29 اکتوبر 2026 - 15:59
آیت اللہ رمضانی: دنیا کے حریت پسند کویت، بحرین اور سعودی عرب میں شیعوں کے خلاف ظالمانہ فیصلوں پر خاموش نہیں رہیں گے

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے کویت، بحرین اور سعودی عرب میں شیعوں پر دباؤ اور ان کی توہین کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری، علمائے اسلام اور مبلغین سے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ان فیصلوں کو عالمی قانونی اداروں کے ذریعے چیلنج کیا جانا چاہیے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے کویت سے تعلق رکھنے والے آیت اللہ شیخ حسین المعتوق سے ملاقات میں ان کے خلاف کویتی حکام کے فیصلوں کے نتائج، شیعہ شخصیات اور دینی کارکنوں پر دباؤ اور ان معاملات کو قانونی و عالمی سطح پر اٹھانے کی ضرورت پر گفتگو کی۔

آیت اللہ معتوق کی علمی و دینی خدمات کو خراج تحسین، کویت کے ظالمانہ فیصلوں پر تنقید

آیت اللہ رمضانی نے آیت اللہ شیخ حسین المعتوق کے علمی اور روحانی مقام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں دنیا کی ممتاز شیعہ شخصیات میں سے ایک اور امت مسلمہ کے اتحاد پر یقین رکھنے والی شخصیت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ معتوق دینی علوم کے استاد کی حیثیت سے فقہ، اصول اور تفسیر کی تدریس کرتے رہے ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی اور امت مسلمہ کے اتحاد پر مبنی رہا ہے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے آیت اللہ معتوق کے خلاف کویت میں جاری کیے جانے والے ظالمانہ فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ناک طور پر وہاں استعماری سوچ کی بنیاد پر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو قانونی، دینی، شرعی اور بین الاقوامی قوانین کے کسی بھی اصول سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کویت میں شیعہ شخصیات اور دینی خدمات انجام دینے والوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان شخصیات نے ہمیشہ مسلم معاشرے کے مسائل حل کرنے اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔

بحرین، سعودی عرب اور کویت میں شیعوں کے خلاف اقدامات پر اقوام متحدہ کا ردعمل ضروری

آیت اللہ رمضانی نے کویت، بحرین، سعودی عرب اور دیگر علاقوں میں شیعوں پر ڈھائے جانے والے دباؤ اور ان کی توہین کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری، علمائے اسلام اور اسلامی مبلغین سے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے حریت پسند یقیناً ان فیصلوں کے خلاف مناسب مؤقف اختیار کریں گے۔

آیت اللہ رمضانی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دفاع کے دعوے کرنے والوں کو ان ظالمانہ اقدامات پر ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، ان معاملات کو قانونی مراکز اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے اٹھایا جانا چاہیے تاکہ ان ظالمانہ فیصلوں کو منسوخ کرایا جا سکے۔

انہوں نے آیت اللہ معتوق اور متعدد شہریوں کی شہریت منسوخ کیے جانے اور انہیں سزائے موت سنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اس اقدام کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور یہ شہری حقوق کے تحفظ اور علمی و دینی سرگرمیوں سے متعلق انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی ابتدائی دفعات کے منافی ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے بحرین میں آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم جیسی ممتاز شخصیات کی شہریت منسوخ کیے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان لوگوں کا جرم کیا ہے جنہوں نے انسانی اور روحانی خدمات کے سوا کچھ نہیں کیا، اور آخر کس جرم کی بنیاد پر ان کے خلاف ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

ظالمانہ فیصلے قرآنی تعلیمات کے منافی، امت مسلمہ کا اتحاد ضروری

آیت اللہ رمضانی نے قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیا:

’’جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کے فیصلے بین الاقوامی قوانین اور اسلام، قرآن کریم، احادیث اور سیرت اہل بیت(ع) کے واضح اصولوں کے صریح منافی ہیں۔

انہوں نے تمام علمائے اسلام، دینی شخصیات اور مبلغین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات پر خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ اپنا مؤثر مؤقف اختیار کریں اور ضروری اقدامات کریں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امت مسلمہ کا اتحاد عالمی سطح پر اس کی قوت و اقتدار کا سبب بنے گا۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ قم اور نجف کے حوزہ ہائے علمیہ اور کویت کی شیعہ برادری، آیت اللہ معتوق کی علمی صلاحیتوں اور وجود سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کویت کی فوجداری عدالت نے آیت اللہ شیخ حسین معتوق اور دو دیگر افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس سے قبل بھی عدالت اس کویتی عالم کی شہریت منسوخ کرنے کا حکم دے چکی تھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha