اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی پارلیمان میں وفاداری برائے مزاحمت دھڑے کے سربراہ محمد رعد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر بعض سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات کے بیانات اور پیغامات مسلسل سامنے آرہے ہیں، جن میں صیہونی دشمن سے براہِ راست مذاکرات اور اس کی شرائط و احکامات تسلیم کرنے کی حمایت کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان شرائط کا مقصد قومی خودمختاری سلب کرنا، لبنان پر قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنا اور ملک کی طاقت کو قابض ریاست کے اہداف اور پالیسیوں کی خدمت میں لگانا ہے۔ ان اقدامات کو ’’استحکام کے لیے فکرمندی‘‘ اور ’’مخصوص مقصد کے تحت اسلحے کو ریاست کے اختیار میں دینے‘‘ جیسے خوش نما نعروں کے پیچھے چھپایا جارہا ہے، حالانکہ قابض ریاست نے اسے اپنی شرط قرار دیا ہے۔
محمد رعد نے مزید کہا کہ بعض لوگ اپنے بیانات اور پیغامات میں مزاحمت کی توہین کرتے ہیں، حالانکہ مزاحمت وطن کا شرف ہے۔ وہ مزاحمت کے کردار کو کمزور کرنے، اس کی قومی کامیابیوں سے انکار کرنے، اس کی قانونی حیثیت اور ضرورت پر سوال اٹھانے اور اس کے افراد و حامیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ان کے مطابق، یہ اقدامات امریکی احکامات کی پیروی میں کیے جارہے ہیں، جبکہ امریکہ نسل پرست صیہونی ریاست، اس کے شراکت داروں اور انسانیت کے خلاف جرائم و دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے ان بیانات اور انتشار انگیز پیغامات پھیلانے والوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ مزاحمت لبنان کے قومی دفاع کا ایک ناگزیر اور جائز راستہ ہے۔ مزاحمت کو بدنام کرنے اور اس کی توہین کرنے کی کوشش ایک قومی اور اخلاقی جرم ہے، جس کی بیرونِ ملک سے صیہونی اثر و رسوخ کے ذریعے رہنمائی کی جارہی ہے۔
محمد رعد نے کہا کہ بیرونی قوتیں لبنان اور لبنانی عوام پر دباؤ ڈال رہی ہیں تاکہ انہیں صیہونی دشمن، اس کے حامیوں اور نمائندوں کی آغوش میں دھکیل دیا جائے۔ یہ دباؤ انہیں دانستہ طور پر لبنانی آئین اور قوانین کی خلاف ورزی پر آمادہ کررہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان قوتوں کی کوشش ہے کہ لبنان کو قابض ریاست کے سامنے مکمل طور پر جھکنے، اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور قومی خودمختاری کو پوری طرح ختم کرنے کے منصوبوں کا تابع بنایا جائے، تاکہ لبنان اور پورے خطے کے خلاف صیہونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھایا جاسکے۔
محمد رعد نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ مزاحمت کی قانونی حیثیت تمام قانونی حیثیتوں کی بنیاد ہے۔ مزاحمت کے حق سے انکار دراصل زندگی کے حق پر حملہ ہے، جبکہ اس بنیادی حق کو تسلیم کیے بغیر اس کی جزئیات پر بحث کرنا وطن اور شہریوں کے حقوق کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
آپ کا تبصرہ