اہلِ بیت(ع) انٹرنیشنل نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے منگل، 27 اکتوبر کو سلامتی کونسل کے خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے مختلف خطوں میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی۔
گوٹیرش نے افغانستان سمیت بعض دیگر ممالک میں لڑکیوں کو ان کی بنیادی ضرورت اور حق، یعنی تعلیم، سے محروم رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خواتین رہنماؤں، سیاست دانوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو حاشیے پر دھکیلنے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے امن عمل میں خواتین کی مؤثر اور بامعنی شرکت، خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیموں کے لیے مالی معاونت میں اضافے اور خواتین کے خلاف تشدد کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسی اجلاس میں افغان انسانی حقوق کی کارکن تمنا زریاب پریانی نے طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد وسیع پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیاں تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں شرکت کے مواقع سے محروم ہیں۔
انہوں نے طالبان کے ہاتھوں اپنی گرفتاری اور تشدد کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف جبر ایک منظم امتیازی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات کا سامنا لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کو روزانہ کرنا پڑ رہا ہے۔
پریانی نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے اور تعامل میں خواتین کے حقوق کو ترجیح دی جائے اور ان حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دہ بنایا جائے۔
انہوں نے صنفی امتیاز (Gender Apartheid) کو انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر تسلیم کرنے اور افغانستان کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی شرکت یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس افغان انسانی حقوق کی کارکن نے عالمی برادری کے ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان خواتین کو محض بیانات اور تشویش کے اظہار کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اور عدم کارروائی دوسروں کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ وہ بھی بغیر کسی سزا کے ایسے اقدامات دہرا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین اور لڑکیوں پر متعدد پابندیاں برقرار ہیں۔ ان میں چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کے لیے جامعات کے دروازے بند کرنا اور روزگار کے بہت سے مواقع سے محروم رکھنا شامل ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا ان پابندیوں کے خاتمے اور خواتین و لڑکیوں کی تعلیم اور عوامی زندگی میں واپسی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔
آپ کا تبصرہ