19 اکتوبر 2026 - 16:42
حسن فضل اللہ: اصولوں اور مقاومت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے

لبنان کی پارلیمان میں حزب اللہ کے وفاداری برائے مقاومت دھڑے کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ حکومت کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی، تاہم اصولوں اور مقاومت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور مقاومت کی طاقت کے کسی بھی عنصر کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسن فضل اللہ نے جنوبی لبنان کے شہر تبنین میں حزب اللہ کی جانب سے منعقدہ اسلامی مقاومت کے شہداء کی یاد میں تقریب سے خطاب کیا۔

فضل اللہ نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور لبنان میں کسی کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتے۔ جو بھی دشمن کے مقابلے میں مقاومت کے محاذ پر کھڑا ہے اور اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتا ہے، اس کے لیے اسرائیل کی دشمنی ہی کافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دشمنی، بحث و تکرار یا محاذ آرائی نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کی جگہ لینا چاہتے ہیں۔ ہم دفاعی پوزیشن میں ہیں، ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسرائیلی دشمن ہماری بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ چونکہ اب تک لبنان میں ایسی حکومت نہیں دیکھی جو اپنی ذمہ داری ادا کرے، اس لیے ہم یہ ذمہ داری خود اٹھا رہے ہیں اور قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔

فضل اللہ نے کہا کہ لبنان میں ایسی حکومت موجود نہیں جو اپنے فیصلے خود کرتی ہو، بلکہ حکومت باہر سے چلائی جاتی ہے۔ بعض لوگوں کو واٹس ایپ کے ذریعے اور بعض کو فون پر ہدایات دی جاتی ہیں۔ حکومت کے فیصلے بیرونی احکامات کے سوا کچھ نہیں، جن کا مقصد ہمارے ملک کو طاقت کے تمام وسائل سے محروم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے ہاتھ میں اسلحے کی اجارہ داری کے نام پر ملک کے اندر موجود بعض وسائل کو مقاومت ختم کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تو وہ غلط فہمی میں ہیں۔ پہلے ثابت کریں کہ حکومت واقعی موجود ہے، پھر حکومتی اختیارات کی بات کریں۔ کوئی بھی حکومت کے حقوق کا انکار نہیں کرتا، لیکن حکومت کی ذمہ داریاں اور فرائض بھی ہوتے ہیں۔

فضل اللہ نے کہا کہ ہم حکومت اور اس کے فیصلوں کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ اقتدار میں موجود بعض لوگ امریکی سرپرستی میں ہیں اور اس کے مطالبات پورے کر رہے ہیں۔ یہ بیرونی سرپرستی عدلیہ، سلامتی، مالیاتی پالیسی، معاشی اقدامات اور تقرریوں تک میں مداخلت کرتی ہے۔ جب ہم ان لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں سفیر نے دباؤ ڈالا اور فلاں شخص نے بیرون ملک سے فون کیا؛ ہم اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اصولوں کے معاملے میں کوئی پسپائی نہیں ہوگی اور مقاومت کے معاملے میں اس کی طاقت کے کسی بھی عنصر کو نشانہ بنانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ اقتدار میں موجود بعض لوگوں سے ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ وہ بیرونی احکامات پر عمل نہ کریں۔ ہم نے انہیں داخلی امن اور ملک کے تحفظ کی حساس صورت حال کے پیش نظر نصیحت کی ہے، کیونکہ ہم اس ملک کے لیے قیمتی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ تاہم امن و امان کی فکر کا مطلب یہ نہیں کہ اسے بعض اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے، کیونکہ کچھ واضح حدود ہیں جن سے تجاوز یا جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

فضل اللہ نے اقتدار میں موجود افراد سے سوال کیا کہ آپ امریکی دباؤ کے تحت ملک کو داخلی محاذ آرائی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہیں؟ اس سے کس کو فائدہ ہوگا؟ کیا ملک میں کشیدگی پیدا کرنے اور لوگوں کو اشتعال دلانے کا کوئی فائدہ ہے؟ آپ داخلی تصادم کے اسباب پیدا کرنے پر کیوں بضد ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دو مارچ کو مقاومت کے خلاف کیے گئے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ جب ایک ٹرک گزر رہا تھا، اسے روک لیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں اسلحہ لے جایا جا رہا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ مقاومت کا اسلحہ لے جانا اور اسے محاذ تک پہنچانا ایک فطری بات ہے۔ ورنہ مقاومت اس دشمن کے خلاف جنگ کیسے کرے گی؟ کیا وہ آلوؤں کی بوریوں سے لڑے گی؟

فضل اللہ نے تبنین اور شہداء کے منبر سے بعض سرکاری اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے حالات اسی طرح برقرار نہیں رہیں گے، طاقت کا توازن بدلے گا اور موجودہ صورت حال ہمیشہ ایسی نہیں رہے گی۔ ہم صبر کر رہے ہیں اور برداشت سے کام لے رہے ہیں، لیکن حالات تبدیل ہوں گے۔ اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ وہ کچھ تحمل سے کام لیں اور کوئی بھی اپنے انجام کو اس طاقت کے انجام سے وابستہ نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اداروں کے درمیان مخصوص اقدامات کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے تاکہ حکومت اور امریکی سفارت خانے کے سامنے اپنی وفاداری ثابت کی جا سکے۔ لیکن ہم ان سے کہتے ہیں کہ اس دوڑ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اور نہ ہی ہمیں یا مقاومت کو نشانہ بنانے سے انہیں کوئی فائدہ پہنچے گا۔ یہ مقاومت ثابت قدم ہے اور برقرار رہے گی، کوئی طاقت ہمیں اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔

فضل اللہ نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے ساتھ بعض اندرونی عناصر بھی افواہیں پھیلانے اور جھوٹی خبریں گھڑنے کے لیے سرگرم ہیں، تاکہ شہداء کی قربانیوں کی روشن تصویر کو مسخ کیا جا سکے۔ تاہم ان تمام گمراہ کن کوششوں سے ہماری قوتِ ارادی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا تعلق خطے میں جاری تبدیلیوں سے ہے۔ ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں، جس میں قربانیوں، درد اور بے گھری کا سامنا ہے۔

بے گھر ہونے والے افراد کے بارے میں فضل اللہ نے کہا کہ حزب اللہ اور امل تحریک کی مشترکہ کمیٹی کے ذریعے ہم حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، خواہ یہ تعمیرِ نو ہو، نقصانات کا ازالہ ہو یا بے گھر افراد کی مدد۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتی۔ اگر وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکتی تو کم از کم ان کی دیکھ بھال تو کرے۔ حزب اللہ جو کچھ کر رہی ہے، وہ ہمارے عوام کے ساتھ اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کا حصہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم حکومت کی جگہ لے رہے ہیں۔

فضل اللہ نے کہا کہ لبنان میں بعض لوگ اس لیے پریشان ہوئے کہ انہیں یقین تھا کہ ہم اپنے عوام کے لیے مقاومت کی ضروریات پوری کرنے اور انہیں ثابت قدم رکھنے کے بنیادی وسائل فراہم نہیں کر سکیں گے۔ لیکن وہ جتنا چاہیں شکوک پیدا کریں، ہم نے اس عملی اقدام کا اعلان کر دیا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ مدد ہر مستحق تک پہنچے گی۔ تاہم شہید کے خون کے ایک قطرے کے مقابلے میں اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اور نہ ہی یہ ہمارے عوام کے اس مضبوط موقف کے برابر ہے کہ وہ تمام خطرات کے باوجود اپنے دیہات واپس جا رہے ہیں اور اسرائیلی جنگی مشین کا سامنا کر رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha