اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنے ایک تجزیے میں سعودی عرب کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں پر بھروسا کرنے کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جریدے کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ نے ظاہر کر دیا ہے کہ ٹرمپ سے قربت اور ان کے ساتھ مالی تعلقات استوار کرنے کے باوجود سعودی عرب اپنی سلامتی یقینی نہیں بنا سکا، بلکہ اسے علاقائی خطرات کا سامنا مزید شدت سے کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکہ پر سکیورٹی انحصار سعودی عرب کی کمزوری بن گیا
گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور خلیج فارس کے عرب ممالک کے درمیان ایک ایسا انتظام چلا آ رہا تھا جس کے تحت امریکہ اپنی فوجی طاقت کے ذریعے بحری راستوں کی حفاظت، خطرات کا مقابلہ کرنے اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ میں مدد دیتا تھا۔ اس کے بدلے خلیجی ممالک امریکہ کو فوجی سہولتیں اور سکیورٹی تعاون فراہم کرتے تھے اور تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بناتے تھے۔
فارن پالیسی کے مطابق، ایران پر امریکی فوجی حملے نے اس نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے امریکی حمایت پر انحصار کرتا آیا ہے، لیکن اب اس کے پاس اس نظام کا کوئی قابلِ اعتماد متبادل موجود نہیں۔
تیل کی برآمدات اور اہم تنصیبات کو خطرات
فارن پالیسی نے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کو اس کی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستے قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے سعودی عرب نے مشرق سے مغرب تک تیل پہنچانے والی پائپ لائن کا سہارا لیا ہے، لیکن بحیرہ احمر میں بڑھتے خطرات اور تیل کی تنصیبات پر حملوں نے اس متبادل راستے کی افادیت بھی محدود کر دی ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق، یمن کی انصاراللہ تحریک اور عراق میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح جماعتوں کی جانب سے حملوں کے خطرے کے باعث سعودی عرب کو اپنے بحری راستوں اور تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اب بھی بیرونی مدد درکار ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ امریکہ اس بحران پر قابو پا سکے گا یا ٹرمپ حکومت اس مقصد کے لیے ضروری قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہو گی۔
ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری
سعودی عرب نے ٹرمپ اور ان کے داماد و سابق مشیر جیرڈ کشنر کے ساتھ مالی تعلقات مضبوط کرنے پر خاص توجہ دی۔ کشنر کی سرمایہ کاری کمپنی میں سعودی فنڈ کی جانب سے دو ارب ڈالر لگانا اور ٹرمپ کے کاروباری اداروں سے متعلق تجارتی معاملات بھی اسی کوشش کا حصہ تھے۔ ریاض کو امید تھی کہ ان تعلقات کے ذریعے امریکی حکومت کے فیصلوں پر اثرانداز ہوا جا سکے گا۔
سعودی قیادت کا خیال تھا کہ ٹرمپ حکومت کے ساتھ ذاتی اور مالی تعلقات سے تزویراتی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ساتھ ہی امریکہ کی فوجی طاقت اور استحکام سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن حالیہ واقعات نے ظاہر کر دیا ہے کہ سیاست دانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رقم خرچ کرنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ بھی کریں گے۔
سعودی جوہری معاہدہ بھی غیر یقینی کا شکار
امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ اور سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی اجازت ملنے کا امکان، ٹرمپ حکومت کے ساتھ تعلقات سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد میں شامل ہے۔ تاہم، جوہری پھیلاؤ کے خطرات، نگرانی سے متعلق پابندیاں اور امریکہ میں آئندہ حکومتوں کی جانب سے پالیسی تبدیل کیے جانے کا امکان اس معاملے کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔
فارن پالیسی کے مطابق، اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بدعنوانی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کا رجحان حکومتوں کی ذمہ دارانہ فیصلے کرنے اور اپنے اتحادیوں کے طویل مدتی مفادات کا تحفظ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
سعودی عرب کو اپنی حکمت عملی کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے
فارن پالیسی کے تجزیے کے مطابق، سعودی عرب نے ٹرمپ کے ساتھ تعلقات سے حاصل ہونے والے فوائد کا اندازہ لگانے میں بڑی تزویراتی غلطی کی۔ ریاض کو امید تھی کہ وہ مالی سرمایہ کاری اور ذاتی تعلقات کے ذریعے امریکی خارجہ پالیسی کو اپنے حق میں کر سکے گا اور اس دوران واشنگٹن کی بدعنوانی، عدم استحکام اور خطرناک فیصلوں کے نتائج سے محفوظ رہے گا۔ لیکن اب بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور معاشی تنصیبات پر دباؤ نے اس حکمت عملی کی کمزوری نمایاں کر دی ہے۔
آپ کا تبصرہ