اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سعودی عرب کے 29 سالہ شیعہ شہری حسن زکی الفرج کو پھانسی دیے جانے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔ ان تنظیموں نے کم عمری میں کیے گئے مبینہ جرائم پر سزائے موت ختم کرنے کے سعودی حکومت کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے اسی نوعیت کے مقدمات میں سزا پانے والے دیگر افراد کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی حکومت نے حسن الفرج سمیت پانچ شیعہ شہریوں کو پھانسی دی تھی۔
انگریزی زبان کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، حسن الفرج پر عائد الزامات کے وقت ان کی عمر تقریباً 14 سال تھی۔ انہیں سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ برادری کی صورت حال سے متعلق احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست انہیں تشدد اور طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھنے کا سامنا کرنا پڑا اور بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ منقطع کردیا گیا۔ ان دعوؤں نے مقدمے کی کارروائی اور دورانِ حراست حاصل کیے گئے اعترافات کی صداقت کے بارے میں خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’’مینا رائٹس‘‘، جو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہے، اور برطانیہ میں قائم تنظیم ’’ریپریو‘‘ نے بھی اس پھانسی اور اس کے نتائج پر تنقید کی ہے۔
ریپریو کی جید بسیونی نے کم عمری میں کیے گئے جرائم پر سزائے موت ختم کرنے سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف پر شکوک کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سمیت دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ یوسف المناصف کو پھانسی دیے جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ تنظیم کے مطابق، یوسف المناصف کو 15 سال کی عمر میں احتجاجی مظاہروں میں مبینہ شرکت کے الزام میں اب سزائے موت کا سامنا ہے۔
یوسف المناصف کا مقدمہ بھی انسانی حقوق سے متعلق تنقید کے کئی پہلو سامنے لاتا ہے۔ انہیں 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر امن و امان خراب کرنے والے اجتماعات میں شرکت، دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور دہشت گردی کی مالی معاونت سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ریپریو کا کہنا ہے کہ ان سے اعترافِ جرم کرانے کے لیے تشدد کیا گیا اور گرفتاری کے پانچ سال بعد پہلی مرتبہ ان کی ملاقات حکومت کی جانب سے مقرر کردہ وکیل سے ہوئی۔
حسن الفرج اور یوسف المناصف دونوں کو نومبر 2022 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، یعنی سعودی عرب کی جانب سے کم عمری میں کیے گئے جرائم پر سزائے موت سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کے اعلان کے دو سال سے بھی زیادہ عرصے بعد۔
ان مقدمات کے علاوہ سعودی عرب میں پھانسیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا موضوع رہی ہے۔ یورپی سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب نے 2025 میں کم از کم 347 افراد کو پھانسی دی، جو 2024 میں ریکارڈ کی گئی 345 پھانسیوں سے زیادہ ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بتایا ہے کہ جون 2026 تک سعودی عرب میں پھانسیوں کی تعداد تقریباً 100 تک پہنچ چکی تھی۔
ناقدین کے نزدیک معاملہ صرف ایک شخص کو پھانسی دینے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق بچوں کے حقوق، منصفانہ عدالتی کارروائی کی پابندی اور سزائے موت کے استعمال کو محدود کرنے سے متعلق سعودی عرب کے اعلان کردہ وعدوں کی ساکھ سے بھی ہے۔
آپ کا تبصرہ