22 اکتوبر 2026 - 10:10
آیت اللہ رمضانی: مزاحمت عین رحمت ہے، شہید نصراللہ نے اسلامی تہذیب کی تشکیل کے لیے ایک نئی تحریک کی بنیاد رکھی

مجمعِ جہانی اہلِ بیتؑ کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ نے حقیقی معنوں میں اسلامی تہذیب کی تشکیل کی راہ پر ایک تحریک کی بنیاد رکھی۔ ان کے مطابق، شہید نصراللہ کے تجربے میں فقہِ مزاحمت محض عسکری کامیابی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی چلانے کا ایک مؤثر طریقہ تھی۔

اہلِ بیتؑ انٹرنیشنل نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شہید علامہ سید حسن نصراللہ کی بین الاقوامی کانفرنس کے سلسلے میں ایک علمی پیش نشست بدھ کو ایران کے شہر قم میں مجمعِ جہانی اہلِ بیتؑ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔ اس نشست میں عالمی سطح اور عالمِ اسلام میں شہید سید حسن نصراللہ کے کردار اور مقام کا جائزہ لیا گیا۔

تقریب کے خصوصی مقرر اور مجمعِ جہانی اہلِ بیتؑ کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے حضرت فاطمہ زہراؑ کے ایامِ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی اہم ترین فکر معاشرے کو امام کی پہچان کرانا اور لوگوں کا امام سے رابطہ قائم کرنا تھا۔

انہوں نے مَثَلُ الْإِمَامِ مَثَلُ الْکَعْبَةِ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کعبہ کی زیارت اور طواف کے لیے انسان کو خود اس کی جانب جانا ہوتا ہے، نہ کہ کعبہ کو اپنی طرف بلانا، اسی طرح امام کے حوالے سے بھی یہی اصول کارفرما ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے امام سے تعلق کے تین بنیادی نتائج بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام کی معرفت، امام سے محبت اور امام کی اطاعت معاشرے میں تین اہم تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں: جہالت اور لاعلمی کا خاتمہ اور جاہلیت کا سدباب۔

ان کے مطابق، نظامِ ولایتِ فقیہ بھی نظامِ امامت کا ایک مظہر اور نمونہ ہے، جو جاہلیت سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جدید جاہلیت کا مقابلہ کرنا قدیم جاہلیت کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

مجمعِ جہانی اہلِ بیتؑ کے سیکریٹری جنرل نے حوزہ ہائے علمیہ میں نظریاتی اور علمی بنیادوں پر مزاحمت کے موضوع کو مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج مزاحمت کو اسلامِ رحمانی اور رحمت کے تصور کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے، کیونکہ مزاحمت عین رحمت ہے۔ اگر مزاحمت موجود ہو تو رحمتِ الٰہی انسانی معاشرے میں پھیل سکتی ہے۔

آیت اللہ رمضانی کے مطابق، اسلام کو اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ متعارف کرانا ضروری ہے، جہاں کفار کے مقابلے میں مضبوطی اور طاغوت کا انکار، دونوں تصورات کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم میں مزاحمت اور جہاد کے موضوعات پر تقریباً 400 آیات میں سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے وضاحت کی کہ شہید سید حسن نصراللہ کے تجربے میں فقہِ مزاحمت ایک ایسی ’’ٹیکنالوجی آف گورننس‘‘ تھی جس کا مقصد صرف عسکری فتح حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کے مختلف نظریاتی، تزویراتی، تنظیمی اور سماجی پہلو بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ کی فقہی فکر کی بنیاد دشمن کے تسلط کی نفی، اسلامی معاشرے کی عزت و سربلندی، انسانی جانوں کا تحفظ، عہد کی پاسداری اور اہم تر مصلحت کو ترجیح دینے جیسے اصولوں پر تھی۔ انہی خصوصیات نے انہیں مزاحمت کے میدان میں ایک بڑے تزویراتی منتظم کے طور پر نمایاں کیا۔

آیت اللہ رمضانی کے مطابق، شہید نصراللہ نے مزاحمتی محاذ کو ایک فعال قوتِ بازدارندگی میں تبدیل کیا۔ مسئلہ فلسطین کو ترجیح دینا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جبکہ دشمن کی اولین ترجیح نظام کا خاتمہ تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید نصراللہ نے لبنان کے مختلف طبقات کے درمیان داخلی اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے مختلف محاذوں کے درمیان رابطے اور یکجہتی کو مؤثر انداز میں منظم کیا۔

مجمعِ جہانی اہلِ بیتؑ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ شہید نصراللہ نے مزاحمت کے اہم فیصلوں میں مشاورت کو مرکزی حیثیت دی۔ انہوں نے کمانڈروں کی تربیت، سکیورٹی نظم و ضبط اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم پر خصوصی توجہ دی۔

آیت اللہ رمضانی کے مطابق، شہید نصراللہ کے نزدیک مزاحمت کا مفہوم عوام کی زندگیوں سے جڑا ہوا تھا۔ عوامی خدمات، انصاف پر مبنی طرزِ عمل، اعتماد سازی اور ایمانی زندگی کے ذریعے مزاحمت کو معاشرے میں عملی شکل دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہی خصوصیات شہید نصراللہ کی عالمِ اسلام میں مقبولیت کا سبب بنیں۔ آیت اللہ رمضانی نے اس ضمن میں رہبرِ انقلاب کی جانب سے شہید نصراللہ کو ’’سیدِ قہرمانِ عرب‘‘ قرار دیے جانے کا حوالہ بھی دیا۔

آیت اللہ رمضانی نے شہید نصراللہ کی شخصیت کے ابلاغی اور فکری پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی راست گوئی کا یہ عالم تھا کہ ان کے مخالفین بھی ان کے بیانات کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنے رہنماؤں کے بیانات سے بھی زیادہ۔

ان کے مطابق، شہید نصراللہ کی شخصیت کے یہ تمام پہلو مل کر مزاحمت کو ایک ایسے نظامِ حکمرانی میں تبدیل کرتے تھے جو اسلامی تہذیب کے قیام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ حوزہ ہائے علمیہ میں فقہِ مزاحمت کو معاصر فقہ کے اہم موضوعات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ فقہی مباحث کا بڑا حصہ عبادات اور انفرادی فقہ تک محدود ہے، جبکہ فقہِ اجتماعی اور فقہِ مزاحمت کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق،ان موضوعات پر اعلیٰ سطح کے فقہی دروس کو فروغ دینا چاہیے تاکہ دنیا کے سامنے اسلامی فقہ کی جامعیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کی درست تصویر پیش کی جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha