرخواہی اور خلوص کے ساتھ نصیحت کرنے کا نام ہے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس صریح فرمان کو یاد رکھتے ہوئے کہ ’’تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے، اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے اسے روکے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اسے روکے‘‘؛ نیز آپ کے اس ارشاد کی روشنی میں کہ ’’سب سے افضل جہاد ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا ہے‘‘؛
انسانی وقار اور انسانی جان کے احترام، بالخصوص مسلمانوں کے خون کی حرمت کے تحفظ میں حکمرانوں، صاحبانِ اقتدار اور فیصلہ سازوں کی شرعی و اخلاقی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے؛ اس حرمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جسے اسلامی تعلیمات میں نہایت بلند مقام حاصل ہے اور جسے خانۂ کعبہ کی حرمت سے بھی برتر قرار دیا گیا ہے؛ نیز اس حقیقت کی یاددہانی کراتے ہوئے کہ کسی بے گناہ انسان کا خون بہانا اور اس کی جان لینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے حرام کاموں میں سے ہے، اور قرآن کریم نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا ہے؛
اسلام کے مقدس دین میں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی حقوق کے معاہدوں و ضوابط، بشمول حقِ زندگی، شخصی تحفظ، شخصی آزادی، آزادیِ عقیدہ و اظہار اور عوامی زندگی میں شرکت کے حق کو بنیاد بناتے ہوئے؛ نیز ہر قسم کی غیر قانونی پابندیوں، من مانے گرفتاریوں، افراد کو حقِ دفاع سے محروم کرنے اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں کے خلاف اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے؛
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے مسلسل مشن اور اس طرزِ عمل کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جس کے تحت وہ مسلمانوں، بالخصوص پیروانِ مکتب اہل بیت (ع)، کو قوانین و سماجی ضوابط کی پابندی، قومی ہم آہنگی اور اسلامی وحدت کے اصولوں سے وابستگی، قومی و بین الاقوامی سطح پر پرامن بقائے باہمی کے فروغ، ادیان، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی توسیع، نیز تشدد، انتہا پسندی اور نفرت انگیزی کے خاتمے کی دعوت دیتی ہے؛
خطے اور عالم اسلام کی اقوام، بالخصوص فلسطین، ایران، لبنان اور دیگر ممالک کے مظلوم عوام کے خلاف صہیونی اور سامراجی جارحیت اور معاندانہ اقدامات، نیز ثقافتی یلغار، اقوام کی شناخت کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل و دولت کو لوٹنے کی تسلط پسندانہ کوششوں کے پیش نظر، مشترکہ دشمن کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے، صفوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور داخلی اختلافات و تنازعات کو ہوا دینے سے گریز کی ضرورت پر زور دیتے ہیں؛
اسلامی معاشروں میں عقیدے، مذہب، فکر اور سیاسی رجحانات کے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے، دین، مذہب، عقیدے، فکر اور سیاسی وابستگی کی آزادی کے تحفظ، نیز تمام افراد کے لیے مذہبی مناسک اور شعائر کی آزادانہ ادائیگی کے حق کی پاسداری کو ضروری سمجھتے ہوئے؛
اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی، پیروانِ مکتب اہل بیت (ع) کی شناخت، ان کے معاشروں، اداروں اور حقوق کا دفاع، سماجی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور اسلامی معاشروں میں پرامن بقائے باہمی کے دائرے میں اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں شمار کرتی ہے؛
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی اپنے مؤقف اور مطالبات کا اعلان درج ذیل نکات کی صورت میں کرتی ہے:
۱۔ عالم اسلام کے ممالک، بالخصوص مغربی ایشیا اور جزیرہ نمائے عرب کے خطے میں قومی وحدت کو مضبوط بنانا ایک ناقابلِ انکار ضرورت ہے۔ اس مقصد کا حصول تمام اسلامی معاشروں، بشمول پیروانِ مکتب اہل بیت (ع)، کے حقوق کا مکمل احترام اور فرقہ وارانہ تعصبات، مذہبی امتیاز اور تفرقہ انگیز رویوں پر مبنی ہر قسم کے برتاؤ سے اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔
۲۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی خطے کے بعض ممالک، بالخصوص بحرین، سعودی عرب اور کویت میں امتیازی سلوک، ہراسانی اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر ناروا برتاؤ سے متعلق اطلاعات پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے اور انسانی وقار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے۔
اسی تناظر میں خطے میں شیعہ شہریوں، دینی علما، خطبا، واعظین اور دانشوروں کی من مانے انداز میں گرفتاریوں، بالخصوص ممتاز سماجی شخصیات اور کویت کی قومی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاریوں، نیز فرقہ وارانہ رویوں پر مبنی جابرانہ اقدامات کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔
اس طرح کے اقدامات نہ صرف افراد کے انسانی وقار اور دینی و اعتقادی شناخت کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ ان کے سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ شہری حقوق، قانون کے سامنے مساوات، آزادیِ عقیدہ اور عوامی زندگی میں منصفانہ شرکت جیسے بنیادی اصولوں کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ تعصبات، عداوت اور مذہبی نفرت انگیزی کا فروغ نہ صرف حکومت اور عوام کے درمیان خلیج کو گہرا کرتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی استحکام کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے اور اہل ایمان کے احترام و وقار کو مجروح کرتا ہے۔
اس سلسلے میں ہم صاحبانِ اقتدار اور عوامی امور کے ذمہ داران کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ نورانی فرمان یاد دلاتے ہیں:
’’جو شخص اس امت کے کسی معاملے کی ذمہ داری سنبھالے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اور ان کے ساتھ عدل و انصاف سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔‘‘
۳۔ اسلامی معاشروں میں مذہبی، فرقہ وارانہ اور فکری تنوع ایک ناقابلِ انکار حقیقت اور امتِ مسلمہ کی تاریخی و سماجی شناخت کے بنیادی عناصر میں سے ہے۔ اس بنا پر پیروانِ مکتب اہل بیت (ع)، اس مکتب کے علما، خطبا، واعظین اور مبلغین بھی دیگر شہریوں کی طرح اپنے ذاتی اور بنیادی حقوق رکھتے ہیں۔ ان حقوق میں آزادیِ عقیدہ و اظہار، مذہبی مناسک اور شعائر کی آزادانہ ادائیگی، اور سماجی، ثقافتی و سیاسی میدانوں میں فعال اور مساوی شرکت کا حق شامل ہے۔ مذہبی اور اعتقادی وابستگی کی بنیاد پر ان سے ان میں سے کوئی حق سلب نہیں کیا جا سکتا۔
۴۔ ہم خطے کے ممالک کے متعلقہ حکام اور اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ منصفانہ اور جامع طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے شیعہ معاشروں کے لیے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور قومی شعبوں میں مؤثر اور شایستہ شرکت کے مواقع فراہم کریں، اور اپنے ممالک اور معاشروں کی خدمت کے لیے ان کی گراں قدر صلاحیتوں، تعمیری کردار اور ذمہ دارانہ ماضی سے فائدہ اٹھائیں۔
۵۔ ہم کویت کی حکومت، عدالتی حکام اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ممتاز دینی اور سماجی شخصیات کے خلاف جاری کیے گئے فیصلوں پر فوری اور منصفانہ نظرثانی کریں، ان فیصلوں کو منسوخ کرنے اور ملزمان کے قانونی و عدالتی حقوق کی ضمانت دینے کے لیے ضروری اقدامات کریں؛ بالخصوص اس لیے کہ منصفانہ عدالتی کارروائی کے فقدان، ملزمان کے حقِ دفاع کی مکمل پاسداری نہ ہونے اور عدالتی عمل میں پائے جانے والے ابہامات کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔
اسی تناظر میں ہم ممتاز دینی و قومی شخصیت، فاضل عالم حضرت آیت اللہ شیخ حسین معتوق، جو دینی مدارس میں اعلیٰ سطح کے استاد اور عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے فعال اور مؤثر رکن ہیں، نیز اس شعبے کی دو دیگر ممتاز اور سرگرم شخصیات کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس فیصلے کی منسوخی اور مقدمے کی منصفانہ و آزادانہ عدالتی کارروائی کے تحت ازسرِنو سماعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہم کویت کے حکام کو یہ بات بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ اس ملک کی شیعہ برادری نے ہمیشہ کویت کی آزادی، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں ذمہ دارانہ، باوقار اور محبِ وطن کردار ادا کیا ہے۔ اپنے وطن کے دفاع اور دیگر ہم وطنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ان کی قربانیاں اور مؤقف، بالخصوص کویت پر عراق کے فوجی حملے کے دوران ان کا کردار، اس ملک کی تاریخ کا ناقابلِ انکار حصہ ہے۔ مناسب ہے کہ اس قابلِ فخر ماضی کو منصفانہ طرزِ تعامل، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کی بنیاد بنایا جائے۔
۶۔ ہم عالم اسلام کے ممتاز علما، مفکرین، ثقافتی و ذرائع ابلاغ کے شعبوں سے وابستہ شخصیات، دینی اور انسانی حقوق کے اداروں، اقوام اور دنیا کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مظلوموں کی حمایت، تمام مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق کے دفاع اور مذہبی، فکری و سیاسی امتیاز کی ہر شکل کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنی قانونی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں درست طور پر ادا کریں اور انسانوں کے بنیادی حقوق و آزادیوں کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہ رہیں۔
۷۔ یہ اپیل انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں، تنظیموں اور نظام ہائے کار، بالخصوص اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں سے بھی ہے کہ وہ ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس نوعیت کے من مانے اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے اقدامات کی مذمت کریں۔ نیز کویت اور دیگر متعلقہ حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ وہ غیر منصفانہ فیصلوں اور اقدامات پر نظرثانی، منصفانہ عدالتی اصولوں کی پاسداری، شہریوں کے حقوق کی ضمانت اور امتیازی و فرقہ وارانہ تعصبات پر مبنی پالیسیوں اور رویوں سے اجتناب کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔
بلاشبہ شہریوں کے بنیادی حقوق و آزادیوں کا تحفظ، مذہبی و اعتقادی تنوع کا احترام اور ہر قسم کے امتیازی سلوک کا مقابلہ، معاشروں میں عدل، استحکام، یکجہتی اور پائیدار امن کے قیام کے اہم ترین تقاضوں میں سے ہیں۔
آخر میں ہم تمام افراد کو اللہ تعالیٰ کے اس ابدی فرمان کی یاددہانی کراتے ہیں، جس میں امانتوں کی ادائیگی اور عدل و انصاف کے قیام کا حکم دیا گیا ہے:
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ اللہ تمہیں کیا ہی عمدہ نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ [سورۂ نساء: ۵۸]
آپ کا تبصرہ