اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے متعدد مسلمان اور عرب نژاد امریکی ووٹرز اب سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ نے ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلمان برادری کی حمایت کے وعدے کیے تھے، لیکن انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے بیانات اور اقدامات کے ذریعے اسی برادری کو نشانہ بنایا۔
اخبار کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سخت زبان کے دوبارہ استعمال اور ریپبلکن جماعت کے بعض حلقوں میں اسلام مخالف رویوں کے نمایاں ہونے سے یہ ناراضی مزید بڑھ رہی ہے۔
حمایت کے وعدوں سے مسلمانوں پر الزامات تک
ٹرمپ نے حالیہ مہینوں، خصوصاً اکتوبر میں، مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار محمد عبدالسید کو ’’پرتشدد جہادی‘‘ قرار دیا، ان کے نام کا مذاق اڑایا اور بارہا امریکی ریاست مینیسوٹا میں آباد صومالی برادری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انتہائی دائیں بازو کی کارکن لورا لومر کی حمایت بھی کی، جو خود کو اسلام مخالف قرار دیتی ہیں اور اسلام کے خلاف سخت بیانات دیتی رہی ہیں۔
ان بیانات کے باعث مسلمان اور عرب نژاد امریکی برادریوں، خصوصاً مشی گن کے عرب آبادی والے علاقوں اور مینیسوٹا کے صومالی آبادی والے محلوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
امریکی مسلمان؛ بائیڈن سے مایوسی کے بعد ٹرمپ سے بھی ناراض
نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ کا موجودہ طرزِ عمل 2024 کی انتخابی مہم سے مختلف ہے، جب انہوں نے مسلمان اور عرب نژاد امریکی ووٹروں، خصوصاً مشی گن میں، کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان ووٹروں کے ایک حصے نے غزہ جنگ اور سماجی مسائل کے حوالے سے جو بائیڈن حکومت کی پالیسیوں سے ناراض ہو کر ٹرمپ کا رخ کیا تھا اور ان کی حمایت نے کامیابی میں کردار ادا کیا تھا۔
انتخابات کے بعد بھی ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی صدارت کے دوران مسلمان برادری کی حمایت کریں گے، لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق، ان کے متعدد سابق حامی اب محسوس کرتے ہیں کہ یہ وعدے محض انتخابی مفادات کے لیے کیے گئے تھے۔
مشی گن میں ریپبلکن جماعت کے کارکن حسن نعیم، جنہوں نے 2024 میں ٹرمپ کی انتخابی مہم اور مسلمان و عرب نژاد امریکی برادریوں کے درمیان رابطے کے لیے کام کیا تھا، نے موجودہ صورت حال کا موازنہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد کے دور سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی برادری خوف محسوس کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی کامیابی کے لیے کوششیں کرنے والے حسن نعیم نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ اب مسلمان برادری کو خود صدر کے بیانات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی طرح، 2024 میں ’’عرب امریکی برائے ٹرمپ‘‘ اتحاد کی قیادت کرنے والے بشارہ بحبح نے کہا کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے باعث عرب اور مسلمان ووٹروں کا ایک حصہ ان کی حکومت سے دور ہو رہا ہے۔
اسلام مخالف رویوں اور سلامتی کے خدشات میں اضافہ
نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مسلمانوں کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ وہ اپنی سابقہ انتخابی مہمات میں اسلام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں، مسلمانوں کی قومی سطح پر رجسٹریشن کا نظام قائم کرنے کی تجویز دے چکے ہیں اور اپنی پہلی صدارتی مدت میں متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندیاں بھی عائد کر چکے ہیں۔
تاہم، 2024 کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے غزہ کے معاملے سمیت ڈیموکریٹس کی پالیسیوں سے ناراض مسلمان ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بائیڈن حکومت میں سابق عہدیدار اور مسلمان و عرب ووٹروں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والی فائزہ سعد کے مطابق، ٹرمپ نے اس وقت دستیاب سیاسی موقع سے فائدہ اٹھایا، لیکن اب انہوں نے دوبارہ سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔
مینی سوٹا میں صومالی تارکین وطن کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات نے سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ فلاحی امداد سے متعلق ایک دھوکا دہی کے مقدمے کے سامنے آنے کے بعد، جس کا بڑا حصہ اس ریاست کی صومالی برادری سے متعلق تھا، ٹرمپ نے اس برادری کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور دعویٰ کیا کہ مینی سوٹا پر صومالی تارکین وطن قبضہ کر رہے ہیں۔
یہ بیانات فائرنگ کے چند واقعات کے بعد سامنے آئے، جنہیں مقامی حکام نے صومالی نژاد امریکی جرائم پیشہ گروہوں سے منسلک کیا تھا۔ تاہم، مسلمان برادری کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ کسی مخصوص مقدمے کے الزامات کو پوری برادری سے جوڑنے کے نتیجے میں ایسے افراد کو بھی دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔
ٹرمپ کے اسلامی مراکز کی سلامتی سے متعلق بیانات کے بعد مینی سوٹا کے ائمہ اور مسلمان رہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی اسلامی تعلقات کونسل کی مینی سوٹا شاخ کے سربراہ جیلانی حسین نے کہا کہ صدر کے بیانات معاشرے میں انتہا پسندانہ رویوں کو ہوا دے سکتے ہیں۔
امام عبداللہی فرح نے بھی خبردار کیا کہ ایسے بیانات کے حقیقی نتائج برآمد ہوتے ہیں اور پوری برادری کو قصوروار ٹھہرانا عوامی سلامتی یقینی بنانے کا مناسب طریقہ نہیں ہے۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ٹرمپ کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ایسے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو حکومت کے بقول معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔
ٹرمپ کے اتحادیوں نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ان کی حکومت کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ تاہم، نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ جنگ بندی کا یہ نازک معاہدہ فلسطینی علاقوں کے بعض حصوں میں اسرائیل کی موجودگی میں توسیع کو نہیں روک سکا۔
وسط مدتی انتخابات میں عرب امریکی ووٹروں کا بدلتا رجحان
مسلمان اور عرب نژاد امریکی ووٹروں کی ناراضی آئندہ ماہ ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان انتخابات میں ٹرمپ براہ راست امیدوار نہیں ہوں گے، لیکن نتائج ان کی حکومت کی سیاسی پوزیشن پر اثر انداز ہوں گے۔
واشنگٹن پوسٹ اور جارج میسن یونیورسٹی کے شَر اسکول کے مشترکہ سروے کے مطابق، جس کے نتائج رواں ہفتے جاری ہوئے، رجسٹرڈ عرب نژاد امریکی ووٹروں میں سے 58 فیصد کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 34 فیصد ریپبلکن امیدواروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
2024 کے انتخابات کے مقابلے میں یہ ایک نمایاں تبدیلی ہے، جب عرب نژاد امریکی ووٹروں کی حمایت ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان تقسیم ہو گئی تھی۔ اسی سروے کے مطابق، عرب نژاد امریکیوں میں تقریباً نصف مسلمان ہیں۔
نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے پروفیسر اور مذہب و سیاست کے تعلق پر تحقیق کرنے والے ڈیوڈ کیمبل کا خیال ہے کہ اسلام مخالف جذبات کو نمایاں کرنے کا مقصد ریپبلکن ووٹروں کو متحرک کرنا اور وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کے حامیوں کی شرکت بڑھانا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول مسلمانوں میں خوف پیدا کرتا ہے اور ان میں سے بعض کو ریپبلکن جماعت سے مزید دور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ مسلمانوں کو بحیثیت برادری نشانہ نہیں بنا رہے، بلکہ انتہا پسندوں کے خلاف مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ 2024 میں ٹرمپ پر اعتماد کرنے والے مسلمان ووٹروں کی موجودہ مایوسی ظاہر کرتی ہے کہ امریکی حکومت اور مسلمان و عرب نژاد امریکی برادریوں کے درمیان تعلقات کانگریس کے انتخابات سے قبل ایک اہم اور متنازع سیاسی مسئلہ بن چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ