25 اکتوبر 2026 - 01:36
1 | اللہ کے اذن سے، آخری جنگ سے سوپر پاور بن کر نکلیں گے، بریگیڈیئر جنرل محبی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران اور خطے کے مستقبل پر موجودہ تبدیلیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: یہ تصادم ایران کی سرحدوں سے آگے تک، نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اور دیگر قوموں کی قسمت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے ایرانی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حالات صحیح ادراک کرے، اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھے اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، شعوری طور پر ذمہ داری کے ساتھ اپنی قسمت کا تعین کرے۔/ موجودہ تصادم ایک فوجی جھڑپ سے بڑھ کر ہے۔ دشمن ایرانی قوم کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے اور ایرانی-اسلامی تہذیب کو مٹا دینے کے درپے ہے اور ہمیں ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ ملک کی علاقائی سالمیت، تہذی و ثقافت اور تشخص کا دفاع کرنا چاہئے۔ / دشمن اسلامی-ایرانی تشخص اور تہذیب کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسدار حسین محبی نے صوبہ قزوین کے شہر تاکستان میں امامزادہ سید علی موسوی شارینی اسفرورین کے مقدس آستانے میں منعقدہ مسلح افواج کی پہلی صوبائی "نماز کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے شہداء، دفاعِ مقدس اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، خاص طور پر امامِ شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ)، شہید سائنسدانوں اور امریکی-صہیونی کے حملوں کے دیگر شہداء کو  خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے نماز کے مقام اور انسان و معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا:

• اللہ کے اذن سے آخری زمانے کی اس جنگ میں ہماری قسمت مکمل فتح ہے اور ان شاء اللہ ہم دنیا کی سپر پاور بن جائیں گے۔

• نماز انسان سازی کے علاوہ اللہ کی برکتوں کا حصول، دعا کی قبولیت اور انسان میں استقامت و مقاومت، ثابت قدمی، انتظام اور قیادت کی طاقت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔

• نماز صرف اسلام کا خاصہ نہیں ہے اور یہ تمام الہامی اور آسمانی مذاہب میں موجود رہی ہے۔

• آیت اللہ جوادی آملی نے نماز کو "اللہ کا زیارت نامہ" قرار دیا ہے۔

• نماز اپنے کے ساتھ انسان کا اعلیٰ ترین اور محبت بھرا رابطہ ہے اور الہامی مذاہب نے خدا سے رابطے کے لئے اس فریضے سے فائدہ اٹھایا ہے۔

• نماز جسم و روح کی حامل ہے: نماز کا جسم اس کے ظاہری ارکان اور اجزاء سے متعلق ہے، لیکن نماز کی روح حُضورِ قلب، الفاظ و کلمات پر توجہ، خوشگوار کیفیت اور رب کی بارگاہ میں حاضری کے احساس میں ظاہر ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha