26 اکتوبر 2026 - 16:29
حزب اللہ کے رہنما: امریکی سفارت خانہ لبنان کے سیاسی فیصلوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے

لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن حسین الحاج حسن نے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ملکی داخلی امور میں مداخلت دراصل لبنان کے سیاسی فیصلوں پر سرپرستی مسلط کرنے اور اس عمل پر قبضہ جمانے کے مترادف ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں بعلبک اور ہرمل کے نمائندوں کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ حسین الحاج حسن نے ان لوگوں کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے جو حزب اللہ پر سیاسی کشیدگی بڑھانے اور ملک کے حالات خراب کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ حزب اللہ نے اپنا مؤقف سخت کر لیا ہے اور انتباہات جاری کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنا مؤقف سخت کرنے، ناجائز مطالبات کرنے اور جارحیت کا راستہ اختیار کرنے والے اسرائیل اور امریکہ ہیں، جبکہ لبنان کی قیادت بھی ان کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں کشیدگی حزب اللہ پیدا نہیں کر رہی بلکہ امریکہ اور اسرائیل حالات کو کشیدہ بنا رہے ہیں، اور لبنان کی قیادت ان کا ساتھ دے کر اور ان کے مطالبات تسلیم کرکے اس عمل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

حسین الحاج حسن نے یہ باتیں شمالی بقاع کے علاقے میں حزب اللہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیاسی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ حزب اللہ لبنان میں استحکام چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لبنان ان تمام بحرانوں سے نکلے، لیکن بحرانوں سے نکلنے والا لبنان ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ملک ہونا چاہیے، نہ کہ ایسا ملک جو ہتھیار ڈال دے، سر جھکا دے، دوسروں کا تابع بن جائے یا بیرونی سرپرستی قبول کر لے۔

امریکی سفارت خانے کی مداخلت

حسین الحاج حسن نے لبنان کے داخلی امور میں امریکی سفارت خانے کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سرگرمیاں لبنان کے سیاسی فیصلوں پر سرپرستی مسلط کرنے اور فیصلہ سازی پر قبضہ جمانے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم بیرونی سرپرستی کی بات کرتے ہیں تو یہ صورت حال امریکی سفیر کی موجودگی میں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ لبنان کے قوانین تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ارکان کی جگہ لینا، ارکان کو جمع کرنا اور ان سے اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ بیرونی سرپرستی نہیں؟ ان کے بقول، یہ معاملہ سرپرستی سے بھی آگے بڑھ چکا ہے اور لبنان کی سیاسی فیصلہ سازی پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔

حسین الحاج حسن نے کہا کہ حزب اللہ کا مؤقف قومی خودمختاری، آزادی، استقلال، لبنان کے وقار کے تحفظ اور قومی مفادات کے دفاع پر مبنی ہے، جبکہ امریکہ دباؤ ڈالتا ہے، اپنا مؤقف مسلط کرتا ہے اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق مطالبات پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکی خطے میں امریکہ کے مفادات کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ان کی مراد اسرائیل کے مفادات ہوتے ہیں۔

آخر میں لبنانی رکن پارلیمنٹ نے حزب اللہ کے حالیہ مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے لبنان کی قیادت کو خبردار کرنے کے لیے یہ مؤقف اختیار کیا ہے تاکہ وہ امریکی دباؤ اور احکامات کے سامنے جھکنے کے سنگین خطرات کو سمجھ سکے۔ ان خطرات سے لبنان کی صورت حال، استحکام، قومی یکجہتی اور طاقت متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ لبنان کی قیادت ان خطرات کو سمجھے گی اور امریکی احکامات کے سامنے جھکنے کے نتائج کا ادراک کرے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha