اہلِ بیت(ع) انٹرنیشنل نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ خطرے پر گفتگو کرتے ہوئے یورپی ممالک کی فوجی صلاحیتوں اور دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کو تشویش ناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ بڑے پیمانے پر اپنی عسکری صلاحیتوں کو ازسرِنو ترتیب دینے اور مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ووچیچ نے کہا: ’’اگر آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ یورپ کس طرح خود کو مسلح کر رہا ہے تو درحقیقت آپ جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ یورپ خود کو مسلح کیوں کر رہا ہے؟ آخر کس مقصد کے لیے؟‘‘
اپنے خدشات کی وضاحت کرتے ہوئے سربیا کے صدر نے روسی ادیب اور ڈرامہ نگار انتون چیخوف کے ڈراموں کی مثال دی۔ انہوں نے کہا: ’’یہ چیخوف کے ڈراموں جیسا ہے؛ اگر پہلے منظر میں دیوار پر بندوق لٹکی ہو تو تیسرے منظر میں وہ چلائی جائے گی۔‘‘
ووچیچ نے جرمنی کی دفاعی صنعت میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس شعبے نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے اور اس صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے منافع میں 17 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی مراد 17 فیصد اضافہ نہیں بلکہ منافع کا 17 گنا بڑھنا ہے۔
سربیا کے صدر کے مطابق، یورپی ممالک روس سے دفاع اور مستقبل کے لیے تیاری کو جواز بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’’اگر کوئی یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کہوں۔ یہ سب بالکل واضح ہے۔ وہ خود بھی اس بارے میں بات کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔‘‘
ووچیچ نے یورپ اور اس سے آگے ایک بڑی جنگ چھڑنے کے امکان پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’اگر تیسری عالمی جنگ شروع نہ ہوئی تو یہ ایک معجزہ ہوگا۔‘‘
تاہم، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ ان کا اندازہ غلط ثابت ہو۔ ان کے الفاظ میں: ’’اگر میں غلط ثابت ہوا تو میں دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہوں گا، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ میں غلط نہیں ہوں۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے بعد یورپی ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھانے اور اپنی اسلحہ ساز صنعت کو مضبوط بنانے پر زیادہ توجہ دی ہے۔ سربیا کے صدر اس سے قبل بھی بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان وسیع تر تصادم کے خطرے پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ