1 نومبر 2026 - 16:32
ایپسٹین کیس؛ ٹرمپ کو وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف مقدمے میں دوسری بار شکست

امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دوسری بار خارج کر دیا ہے۔ جج نے قرار دیا کہ ٹرمپ کے وکلا کے دلائل امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہیں اور وہ اخبار کے خلاف بدنیتی کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی حکومت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف دائر مقدمے کی دوسری کوشش بھی ہفتے کے روز عدالت نے مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی جفری ایپسٹین، جنسی جرائم کے مجرم، کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات سے متعلق اخبار کی رپورٹ پر ہتک عزت کا مقدمہ آگے بڑھانے کی ان کی کوشش ختم ہو گئی۔

جنوبی فلوریڈا کی ضلعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ ایک بار پھر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ اخبار نے ان کے خلاف بدنیتی سے کام لیا۔ کسی عوامی شخصیت کی جانب سے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کے لیے بدنیتی ثابت کرنا ضروری ہے۔ جج ڈیرن گیلز نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ٹرمپ اپنی پہلی کوشش کی طرح اس بار بھی یہ شرط پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

جج گیلز نے اخبار کی جانب سے خبر شائع کرنے سے پہلے کی گئی محتاط اور تفصیلی تحقیقات اور رپورٹ کی اشاعت سے قبل ٹرمپ اور دیگر حکام کا مؤقف جاننے کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظرثانی شدہ درخواست میں تحقیقات کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھانے کے لیے ہر ممکن بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ٹرمپ کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب ٹرمپ نے ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کر دیا تھا تو اخبار کو یہ رپورٹ شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ تاہم جج نے واضح کیا کہ بدنیتی ثابت کرنے کے قانونی معیار کے تحت اخبار پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کا یہ استدلال امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے بھی متصادم ہے۔

ٹرمپ نے دوسری بار یہ درخواست دائر کرتے ہوئے کم از کم 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہفتے کے روز عدالت نے مقدمہ مستقل طور پر خارج کر دیا، جس کا مطلب ہے کہ اب اسے دوبارہ عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

دریں اثنا، چند روز قبل خبر رساں ادارے بلومبرگ نے رپورٹ دی تھی کہ اگر ڈیموکریٹس امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ جفری ایپسٹین کیس کی تحقیقات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں گے۔

بلومبرگ کے مطابق، ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اس معاملے میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے اور اس سے متعلق دستاویزات بھی جاری نہیں کیں۔

جفری ایپسٹین، امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم، امریکہ کے متنازع ترین عدالتی مقدمات میں سے ایک کا مرکزی کردار بن گیا تھا۔ اس کیس میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال، امیر اور بااثر شخصیات سے روابط اور جیل میں اس کی موت کے حالات سے متعلق سوالات آج بھی عوامی توجہ کا مرکز ہیں۔

ایپسٹین 1953 میں پیدا ہوا تھا اور مالیاتی شعبے میں کام کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے دولت کے ساتھ ساتھ اقتصادی، سیاسی اور سماجی حلقوں کی بااثر شخصیات سے وسیع روابط قائم کر لیے تھے۔ متعدد معروف شخصیات کے ساتھ بھی اس کا نام سامنے آتا رہا۔

10 اگست 2019 کو ایپسٹین نیویارک کے مین ہٹن حراستی مرکز میں اپنی کوٹھڑی میں بے ہوش پایا گیا تھا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اس کی موت کا اعلان کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے والے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha