26 اکتوبر 2026 - 16:33
لاطینی امریکہ میں لولا دا سلوا کی کامیابی، امریکہ اور صیہونی ریاست کے لیے بڑا دھچکا

اسلامی مجلسِ شوریٰ ایران کی فلسطین کانفرنس کے سیکرٹری جنرل سید مجتبیٰ ابطحی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ برازیل میں لولا دا سلوا کی کامیابی لاطینی امریکہ میں امریکی اثر و رسوخ اور صیہونی ریاست کی سرگرمیوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں اپنے اقدامات اور کیوبا و نکاراگوا کو دھمکیاں دے کر، نرم جنگ اور کھلی مداخلت کے ذریعے لاطینی امریکہ میں انقلابی اور سامراج مخالف قوتوں کی حکومتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ وہ برازیل میں بولسونارو کے اقتدار میں آنے اور انتخابات میں لولا دا سلوا کی شکست کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یہ دعویٰ کیا جائے کہ ’’مونرو نظریہ‘‘ حقیقت بن چکا ہے، جس کے مطابق لاطینی امریکہ امریکہ کا پچھواڑا ہے۔

لیکن ان اہم دنوں میں حالات نے ایک مختلف رخ اختیار کیا اور لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے، طاقتور اور ترقی یافتہ ملک برازیل میں لولا دا سلوا نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی خطے کے سیاسی حالات اور طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جب لولا دا سلوا 2000 کی دہائی میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران حسینیہ امام خمینی (رہ) میں شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ایک سیاسی رہنما کی جانب سے رہبر انقلاب اسلامی سے غیر معمولی عقیدت کا منظر دیکھا۔ انہوں نے بڑے جوش، جذبے اور خلوص کے ساتھ اپنے بچپن اور مزدور کی حیثیت سے زندگی کے تجربات بیان کیے۔ ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے ارکان بھی ان کی اس بے تکلفی، جوش اور گرمجوشی پر حیران رہ گئے تھے۔

لولا دا سلوا اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران تقریباً 20 کروڑ آبادی والے ملک برازیل کی اقتصادی ترقی کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ کرنے میں کامیاب رہے۔

بلاشبہ، لولا کی کامیابی ایک سیاسی زلزلے کی طرح ٹرمپ اور امریکی ریپبلکن پارٹی کے مفادات کو متاثر کر سکتی ہے اور اگلے منگل کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ٹرمپ کے بڑے بڑے دعووں کو سنگین چیلنج سے دوچار کر سکتی ہے۔ دوسری جانب، اس کامیابی سے لاطینی امریکہ، بالخصوص ارجنٹینا میں، اسرائیل کی بچوں کی قاتل حکومت کی سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو نئی پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میں گزشتہ دو دہائیوں سے لاطینی امریکہ کے حالات اور خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ لولا دا سلوا کی کامیابی اس خطے میں امریکہ کی تابع حکومتوں کے مضبوط ہونے اور بائیں بازو کی حکومتوں کے زوال کے رجحان کو بڑا دھچکا پہنچا سکتی ہے۔

ہوگو شاویز، رافائل کوریا، اوو مورالس اور فیدل کاسترو جیسے رہنماؤں کی عدم موجودگی میں لولا دا سلوا اپنی موجودہ صدارتی مدت کے دوران لاطینی امریکہ کی انقلابی اور بائیں بازو کی تحریکوں کی رہنمائی میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں اور مقامی و عوامی قیادت کے خلا کو کسی حد تک پُر کر سکتے ہیں۔ ہوگو شاویز کی مشکوک موت کے بعد یہ خلا مزید شدت سے محسوس کیا گیا۔

تاہم، ٹرمپ اور امریکی حکام سے منسوب عداوت، مداخلت پسندانہ اقدامات اور وسطی و جنوبی امریکہ میں جبر اور قتل و غارت کے طریقوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس خطے کی تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ نے اپنے اثر و رسوخ اور مفادات کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی دباؤ ڈالنے سے گریز نہیں کیا۔ اسی لیے لاطینی امریکہ کے ممالک کی سیاسی خودمختاری کا تحفظ اور خطے کے عوام کے عزم کو مضبوط بنانا اب بھی ایک اہم تزویراتی ضرورت ہے۔

سید مجتبیٰ ابطحی
سیکرٹری جنرل، فلسطین کانفرنس، اسلامی مجلسِ شوریٰ ایران

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha